پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں!
یہ جو تصویریں آپ کے سامنے ہیں، یہ محض کاغذ کے ٹکڑے یا پکسلز کا مجموعہ نہیں ہیں۔ یہ وہ زخم ہیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کے مح پر سیاہی بن کر رہیں گے۔ جب میں نے ان مناظر کو دیکھا، وہ ملبے پر سجا طویل دسترخوان، وہ آسمان کی طرف اڑتے ہوئے معصوم وجود، وہ نیلا گنبد جو سجدہ گاہ سے اب ایک نوحہ بن چکا ہے، اور وہ چھوٹے معصوم بچے جن کی آنکھوں میں پورے غزہ کا دکھ سمٹ آیا ہے، تو میرا قلم لرز اٹھا۔
یہ افسانہ، جس کا نام میں نے "سحری کا قرض" رکھا ہے، یہ 2025 کا و رمضان تھا جو غذا کے لوگوں پر ایک آزمائش بن کر ٹوٹا، یہ میری ان جذباتی کیفیات کا نچوڑ ہے جو ان تصویروں کو دیکھ کر مجھ پر طاری ہوئیں۔ میں نے چاہا کہ ان خاموش تصویروں کو زبان دوں، ان بچوں کی سسکیوں کو لفظوں میں ڈھالوں جو بھوکے پیٹ سحری کرتے ہیں اور ان ماؤں کے حوصلے کو بیان کروں جو اپنے لختِ جگر کو سفید کفن میں لپیٹ کر بھی "الحمدللہ" کہتی ہیں۔
یہ تحریر ایک دستاویزی احساس ہے۔ یہ اس سحری کا ذکر ہے جہاں کھانے کے نام پر چند سوکھی روٹی کے ٹکڑے جس کو پانی میں بھگو کر کھا لیتے، اور اس افطار کا بیان ہے جہاں کھجور سے پہلے شہادت کا جام پیا گیا۔ میرا مقصد صرف ایک کہانی لکھنا نہیں، بلکہ آپ کو ان تباہ شدہ گلیوں میں لے جانا ہے جہاں بارود کی بو کے پیچھے جنت کی خوشبو آتی ہے۔ یہ ان لوگوں کا قصہ ہے جنہیں دنیا نے تنہا چھوڑ دیا، مگر جن کا رب ان کے ساتھ ملبے کے ڈھیر پر بھی موجود رہا۔
"غزہ کی ان خاک آلود گلیوں میں بھوک اب پیٹ کا مسئلہ نہیں رہی، یہ تو ایک تسبیح بن چکی ہے جو فاقوں کے دانوں پر اللہ کی رضا کا ورد کرتی ہے۔"
"آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ ملبے کے ڈھیر سے اٹھی ہوئی ننھی انگلیاں جب آسمان کی طرف اٹھتی ہیں، تو عرشِ بریں کے ستارے بھی جگمگانے لگتے ہیں؟ یہ ان بچوں کا قصہ ہے جن کا بچپن بارود نے نگل لیا، مگر جن کی مسکراہٹ نے موت کو بھی شرما دیا۔"
آئیے، میرے ان الفاظ کے ساتھ غزہ کے اس رمضان میں داخل ہوں، جہاں ہر سجدہ آخری ہو سکتا ہے اور ہر دعا عرش کو ہلا دینے کی طاقت رکھتی ہے۔
.jpg)