انسان بظاہر کتنا ہی مضبوط کیوں نہ دکھائی دے، حقیقت یہ ہے کہ اس کا دل نازک اور نہایت حساس ہوتا ہے۔ وہ دنیا کے سامنے ثابت قدم رہ سکتا ہے، مگر اس کے سینے میں دھڑکنے والا دل امیدوں، جدائیوں، آزمائشوں اور بے وفائیوں کے بوجھ سے تھک جاتا ہے۔ کبھی لوگوں سے وابستہ توقعات اسے کمزور کر دیتی ہیں، کبھی دھوکے اس کی دنیا ویران کر دیتے ہیں، اور کبھی دنیاوی مصائب اس کی طاقت کو ماند کر دیتے ہیں۔
دل ہی وہ مقام ہے جہاں محبت جنم لیتی ہے، اخلاص پروان چڑھتا ہے، امیدوں کی بستیاں بنتی ہیں، اور یہی دل دکھ، محرومی اور حسرت کے زخم بھی اپنے اندر سموئے رکھتا ہے۔ انسان بعض احساسات کا اظہار کردیتا ہے، مگر بہت سے غم خاموشی سے اپنے سینے میں دفن کیے رکھتا ہے۔ یہی پوشیدہ دُکھ اگر اللہ کی طرف رجوع سے سکون نہ پائیں تو رفتہ رفتہ دل کو زخمی کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ زخم انسان کے سکون، اس کی شخصیت اور بعض اوقات اس کے ایمان تک کو متاثر کرتے ہیں، پھر اِس کے خاتمے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی لیے مؤمن کو چاہیے کہ وہ اپنی امیدوں کا مرکز مخلوق کو نہ بنائے، بلکہ انہیں اپنے خالق سے وابستہ کرے۔ کیونکہ انسان اپنی فطرت میں کمزور اور اکثر ناشکرا ہے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت "اسلام" تک کی قدر نہیں کرتا، پھر اس سے محبت، اخلاص، وفاداری اور دوستی جیسی نعمتوں کی قدر کی کیسے توقع کی جا سکتی ہے؟ البتہ دنیا میں ایسے قدردان لوگ بھی موجود ہیں جو چھوٹی سے چھوٹی نعمت، ہر رشتے اور ہر تعلق کی قدر کرنا جانتے ہیں، مگر ہر شخص ایسا نہیں ہوتا۔
اس لیے اپنے دل کو خالص اللہ تعالیٰ سے وابستہ رکھو، قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دلوں کا حقیقی سکون دنیا کے تعلقات یا لوگوں کی محبت میں نہیں، بلکہ اللہ کے ذکر میں ہے۔
اَﻻَ ﺑِﺬِﻛﺮِ اﻟﻠﱣﮧِ ﺗَﻄْﻤَﺌِﻦﱠ اﻟﻘُﻠُﻮبُ (سورۃ الرعد: ۲۸)
"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔"
اپنے رب کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط بناؤ۔ اور اگر کسی سے محبت کرو تو اللہ کی رضا کے لیے اور اگر کسی سے بغض رکھنا ہی پڑے تو وہ بھی اللہ کی خاطر ہو، نہ کہ اپنی خواہشِ نفس یا کسی مفاد کی بنا پر۔ دل محض گوشت کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم امانت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔" (سورۃ التوبہ: ۱۱۱)
جب انسان خود اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر چکا ہے، تو اس کے دل پر بھی سب سے پہلا حق اسی رب کا ہے۔ لہٰذا اس امانت کو ایسے تعلقات کی نذر نہ کیا جائے جو اللہ سے دور کر دیں، یا ایسے لوگوں کے سپرد نہ کیا جائے جو اس کی قدر نہ جانتے ہوں۔ اسے غلط لوگوں سے وابستہ کر کے زخمی کرنا، یا اس کے ساتھ کھیلنا ہماری امانت داری کے خلاف ہے۔
اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر، اس پر توکل اور اُس کی رضا سے آباد رکھو، پھر اگر کوئی شخص اس کی قدر نہ بھی کرے تب بھی انسان کبھی مایوس یا تنہا نہیں ہوتا، کیونکہ جس کا رب اُس کے ساتھ ہو اُسے کسی بھی سہارے کی ضرورت نہیں رہتی، اس کی امیدیں کسی اور سے وابستہ ہو ہی نہیں سکتیں۔