قوام از ی م اور لبنی حنیف

     اس کتاب میں دو مختلف مصنفات کی تحریریں شامل ہیں۔ کتاب میں دو مختصر کہانیاں "قوام" اور "ظل سراب" جبکہ دو افسانے "مشتاق منزل" اور "میں اُمِ ہانی ہوں" شامل ہیں۔ "قوام"، "مشتاق منزل" اور "میں اُمِ ہانی ہوں" کی مصنفہ ی م ہیں، جبکہ "ظل سراب" کی مصنفہ لبنیٰ حنیف ہیں۔ دونوں مصنفات کے اندازِ تحریر سے ان کے پختہ اندازِ نگارش کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی زبان سادہ، رواں اور دل میں اتر جانے والی ہے، جس کی وجہ سے قاری نہ صرف کہانی کے ساتھ جڑ جاتا ہے بلکہ کرداروں کے جذبات کو بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔

                    اگر ان چاروں تحریروں میں سے تین تحریروں کا مرکزی پیغام ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ خودکشی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ انسان دنیاوی آزمائشوں اور تکالیف سے فرار کے لیے بعض اوقات خودکشی جیسے حرام راستے کی طرف مائل ہو جاتا ہے، لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وقتی تکلیف سے بچنے کے لیے اختیار کیا گیا یہ راستہ آخرت کی دائمی اور کہیں زیادہ سخت تکالیف کا سبب بن سکتا ہے۔

                    کتاب کی پہلی کہانی "قوام" کا عنوان قرآن کریم میں مذکور لفظ "قوام" کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کا معنی ذمہ دار، محافظ اور کفیل ہونا ہے۔ لیکن بعض مردوں نے اس لفظ کے معنی و مفہوم کو غلط سمجھ کر خود کو محافظ اور کفیل کے بجائے حاکم سمجھ لیا۔ مصنفہ نے بڑی خوبصورتی سے اس غلط فہمی کو موضوع بنایا ہے کہ جب مرد "قوام" کے قرآنی تصور کو ذمہ داری کے بجائے اقتدار اور برتری کا پروانہ سمجھ لیتا ہے تو گھر محبت اور سکون کا گہوارہ بننے کے بجائے ذہنی اذیت کا مرکز بن جاتا ہے۔

                    کتاب کی ہر کہانی اور ہر افسانہ اپنے اندر ایک مضبوط پیغام رکھتا ہے اور ہمارے معاشرے کے ان تلخ حقائق کو بے نقاب کرتا ہے جنہیں ہم اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ "ظل سراب" ہمیں سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر لوگوں کے بارے میں رائے قائم کرنے کے نقصان سے آگاہ کرتی ہے، جبکہ "میں اُمِ ہانی ہوں" اس معاشرتی رویے پر سوال اٹھاتی ہے، جہاں کسی کی جسمانی ساخت، رنگت یا ظاہری شکل کو مذاق کا نشانہ بنانا معمول سمجھ لیا گیا ہے۔

                        مصنفات نے محض کہانیاں نہیں لکھیں بلکہ معاشرے کے ان زخموں پر قلم رکھا ہے جنہیں ہم دیکھ کر بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب ختم ہونے کے بعد بھی اس کے سوالات اور اس کے پیغامات دیر تک قاری کے ذہن میں گونجتے رہتے ہیں۔ یہ کتاب پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ دونوں مصنفات کے پاس صرف کہانی سنانے کا ہنر ہی نہیں بلکہ قاری کو سوچنے پر مجبور کر دینے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔

کتاب خریدنے کے لیے یہاں کلک کریں!

Post a Comment

Previous Next

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال