ڈیجیٹل انقلاب کی داستان: 2 جی کے کچھوے سے 5 جی اور مصنوعی ذہانت کے سیلاب تک از راشد امین

 

انسانی تاریخ نے پہیہ، آگ اور پرنٹنگ پریس جیسی کئی عظیم ایجادات دیکھی ہیں، لیکن پچھلی چند دہائیوں میں ڈیجیٹل دنیا نے جس خاموشی اور تیزی سے ہماری زندگیوں پر غلبہ پایا ہے، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ آج جب ہم 5جی کی تیز ترین لہروں پر سوار ہو کر مصنوعی ذہانت سے گفتگو کر رہے ہیں، تو ذرا مڑ کر دیکھنا ضروری ہے کہ یہ سفر شروع کہاں سے ہوا تھا اور اس نے ہمارے سوچنے، سمجھنے اور جینے کا انداز کیسے بدل دیا۔
عالمی سطح پر انٹرنیٹ کا بیج ساٹھ کی دہائی میں بویا گیا، لیکن ہندوستان میں اس پراسرار 'جادو' کا باقاعدہ نزول 15 اگست 1995 کو ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب انٹرنیٹ ایک انتہائی نایاب اور مہنگی چیز تھی۔ عام آدمی کے پاس نہ تو کمپیوٹر تھے اور نہ ہی انٹرنیٹ کے تصور سے کوئی خاص شناسائی۔ اس کا استعمال صرف چند مخصوص سرکاری دفاتر، یونیورسٹیوں کی لیبارٹریوں یا ان معدودے چند افراد تک محدود تھا جن کا ٹیکنالوجی سے گہرا تعلق تھا۔ تب انٹرنیٹ ایک 'لگژری' سمجھا جاتا تھا، ضرورت نہیں۔
پھر موبائل فونز کا دور آیا اور 90 کی دہائی کے اواخر سے لے کر 2000 کی دہائی کے اوائل تک 2 جی کی سست رو لہروں نے عام آدمی کی زندگی میں دستک دی۔ یہ وہ وقت تھا جسے ہم بجا طور پر "صبر و استقامت کی ٹریننگ" کا دور کہہ سکتے ہیں۔ ٹو جی پر اگر کوئی تصویر ڈاؤنلوڈ کرنی ہوتی، تو تصویر پکسل در پکسل، لائن در لائن یوں سکرین پر نمودار ہوتی جیسے کوئی مصور آرام سے کینوس پر پینٹنگ کر رہا ہو۔ تصویر کا آدھا حصہ ڈاؤنلوڈ ہونے تک انسان چائے کا کپ پی کر اور دو چار دوستوں کا حال احوال پوچھ کر واپس آ سکتا تھا۔
اس کے بعد سال 2008 سے 2010 کے درمیانی عرصے میں 3جی نے قدم رکھا۔ رفتار کچھ بہتر ہوئی، لیکن قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی تھیں۔ اس دور کا سب سے بڑا مزاحیہ مگر تلخ سچ یہ تھا کہ متوسط طبقے کا نوجوان 1 جی بی ڈیٹا کا ماہانہ پیکج اس احتیاط سے استعمال کرتا تھا جیسے جنگ کے دنوں میں راشن استعمال کیا جاتا ہو۔ انٹرنیٹ موبائل سیٹنگز سے صرف اسی وقت 'آن' کیا جاتا جب کوئی انتہائی ضروری میسج بھیجنا یا پڑھنا ہو، اور پھر فوراً بند کر دیا جاتا تاکہ کہیں 'ایم بی' اُڑ نہ جائیں۔ لیکن اس دور کی ایک خوبی یہ تھی کہ معلومات تک رسائی سست اور محدود ضرور تھی، مگر معیاری تھی۔ انسان جو پڑھتا تھا، پوری توجہ سے پڑھتا تھا۔
پھر ہندوستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں 4 جی کی آہٹ سنائی دی، جس کا ابتدائی آغاز تو سال 2012 میں ہو چکا تھا، لیکن سال 2016 میں اس کا وہ طوفان آیا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ مفت اور انتہائی سستے ڈیٹا کی فراہمی نے راتوں رات ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس کا تصور بھی محال تھا۔ یہ وہ تاریخی موڑ تھا جب انٹرنیٹ صرف 'ایلیٹ' طبقے یا دفاتر تک محدود نہ رہا۔ اب ریڑھی بان، کسان، مزدور اور دور دراز گاؤں کا طالب علم سب کے ہاتھ میں سمارٹ فون تھا اور پوری دنیا ان کی مٹھی میں۔
آج ہم فائیو جی کے اس دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں پلک جھپکتے ہی 'جی بی' کا ڈیٹا منتقل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت نے ایک نیا باب کھولا ہے۔ یہ تسلیم کرنا ناگزیر ہے کہ اے آئی اور تیز ترین انٹرنیٹ نے ہماری زندگی، بالخصوص تحقیقی، علمی اور کاروباری کاموں میں بے پناہ سہولت پیدا کر دی ہے۔ وہ تحقیقی کام، مسودات کی تیاری یا پیچیدہ ڈیزائننگ کے مراحل جو پہلے مہینوں کی ورق گردانی اور مشقت کے بعد مکمل ہوتے تھے، اب گھنٹوں بلکہ منٹوں میں سمٹ آئے ہیں۔ محققین، مصنفین اور طلبہ کے لیے یہ ایک ایسا جادوئی چشمہ ہے جہاں سے معلومات اور حوالہ جات کا بے پناہ خزانہ ایک کلک پر دستیاب ہے۔ اس نے تعلیم اور روزمرہ کے امور میں جو انقلاب برپا کیا ہے، وہ انسانیت کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔
لیکن ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں۔ اس بے پناہ سہولت نے جہاں علم و ترقی کی راہیں کھولیں، وہیں معاشرے کو کئی سنگین برائیوں اور اخلاقی چیلنجز سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ تیز ترین انٹرنیٹ کی بدولت جہاں نیکی اور علم کا حصول آسان ہوا، وہیں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ”گناہ کا حصول بھی سہل الوصول ہو گیا ہے“۔ مثال کے طور پر، تنہائی میں بیٹھے کسی شخص کے دل میں محض ایک لمحے کے لیے کوئی فلم دیکھنے، وقت ضائع کرنے یا کوئی غیر اخلاقی مواد دیکھنے کا خیال آتا ہے، تو فائیو جی کی رفتار اسے سوچنے، سنبھلنے یا ارادہ بدلنے کا موقع دیے بغیر فوراً وہ مواد اسکرین پر پیش کر دیتی ہے۔ ماضی میں کسی برائی تک پہنچنے کے لیے جو وقت اور محنت درکار ہوتی تھی، وہ انسان کے لیے ایک فطری رکاوٹ کا کام کرتی تھی، مگر آج وہ رکاوٹ ختم ہو چکی ہے۔
اس کے علاوہ، جب ہمیں ہر سوال کا پکا پکایا جواب اے آئی سے سیکنڈوں میں مل جائے، تو اس نے ہماری اپنی سوچنے سمجھنے کی زحمت کو کم کر دیا ہے۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے شاید اسی مشینی غلبے اور انسانی احساس کی موت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے برسوں پہلے کہہ دیا تھا:
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات
آج کل سائبر کرائمز اور آن لائن فراڈ کے واقعات عام ہو چکے ہیں۔ سستے انٹرنیٹ نے جرائم پیشہ افراد کو گھر بیٹھے معصوم لوگوں کو لوٹنے کا موقع دے دیا ہے۔ اسکرین ٹائم میں اضافے نے معاشرے میں بے خوابی، ڈپریشن اور عدم برداشت کو فروغ دیا ہے۔ ہم دنیا بھر کے لوگوں سے تو جڑ گئے ہیں، لیکن ساتھ بیٹھے ہوئے خاندانی افراد سے کوسوں دور ہو چکے ہیں۔
ان مسائل کی نشاندہی کے بعد، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ڈیجیٹل سیلاب سے بچاؤ کی صورت کیا ہے؟ چونکہ ہم اس ٹیکنالوجی کو ترک نہیں کر سکتے، اس لیے ہمیں چند عملی اقدامات اپنانے ہوں گے:
• ذاتی اور اخلاقی احتساب : چونکہ برائی اب صرف ایک کلک کے فاصلے پر ہے، اس لیے بیرونی پابندیوں سے زیادہ اندرونی خوفِ خدا اور مضبوط اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے۔ خود کو اور نسلِ نو کو یہ سکھانا ہوگا کہ تنہائی میں اور تیز ترین انٹرنیٹ کی موجودگی میں بھی صحیح اور غلط کا انتخاب کیسے کرنا ہے۔
• اے آئی کا بطور 'خادم' استعمال: مصنوعی ذہانت کو ایک 'معاون' کے طور پر استعمال کیا جائے۔ مواد کا خاکہ، تحقیق یا معلومات اے آئی سے ضرور لی جائیں، لیکن اس تحریر یا کام میں روح، گہرائی اور حتمی شکل انسان کی اپنی محنت اور دلی عنایت کا نتیجہ ہونی چاہیے۔
• ڈیجیٹل اعتدال : ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمیں اسکرین کو کتنا وقت دینا ہے۔ کام کے اوقات کے بعد فون سے دوری اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
• لمحہِ موجود میں جینا: خیالی دنیا کی چکاچوند سے نکل کر محفلوں اور خاندانی تقریبات میں فون کو جیب میں رکھنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ تصویر کشی اور ڈیجیٹل دکھاوے کے بجائے، اپنے پیاروں کے ساتھ لمحہِ موجود کو جینا ہی اس ڈیجیٹل تنہائی کا سب سے بڑا علاج ہے۔
بطور ایک طالب علم اور اس معاشرے کے ایک فرد کے، جب میں اس پورے سفر کو دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے بہت کچھ پانے کی دوڑ میں اپنا 'سکون' کہیں کھو دیا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ ٹو جی کے دور میں تصویر ڈاؤنلوڈ ہونے کا انتظار ہمیں صبر سکھاتا تھا، آج کی رفتار نے ہمیں بے صبر بنا دیا ہے۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری، یہ ایک بہترین خادم ہے لیکن ایک بدترین آقا۔ انقلاب آ چکا ہے، بس اب ہمیں اس سیلاب میں تیرنا اور اپنا سفینہ بچانا سیکھنا ہے، مبادا ہم اپنی انسانیت، اخلاقیات اور تخلیقی صلاحیتوں سمیت اس میں ڈوب جائیں۔

Post a Comment

Previous Next

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال