علمی اختلاف، اندھی عقیدت اور ہمارا رویہ از راشدامین

 




انسانی ذہنوں کا تنوع اور سوچ کا مختلف ہونا قدرت کا ایک ایسا حسین شاہکار ہے جو معاشرے میں فکری ارتقاء کا ضامن ہے۔ جہاں دو باشعور انسان ہوں گے، وہاں آراء کا ٹکراؤ اور فہم کا اختلاف ایک ناگزیر اور فطری امر ہے۔ اس کائناتی حقیقت کو مفتی اعظم پاکستان، مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ ’وحدتِ امت‘ میں انتہائی دو ٹوک اور حکیمانہ انداز میں بیان فرمایا ہے:
”اگر کسی کے دل میں یہ خواہش ہو کہ نظریات کے اختلاف مٹ جائیں تو یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ نظریاتی اختلاف کا مٹ جانا دو ہی صورتوں میں ممکن ہے۔ یا تو سب بے عقل ہو جائیں یا بددیانت۔“
اس قول سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اختلافِ رائے بگاڑ نہیں، بلکہ زندہ اور متحرک معاشروں کی علامت ہے۔ مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ اس اختلاف کا معیار اور اسلوب کیا ہونا چاہیے؟
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو اسلاف کے یہاں ہمیں مکالمے کی ایک ایسی دلکش روایت ملتی ہے جو آج کے دور میں کسی طلسماتی داستان سے کم نہیں لگتی۔ درسِ نظامی کی مشہور کتاب ’کافیہ‘ میں غیر منصرف کی بحث کے تحت حاشیہ میں یہ اشعار منقول ہیں:
أعد ذكر نعمان لنا إن ذكره
هو المسك ما كررته يتضوع
(ہمارے لیے نعمان کا تذکرہ دہرائیے، کیونکہ اس کا ذکر ایسا کستوری ہے کہ آپ جتنا دہرائیں گے، اتنی ہی خوشبو پھیلائے گی)
اس کے پیچھے ایک ایک نہایت ایمان افروز واقعہ درج ہے کہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، جن کا امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اکثر فقہی مسائل میں شدید علمی اختلاف تھا، جب کوفہ تشریف لے جاتے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں سے فرماتے کہ میرے سامنے اپنے استاد کا تذکرہ کرو۔ طلباء حیرت سے پوچھتے کہ حضرت! آپ کا تو امام صاحب سے اکثر مسائل میں اختلاف ہے، پھر بھی آپ ان کا بار بار ذکر سننے کی گزارش کیوں کرتے ہیں؟ تو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخ کے ماتھے پر یہ لازوال اشعار ثبت کر دیے۔
یہ تھا وہ علمی ظرف اور قلبی وسعت، جہاں اختلاف دماغوں اور کتابوں کی حد تک رہتا تھا، جبکہ دل ایک دوسرے کی محبت، احترام اور قدردانی سے لبریز رہتے تھے۔
لیکن جب ہم ماضی کے اس سنہرے دریچے سے نکل کر موجودہ منظر نامے پر نظر ڈالتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ آج اختلافِ رائے، ذاتی عداوت اور انا کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ علمی نکتہ چینی کو گالی اور دلیل کو دشنام طرازی سے بدل دیا گیا ہے۔ بالخصوص جب یہ کام علماء یا مذہبی طبقے کے درمیان ہوتا ہے، تو صورتحال مزید سنگین اور افسوسناک ہو جاتی ہے۔ آج اگر کوئی شخص کسی دوسرے سے علمی اختلاف کرتا ہے، تو دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے ہجوم کی ذہنیت (Mob Mentality) حاوی ہو جاتی ہے۔ جس سے اختلاف کیا جائے، اس کے اندھے عقیدت مند مخالف کی پگڑی اچھالنے کو دین کی سب سے بڑی خدمت سمجھ بیٹھتے ہیں۔
عقیدت اور مخالفت کی اس انتہا پسندی کے حوالے سے استاد محترم مولانا الیاس نعمانی صاحب دورانِ درس اکثر ایک انتہائی چشم کشا اور حقیقت پر مبنی بات فرمایا کرتے ہیں کہ:
”جب ہم کسی کے عقیدت مند ہوتے ہیں تو اسے ہم انسان سمجھتے ہی نہیں اس سے تو ہم فرشتہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس سے کوئی غلطی ہو ہی نہیں سکتی اور جب ہم کسی سے دور ہوتے ہیں تو اسے بھی انسان نہیں سمجھتے اسے شیطان سمجھتے ہیں کہ اس سے تو کوئی اچھی بات صادر ہی نہیں ہو سکتی۔“
افراط و تفریط پر مبنی یہی وہ غیر متوازن رویہ ہے جو علمی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جس شخصیت سے ہم عقیدت رکھتے ہیں، وہ بہرحال ایک انسان ہے اور اس سے علمی چوک ممکن ہے، اور جس سے ہمارا اختلاف ہے، وہ بھی انسان ہے اور اس کی بات میں بھی خیر کا پہلو نکل سکتا ہے۔
اس فکری اور اخلاقی منظر نامے میں ایک ہمدردانہ توجہ ہمارے ان عزیز ”نئے فارغین“ کے رویے کی جانب بھی درکار ہے، جو مدارس اور جامعات سے تازہ تازہ سندِ فراغت لے کر بے پناہ دینی جذبے کے ساتھ میدانِ عمل میں قدم رکھتے ہیں۔ یہ زندگی کا وہ حساس مرحلہ ہوتا ہے جہاں ابھی علم کے سمندر کے کنارے پر قدم رکھا ہوتا ہے اور گہرائی یا کسی خاص فن میں تخصص کے منازل طے کرنا باقی ہوتے ہیں۔ لیکن بسا اوقات یہ پرجوش نوجوان نصابی کتب کی تکمیل کو ہی علم کی آخری منزل سمجھ بیٹھتے ہیں اور سوشل میڈیا کی دنیا میں جذبات کی رو میں بہہ کر جلد بازی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض دفعہ سندِ فراغت کی سیاہی ابھی سوکھی بھی نہیں ہوتی، مگر شدتِ جذبات میں وہ ایسے حتمی فیصلے اور فتوے صادر کر بیٹھتے ہیں گویا دنیا بھر کے علوم پر کامل عبور پا چکے ہوں۔ تجربے کی کمی اور دینی حمیت کی زیادتی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے لہجے سے متانت اور شائستگی رخصت ہو جاتی ہے، اور وہ نادانستہ طور پر تہذیب و اخلاق کی حدوں سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ وہ اس سختی کو پورے خلوصِ نیت کے ساتھ شاید ”جہادِ بالقلم“ سمجھ رہے ہوتے ہیں، حالانکہ یہ راستہ اسلاف کے محتاط طرزِ عمل کے بالکل برعکس ہے۔
تاہم، اس تلخ حقیقت کا ایک اور تاریک پہلو بھی ہے جسے نظر انداز کرنا دیانتداری کے خلاف ہوگا۔ جہاں ہم نئے فارغین کی جذباتی لغزشوں کی اصلاح چاہتے ہیں، وہیں بسا اوقات ہمارے وہ ”پرانے فارغین“ اور تجربہ کار بزرگان بھی اس روش کا شکار نظر آتے ہیں جن کے علم میں گہرائی مسلّم سمجھی جاتی ہے۔ یہ امر انتہائی لرزہ خیز ہوتا ہے جب دہائیوں کا علمی تجربہ رکھنے والے حضرات بھی اختلاف کی صورت میں حدِ اعتدال پار کر جاتے ہیں اور ان کے الفاظ کا انتخاب تکلف اور شائستگی کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔ جب یہ بزرگانِ دین بھی دریدہ دہنی پر اتر آتے ہیں، یا عوامی سطح پر نوجوان فضلاء کے ساتھ الجھتے اور طعنہ زنی کرتے دکھائی دیتے ہیں، تو ان کی تمام تر علمی ہیبت مجروح ہو جاتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انا کی تسکین کا مرض محض عمر اور تجربے کا محتاج نہیں۔
اس پورے المیے کی جڑ دراصل ”تربیت اور تزکیہ کا فقدان“ ہے۔ آج اداروں اور جامعات کے ذمہ داران کی پوری توجہ صرف نصاب مکمل کرانے پر مرکوز ہے۔ وہ جوہرِ خاص، جو کبھی اساتذہ کی صحبت اور خانقاہوں میں برسوں گزارنے سے ملتا تھا، وہ نصاب سے غائب ہو چکا ہے۔ کتابیں پڑھائی تو جا رہی ہیں، لیکن اس علم کو عمل کے سانچے میں کیسے ڈھالنا ہے، اپنے رویوں میں کیسے لانا ہے، یہ سکھانے والا کوئی نہیں۔
تربیت کے اسی فقدان کا ایک اہم ترین اور نظر انداز شدہ پہلو ”ذاتی احتساب“ کی کمی ہے۔ آج ہمارا سارا زور صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ دوسرے کو کیسا ہونا چاہیے، ہم دوسروں کی خامیوں کو خوردبین لگا کر تلاش کرتے ہیں لیکن اپنی ذات کی اصلاح سے غافل رہتے ہیں۔ جب ہم کسی سے اختلاف کرتے ہیں تو ہماری تمام تر توانائیاں مخالف کو غلط ثابت کرنے پر صرف ہو جاتی ہیں، بجائے اس کے کہ ہم اپنی ذات پر غور و فکر کریں۔ اختلاف کرنے سے پہلے اور بعد میں، انسان کو خود احتسابی کے کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہیے کہ کیا میرا اپنا مطالعہ، میرا رویہ اور میری نیت واقعتاً درست ہے؟ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے ہمیں خود کو بہتر بنانے، اپنے علم میں وسعت پیدا کرنے اور اصلاحِ رائے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ ایک سچے طالب علم کی نشانی ہی یہ ہے کہ وہ اپنی خامیوں پر نظر رکھتا ہے اور حق بات سامنے آنے پر اپنی رائے سے رجوع کرنے میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔
ہندوستان کے موجودہ معروضی حالات میں، یہ رویے کسی المیے سے کم نہیں۔ آج کے اس پرفتن دور میں جہاں عام مسلمانوں کا ایمان بچانا، ان کے عقائد کی حفاظت کرنا اور نسلِ نو کو الحاد و گمراہی کی لہروں سے محفوظ رکھنا ایک انتہائی کٹھن مرحلہ بن چکا ہے، وہاں علماء کے کندھوں پر اور بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان نازک حالات کا تقاضا ہے کہ فروعی، جزوی اور فکری اختلافات کی ان لایعنی الجھنوں کو یکسر پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ باہمی دست و گریبان ہونے کے بجائے تمام تر توانائیاں، وسائل اور صلاحیتیں صرف اور صرف”تخلیقی اور تحقیقی کاموں“ پر صرف کی جائیں۔ آج وقت کی سب سے بڑی پکار یہ ہے کہ خود کو کتاب و سنت کی تفہیم، اس کے آفاقی پیغام کی تشہیر و اشاعت، اور حکمت بھری تبلیغ کے لیے وقف کر دیا جائے۔ جب گھر کو آگ لگی ہو تو باشعور مکین آپس کے اختلافات نہیں سلجھاتے، بلکہ مل کر شعلوں کو بجھانے کی فکر کرتے ہیں۔
اپنے عزیز دوستوں، نوجوان فضلاء اور بزرگوں کی خدمت میں آج انتہائی دردمندی سے یہ عرض ہے کہ:
”اے وارثانِ علم! یاد رکھیں کہ جس علم نے ہم کو جھکنا نہیں سکھایا، جس نے ہمارے لہجے میں مٹھاس، برداشت اور سینے میں وسعت پیدا نہیں کی، وہ علم ہمارے لیے فخر کا باعث نہیں، بلکہ روزِ محشر ایک بھاری بوجھ بن جائے گا۔ ہمارے اسلاف کے ہاں علم حاصل کرنے سے پہلے برسوں 'ادب' سیکھا جاتا تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بے ادب کا علم اسے تکبر کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ ہمارے پاس کسی حد تک علم کا نور تو آ گیا ہے، مگر خدارا! اس نور کو اپنے سخت اور کھردرے رویوں کی آندھی سے نہ بجھائیں۔ علم کو ہتھیار بنا کر دوسروں کو زخمی کرنے کے بجائے، اسے مرہم بنا کر دلوں کو جوڑنے کا کام لیں۔“
اختلاف ضرور کیجیے، یہ آپ کا علمی حق ہے، مگر خدارا حدِ ادب کے اندر رہتے ہوئے۔ یاد رکھیے کہ سخت زبانی ہمارے موقف کو مضبوط نہیں کرتی، بلکہ ہماری کمزوری کا اشتہار بن جاتی ہے۔ اگر ہمارے پاس دلائل کی کمی ہے یا موقف کمزور بھی ہے، تب بھی مخاطب کو عزت دینا اور لہجے کو شائستہ رکھنا ہمارے ظرف کا حقیقی امتحان ہے۔اپنے قلم، طرزِ فکر اور زبان کو اس شعر کے آئینے میں ڈھالنے کی کوشش کیجیے، جو صرف ایک شعر نہیں بلکہ علمی مکالمے کا ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے:
بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیمؔ
بات کہنے کا سلیقہ چاہئے

إرسال تعليق

أحدث أقدم

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال