حقوق العباد کی خاموش پامالی: ایک معاشرتی و اخلاقی المیہ
راشدامین
دینِ اسلام محض چند مخصوص رسومات یا انفرادی عبادات کے مجموعے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک نہایت جامع، متوازن اور ہمہ گیر ضابطہ حیات ہے جو ”حقوق اللہ“ اور ”حقوق العباد“ کے حسین امتزاج سے عبارت ہے۔ خالقِ کائنات کے حضور سجدہ ریزی جتنی اہمیت کی حامل ہے، اس کی مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک، ہمدردی اور عدل و انصاف بھی اسی قدر لازم ہے۔ مگر عصرِ حاضر کا ایک عظیم اور خاموش المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین کے وسیع تر مفہوم کو سکیڑ کر اسے محض ظاہری عبادات تک محدود کر دیا ہے۔ مساجد نمازیوں سے بھری ہیں، نفلی حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے، اور تسبیحات کی گونج ہر سو سنائی دیتی ہے، مگر معاشرتی سطح پر اخلاقی دیوالیہ پن، رشتوں کی پامالی اور معاملات کی خرابی ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عبادات کا اہتمام توکسی حد تک ذوق و شوق سے کیا جاتا ہے، لیکن لین دین اور انسانی حقوق کی ادائیگی میں جو مجرمانہ غفلت برتی جا رہی ہے، اسے بجا طور پر ”حقوق العباد کی خاموش پامالی“ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ پامالی 'خاموش' اس لیے ہے کہ معاشرے میں اسے گناہ تصور کرنے کا احساس ہی ہمارے قلوب سے محو ہو چکا ہے۔
قرآن و سنت کا عمیق مطالعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اسلام نے بندوں کے حقوق کو کس قدر اہمیت دی ہے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حقوق اللہ کی بنیاد ”مسامحہ“ یعنی درگزر اور معافی پر ہے، جبکہ حقوق العباد کی بنیاد ”مشاحہ“ یعنی سختی اور حساب کتاب پر رکھی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو شرک کے علاوہ ہر گناہ اپنی رحمت سے معاف فرما سکتا ہے، لیکن بندے کا حق اس وقت تک معاف نہیں ہوگا جب تک وہ حق دار خود معاف نہ کر دے۔ قرآنِ مجید میں جہاں بھی نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا، عموماً اس کے متصل زکوٰۃ و صدقات کا تذکرہ موجود ہے۔ سورۃ النساء (آیت ۳۶) میں ارشادِ ربانی ہے: ”اور اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، اور قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، رشتہ دار پڑوسی، اجنبی پڑوسی، پہلو کے ساتھی، مسافر اور جو تمہارے ماتحت ہیں (سب کے ساتھ بھلائی کرو)۔“
اس ضمن میں نبی کریم ﷺ کی وہ چشم کشا حدیثِ مبارکہ ہماری بیداری کے لیے کافی ہے جس میں آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم و دینار نہ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے اور زکوٰۃ کے ساتھ آئے گا، لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ پس اس کی نیکیاں ان حق داروں میں بانٹ دی جائیں گی، یہاں تک کہ اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور لوگوں کے حقوق باقی رہے، تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا (صحیح مسلم)۔“
آج اگر ہم اپنے معاشرے کا بے لاگ تجزیہ کریں تو یہ خاموش پامالی مختلف مکروہ شکلوں میں ہمارے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے۔ اس کی سب سے نمایاں اور قبیح صورت مالی معاملات میں بددیانتی ہے۔ کاروباری لین دین میں جھوٹ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی اور دھوکہ دہی کو ہنر اور کاروباری حکمتِ عملی سمجھ لیا گیا ہے۔ وراثت کے باب میں بالخصوص خواتین (بہنوں اور بیٹیوں) کو ان کے شرعی حق سے محروم کرنا ایک ایسا سنگین جرم ہے جسے جائیداد تقسیم نہ ہونے اور خاندانی رسم و رواج کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، حالانکہ قرآنِ پاک نے اسے 'حدود اللہ' قرار دیا ہے۔
دوسری جانب رشتوں کے تقدس کی پامالی اور اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم ہے کہ معمولی رنجشوں پر برسوں کی قطع تعلق معمول بن چکی ہے۔ صلہ رحمی، جس کے بارے میں حدیث میں واضح وعید ہے کہ قاطعِ رحم جنت میں نہیں جائے گا، اسے ہم نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ محافل میں غیبت، چغلی، تمسخر اور کسی کی عزت اچھالنا آج ہماری تفریح کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ اسی طرح کمزوروں، ماتحتوں اور مزدوروں کا استحصال عروج پر ہے۔ محسنِ انسانیت ﷺ کا واضح فرمان ہے کہ ”مزدور کا پسینہ سوکھنے سے قبل اس کی اجرت ادا کر دو“، مگر آج کے مادی دور میں گھریلو ملازمین سے لے کر فیکٹری ورکرز تک، ماتحتوں سے ان کی استطاعت سے بڑھ کر بیگار تو لی جاتی ہے، لیکن ان کا جائز حق دیتے ہوئے حیلے بہانے تراشے جاتے ہیں۔ سماجی سطح پر پڑوسیوں کے حقوق کی خلاف ورزی، سڑک پر ٹریفک قوانین کو توڑنا، اور قطار میں کھڑے لوگوں کا حق غصب کرنا، یہ سب وہ زیادتیاں ہیں جنہیں ہم نے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔
اس سماجی بگاڑ اور اخلاقی زوال کے پسِ پردہ چند بنیادی وجوہات کارفرما ہیں۔ سب سے بڑی وجہ دین کا محدود اور نامکمل فہم ہے۔ ہم نے یہ خام خیالی پال لی ہے کہ شب بیداریوں، تلاوت کی کثرت اور مقدس مقامات کی بار بار زیارت سے ہمارے وہ تمام جرائم دھل جائیں گے جو ہم نے بندگانِ خدا پر ظلم کر کے کمائے ہیں۔ یہ سراسر خود فریبی ہے۔ دوسری اہم وجہ مادیت پرستی اور دولت کی اندھی ہوس ہے، جس نے انسان کو اخلاقی قیود سے آزاد کر دیا ہے۔ معاشرتی مرتبے، اسٹیٹس اور نمود و نمائش کی دوڑ میں حلال و حرام کا امتیاز مٹ چکا ہے۔ تیسرا عنصر تکبر اور بے جا انا پرستی ہے، جس نے انسان کے دل سے عجز، انکساری اور تواضع چھین لی ہے۔ اپنے منصب، ذات پات یا دولت کے زعم میں انسان دوسروں کو حقیر گردانتا ہے، جس کے باعث نہ تو وہ کسی سے حسنِ سلوک کر پاتا ہے اور نہ ہی اپنی زیادتی پر نادم ہو کر معافی مانگنے کا حوصلہ جٹا پاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ آخرت کی جوابدہی اور یومِ حساب کا استحضار دلوں سے رخصت ہو چکا ہے۔
اس المیے کے سدباب کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر ٹھوس، عملی اور فکری اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں عبادات کی اصل روح اور مقاصد کو سمجھنا اور ان کا احیاء کرنا ہوگا۔ باری تعالیٰ کو ہمارے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں اگر ہم جھوٹ اور فریب نہ چھوڑیں۔ اگر ہماری نماز ہمیں بے حیائی، منکرات اور ناانصافی سے نہیں روک رہی، اور ہمارا روزہ ہمارے اندر غریبوں کی بھوک کا احساس اور تقویٰ بیدار نہیں کر رہا، تو ہمیں اپنے اعمال کے اخلاص پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
تعلیمی اداروں، مساجد کے منابر اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے معاملات کی درستگی کا شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ فرمانِ نبوی ﷺ کے مطابق بہترین مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ مزید برآں، معاشرے میں ”خود احتسابی“کا کلچر فروغ دینا ہوگا۔ ہر فرد رات کو سونے سے قبل اپنے دن بھر کے رویوں کا محاسبہ کرے کہ آج اس کی ذات سے، اس کے قلم سے یا اس کی زبان سے کسی انسان کو گزند تو نہیں پہنچا۔
اگر زندگی میں کسی کا حق مارا ہے یا کسی کا دل دکھایا ہے، تو اسی دنیا کی عارضی زندگی میں ”تلافیِ مافات“ کا رواج قائم کرنا ہوگا۔ اگر کسی کا مال ناجائز طور پر دبایا ہے تو اسے فی الفور واپس لوٹایا جائے، اور اگر کسی کی عزتِ نفس مجروح کی ہے تو اپنی جھوٹی انا کو کچل کر اس سے معذرت کر لی جائے، قبل اس کے کہ وہ دن آ جائے جب حساب چکانے کے لیے درہم و دینار نہیں بلکہ اعمالِ صالحہ کی کرنسی استعمال ہوگی۔
الغرض یہ کہ اسلام محض عقائد کے مجموعے کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور انسان دوست اخلاقی نظام کا علمبردار ہے۔ اللہ رب العزت اپنے حقوق کی ادائیگی میں ہونے والی کوتاہیوں پر تو شاید درگزر فرما دے، لیکن بندوں کے حقوق کی پامالی پر اس کی بارگاہِ عدل میں کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔ لہٰذا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ظاہری دینداری کے خول سے باہر نکل کر معاملات کی پاکیزگی اور اخلاقِ حسنہ کو اپنائیں، بندوں کے حقوق ادا کریں اور انسانیت کی قدر کریں، تاکہ دنیا کا معاشرہ بھی امن کا گہوارہ بنے اور آخرت کی ابدی رسوائی سے بھی محفوظ رہا جا سکے۔