یارِ غار از قلم امات المنعم نعمیٰ

اسلامی تاریخ میں دوستی کی روشن مثال ڈھونڈی جائے تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کا وہ تعلق یاد آتا ہےجس کی وجہ سے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو یار غار کا لقب ملا ۔ یہ دوستی صرف ساتھ چلنے کا نہیں بلکہ ایمان، قربانی اور کامل اعتماد کا رشتہ تھا۔ غارِ ثور کی خاموشی میں جو سکون تھا وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل دوستی شور میں نہیں بلکہ یقین میں ہوتی ہے۔
ایسی دوستی ہر دور میں ممکن ہے یہ ہر زمانے میں زندہ رہ سکتی ہے اگر نیت اللہ کے لیے ہو۔
دوستی دراصل ایک ایسا رشتہ ہے جو انسان کو یا تو اوپر اٹھاتا ہے یا آہستہ آہستہ نیچے لے جاتا ہے۔ خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں ایسا دوست مل جائے جو صرف ہنسی مذاق تک محدود نہ ہو، بلکہ زندگی کے مقصد کی یاد دہانی بھی کراتا ہو۔ وہ دوست جو ماحول کے بہاؤ میں بہنے کے بجائے، ہدایت کی سمت ہاتھ تھام لے۔
کچھ دوست ایسے ہوتے ہیں جو کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ایک پورے اجتماعی ماحول کا حصہ ہوتے ہیں۔ وہ ماحول جہاں سب ایک ہی نیت سے جڑے ہوں اللہ کی رضا کے لیے، بہتری کے لیے، خود کو اور دوسروں کو سنوارنے کے لیے۔ ایسے ماحول میں دوستی مقابلہ نہیں بنتی، بلکہ تعاون بن جاتی ہے۔ ایک دوسرے کو آگے بڑھتا دیکھ کر حسد نہیں، دعا نکلتی ہے۔
تعلیم ہو یا فکری نشوونما، جب دوست ساتھ ہوں تو علم صرف نصاب تک محدود نہیں رہتا۔ گفتگو میں مقصد آ جاتا ہے، سوالوں میں سنجیدگی اور جوابوں میں ذمہ داری۔ بعض اوقات ایک دوست کا رویہ، اس کی خاموش محنت، اس کی مستقل مزاجی خود ایک سبق بن جاتی ہے بغیر کچھ کہے۔
اللہ کے لیے کی گئی دوستی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے۔ ایسا دوست گناہ پر داد نہیں دیتا، بلکہ نرمی سے روک لیتا ہے۔ وہ برائی میں ساتھ نہیں دیتا، بلکہ اچھائی کی طرف بلا لیتا ہے۔ وہ تمہیں تمہاری اصل پہچان یاد دلاتا ہے کہ تم صرف دنیا کے لیے نہیں، کسی بڑے مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہو۔
ایسی دوستی میں سکون ہوتا ہے، کیونکہ وہاں دکھاوا نہیں ہوتا۔ اخلاص ہوتا ہے، کیونکہ وہاں فائدے کا حساب نہیں ہوتا۔ وہاں تعلق وقت کے ساتھ کمزور نہیں ہوتا، بلکہ آزمائشوں میں اور مضبوط ہو جاتا ہے جیسے یارِ غار کا تعلق۔
کبھی کبھی انسان اپنی زندگی میں کسی ایک ایسے دوست سے ملتا ہے جو نمایاں ہونے کی کوشش نہیں کرتا، مگر اس کی موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ جو خود پیچھے رہ کر بھی دوسروں کو آگے بڑھتے دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ جو اجتماعی خیر میں اپنی ذات کو بھلا دیتا ہے۔ ایسے دوست لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے، ان کی نیت ان کی پہچان بن جاتی ہے۔شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کے لیے کی گئی دوستی صرف دنیا کا سہارا نہیں بنتی، بلکہ آخرت کی روشنی بھی بن جاتی ہے۔ اور اگر کسی انسان کی زندگی میں ایک بھی یارِ غار جیسا دوست آجائے تو وہ واقعی بہت امیر ہو جاتا ہے۔ 







إرسال تعليق

أحدث أقدم

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال