تکمیلِ آرزو اور اعترافِ تشکر: ایک ناقابلِ فراموش علمی شام


ہر حمد و ثنا اس خالقِ کائنات کے لیے ہے جس کے فضل و کرم کے بغیر انسان کی کوئی بھی ادنیٰ سی کاوش پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتی۔ ایک طویل علمی سفر، فکری جستجو اور شب و روز کی محنت کے بعد بالآخر میری تصنیف ’’اسلاموفوبیا: نفرت کا بیانیہ اور حکمت کا پیغام‘‘ زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آچکی ہے۔ یہ محض اللہ رب العزت کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے اس حساس اور اہم موضوع پر مجھے قلم اٹھانے اور اسے بحسن و خوبی مکمل کرنے کی توفیق بخشی، جس پر میں اس کی بارگاہِ صمدیت میں سراپا سپاس ہوں۔
کوئی بھی قلم کار اپنی منزل تک تنہا نہیں پہنچ سکتا۔ اس طویل اور کٹھن سفر میں مجھے جن مخلصین کی دعائیں، تعاون اور رہنمائی میسر رہی، میں ان سب کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ میرے اساتذہِ کرام، جن کی علمی و فکری تربیت نے مجھے سوچنے اور لکھنے کا سلیقہ بخشا، میرے برادران اور وہ تمام مخلص دوست جو ہر قدم پر میری ہمت افزائی کرتے رہے، ان سب کا شکریہ ادا کرنا میں اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتا ہوں۔ ان تمام احباب کی بے لوث محبتوں ہی کا ثمرہ ہے کہ آج یہ کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
کتاب کی اشاعت کے بعد سب سے مسرت بخش لمحہ وہ تھا جب گزشتہ روز اس کے اولین مطبوعہ نسخے علم و ادب کی زرخیز سرزمین ’دیوبند‘ پہنچے۔ لیکن میری حیرت اور خوشی کی اس وقت کوئی انتہا نہ رہی جب کتاب کے پہنچنے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر، اسی شام اس کی تقریبِ رونمائی بھی انتہائی شاندار اور پروقار انداز میں منعقد ہو گئی۔ اتنی عجلت میں اور اتنے خوبصورت پیرائے میں کتاب کا تعارف علمی شخصیات کے سامنے پیش ہو جانا، میرے لیے کسی غیر متوقع اور حسین تحفے سے کم نہیں تھا۔
اس بابرکت اور یادگار تقریب کے انعقاد میں جن مخلص احباب نے کلیدی کردار ادا کیا، ان میں مولانا محمود الرحمن صاحب القاسمی (ڈائریکٹر خریداری ڈاٹ ان) اور برادرم مولانا عبد الرحمن قاسمی (پروپرائٹر نگارشات بک اسٹور) کے نام سرفہرست ہیں۔ دراصل گزشتہ شب خریداری ڈاٹ اِن کے ’رائٹرز کارنر‘ کے پلیٹ فارم سے محترم مولانا عبدالعلیم الاعظمی صاحب (مصنف: فلسطین اسرائیل جنگ، بل احیاء) کے ساتھ طلبہ کی ایک نشست اور ان کے اعزاز میں ایک شاندار علمی پروگرام کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ محض مولانا عبدالرحمن بھائی کی دور اندیشی، خلوص اور ان کا بروقت مشورہ تھا جس پر انہوں نے محمود بھائی سے گفتگو کرنے کو کہا۔ فوراً محمود بھائی سے بات کی گئی اور انھوں نے نہایت ہی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں عبد الرحمن بھائی سے بات کرکے کتابیں منگوا لیتا ہوں اور پھر ان دونوں احباب کی بھائی چارگی اور محبت کے طفیل اسی پروقار مجلس میں میری کتاب کو بھی شامل کر لیا گیا اور اس کی رسمِ اجرا عمل میں آئی۔ ان دونوں حضرات نے جس خلوص اور محبت کا ثبوت دیا ہے، اس کے لیے میں جتنا بھی شکریہ ادا کروں، وہ کم ہے۔۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس علمی مجلس کے انعقاد پر منتظمین کو بہترین اجر عطا فرمائے، ان کی مساعی کو شرفِ قبولیت بخشے، اور میری اس کتاب کو امتِ مسلمہ بالخصوص علمی و فکری حلقوں کے لیے نافع اور مقبول بنائے۔ آمین۔
طالبِ دعا:
راشد امین
(مصنف و ناشر: قرطاس پبلیکیشنز)

إرسال تعليق

أحدث أقدم

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال