میرا نام منیبہ شہباز ہے، اور یہ کتاب ”ربِ رقیب“ میرے دل کے بہت قریب ہے۔”ربِ رقیب“ کا مطلب ہے: اللہ نگہبان ہے، وہ حفاظت کرنے والا ہے، اور وہی سچا دوست ہے۔
ہم زندگی میں کئی دوست بناتے ہیں، مگر اللہ جیسا کوئی دوست نہیں ہوتا۔ ہر شخص تک بات پہنچانے کے لیے آواز کی ضرورت ہوتی ہے، مگر رب تک نہیں وہ بغیر کہے بھی سن لیتا ہے۔ جو الفاظ ہم ادا نہیں کر پاتے، وہ بھی جانتا ہے۔ وہ دل کے چھپے ہر راز سے واقف ہے، لب سے نکلے ہر لفظ کو بھی جانتا ہے، اور اس نظر کو بھی پہچانتا ہے جو ٹوٹ جانے کے بعد صرف آسمان کی طرف اٹھتی ہے۔
الفاظ آپ پر نازل ہوتے ہیں، اور میرا ماننا یہ ہے کہ یہ سب اللہ ہی آپ سے لکھواتا ہے، کیونکہ ہر خیر کا کام اسی کی طرف سے ہوتا ہے۔ یہ تمام الفاظ بھی اسی کی امانت ہیں۔
یہ کتاب میری زندگی کے کئی سالوں کا سفر ہے۔ اس میں میرا بچپن، میرا لڑکپن اور میری جوانی ہے۔ اس میں اشعار، شعر، بند اور مختصر جملے (ون لائنرز) بھی ہیں۔
اس کے بابِ اوّل میں موجود تمام تحریریں میری عمر کے۱۵ سے ۱۹ سال کے درمیان لکھی گئیں، اور ہر گزرتے باب کے ساتھ یہ مزید مختصر ہوتی جاتی ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا ہے، اس کے الفاظ محدود ہوتے جاتے ہیں۔ پہلے جن باتوں کو سمجھنے یا بیان کرنے کے لیے اشعار، غزلیں اور نظمیں لکھی جاتی تھیں، وہ آہستہ آہستہ ایک ہی جملے میں سمٹ جاتی ہیں۔
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن یہ سب شائع کروں گی۔ یہ سب میں نے خود کے لیے لکھا تھا۔ شروع میں کاغذ پر، پھر ڈائری میں، اور پھر موبائل کے نوٹس میں۔
یہ ایک سفرِ حيات ہے۔ میری اللہ سے دعا ہے کہ یہ الفاظ ہر اس شخص تک پہنچیں جسے ان کی ضرورت ہے۔
یہ کتاب میرے رب سے کی گئی باتوں کی نشانی ہے۔ یہ ایک عمر ہے بچپن سے جوانی ہے اس میں سجدہ ہے، احساس ہے، اور قربانی ہے۔ اس میں دعا ہے، چلمن ہے، اور نشانی بھی ہے۔
بابِ اوّل: کعبۂ روح ہے۔
کعبہ اسلام میں عبادت، اتحاد اور قبلہ کی علامت ہے، جبکہ روح انسان کی اندرونی دنیا، دل اور احساس کا نام ہے۔دونوں کو ملانے سے مطلب یہ بنتا ہے کہ انسان کے دل اور روح میں ایسی پاکیزگی اور کیفیت پیدا ہو جائے کہ وہ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہو جائیں۔دل کا قبلہ درست ہو جائے روح کو اللہ کی محبت میں سکون مل جائے اندر کا وجود عبادت اور نور سے بھر جائے۔”کعبۂ روح“ کا مطلب ہے وہ دل یا روحانی حالت جہاں انسان اللہ کے قریب ترین محسوس کرتا ہے اور اسے اندرونی سکون ملتا ہے
بابِ ثانی بابِ ثالث یعنی سجدۂ احساس اور چلمنِ دعا کیونکہ ہر سجدہ اپنے اندر ایک کہانی رکھتا ہے، ایک احساس لیے ہوتا ہے۔ کچھ سجدے درد کے ہوتے ہیں اور کچھ شکر کے، مگر اصل بات ہمیشہ توفیق کی ہوتی ہے۔ انسان کو بس سجدہ کرنا چاہیے کیونکہ دنیا جنت نہیں کہ ہر لمحہ خوشی اور سکون دے۔
یہ سب اللہ کے فیصلے ہیں۔ وہ کبھی کسی کو دکھ دے کر اپنے قریب کرتا ہے اور کبھی کسی کو خوشی دے کر۔ ہر دعا کے اندر بھی ایک پردہ ہوتا ہے ایک پردہ جو ہم انسانوں سے کرتے ہیں، اور ایک پردہ جو ہم رب سے کرتے ہیں۔
انسانوں سے پردہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی دعائیں سب کے سامنے ظاہر نہیں کرتے، اور اللہ سے پردہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ہم اس سے بھی کبھی کبھی دبے دبے لفظوں میں بات کرتے ہیں، حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔دعا کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ جب وہ عیان ہوتی ہے تو سب کو حیران کر دیتی ہے۔
میری دعا ہے کہ آپ کو اس کتاب سے صرف خیر ملے، اور اگر آپ کسی سوال یا پریشانی میں ہیں تو اس کے اندر آپ کو اس کا جواب بھی مل جائے۔