📖 0
ہمارے اس کرۂ ارض پر ہندوستان کو غیر ملکی تسلط سے نجات تقریباً ۸۰ برس قبل حاصل ہو چکی۔ تب سے لے کر آج تک ہم میں سے کوئی شخص ’’آزادی‘‘ کا نام یا نعرہ سنتا ہے تو سب سے پہلے اس کے ذہن میں انگریزوں کی غلامی سے نجات کا تصور ابھرتا ہے۔ لیکن اس لفظ 'آزادی' کا اصل مفہوم ہے کیا؟ آزادی محض کسی کی پابندی سے نکل آنے یا اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا نام نہیں؛ بلکہ آزادی دراصل شعور، خود مختاری، حقوق اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی اور دوسروں کی زندگی کو بہتر بنانے کا اختیار ہے۔
اگر تاریخ پر باریک بینی سے نظر ڈالی جائے تو ۱۹۴۷ء میں ہندوستان نے سیاسی اور جغرافیائی آزادی حاصل کی۔ گویا اس وقت ہم نے آزادی کا دروازہ کھولا۔ پھر دستور سازی اور اس کے نفاذ کے ذریعے اس آزادی کو ایک منظم اور آئینی سمت عطا ہوئی۔ ہندوستان نے ایک ایسے جمہوری نظام کو اختیار کیا جس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ حکومت عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے ہو۔
کچھ عرصے تک حکومت اسی تصور کو اختیار کرتے ہوئے بہتری کے ساتھ چلتی رہی لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ایسے حالات سامنے آئے کہ ایک سوال اٹھنے لگا کہ: کیا آزادی ابھی ادھوری ہے؟
کچھ شہریوں کو محسوس ہونے لگا کہ آزادی کا وہ مقصد، جس کے لیے ایک طویل جدوجہد کی گئی تھی، ابھی مکمل طور پر حاصل نہیں ہوا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام کے ایک حصے میں نہ آزادی کا مطلوبہ شعور باقی رہا، نہ اپنے آئینی حقوق کا مکمل ادراک اور نہ اپنی شہری ذمہ داریوں کا احساس۔
حقیقت یہ ہے کہ حقوق اور ذمہ داریاں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں۔ جب کسی کو حقوق حاصل ہوتے ہیں تو اس کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہو جاتی ہیں؛ یہ اصول عام شہریوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں پر بھی عائد ہوتا ہے جو اقتدار اور اختیار رکھتے ہیں۔
آزادی کے کچھ برسوں بعد اگر سب اپنے حقوق سے غافل ہو جائیں، اپنے فرائض کو نظر انداز کر دیں اور شہری ظلم، ناانصافی اور تعصب کے خلاف آواز اٹھانا چھوڑ دیں تو آزادی رفتہ رفتہ کمزور پڑنے لگے گی۔
جیسا کہ ہمیں آج دیکھنے کو مل رہا ہے، ملک آزاد ہونے کے باوجود یہاں غریب شہری بنیادی سہولتوں اور مساوی مواقع سے محروم ہیں، تعلیم جیسے مقدس شعبے کو تجارت بنا دیا گیا، نوجوانوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے کے بجائے ان کی بے بسی کو ان ہی کی کمزوری قرار دیا جا رہا، مذہب کو انسانوں کو جوڑنے کے بجائے نفرت اور تصادم کا ذریعہ بنایا گیا، اور سیاسی مفادات کے لیے معاشرتی تقسیم کو ہوا دی جا رہی ہے۔
یہاں قصور صرف حکمرانوں کا نہیں؛ شہریوں کی غفلت بھی اس میں شامل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف بیرونی طاقتوں کے باعث کمزور نہیں ہوتیں، بلکہ کبھی کبھی داخلی غفلت، نااتفاقی، جہالت اور بے حسی بھی ان کی آزادی کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آزادی کوئی منزل نہیں، بلکہ ایک مسلسل سفر ہے۔ اسے ہر نسل کو اپنے شعور، کردار اور عمل سے محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اس کی حفاظت تب ہوتی ہے جب شہری اپنے اختیار کو استعمال کرے اور حکومت اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے۔
اگر ہم سب ہی غفلت برتیں گے تو آزادی کو خطرہ پہنچانے کے لیے کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں، اسی ملک و معاشرے میں موجود نفرت، تعصب، اقتدار کی ہوس، مذہبی نفرت، ناانصافی اور قانون سے بے اعتنائی ہی کافی ہوگی۔ لہٰذا ہمارا نعرہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آزادی ابھی ادھوری ہے۔ آزادی اس ملک کو مل چکی؛ اب اسے زندہ، مضبوط اور بامعنی رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔
