#4b3621 #351E10 #FFFFF3 #2B1700

آزمائشوں کے بھنور میں عام آدمی: مسائل، اسباب اور لائحہ عمل راشدامین

📖 0

 

آزمائشوں کے بھنور میں عام آدمی
مسائل، اسباب اور لائحہ عمل
راشدامین
زندگی کی کٹھن مسافت میں آج کا عام آدمی جس کرب، بے بسی اور گھٹن کا شکار ہے، اسے الفاظ کے پیراہن میں قید کرنا شاید ممکن نہیں۔ صبح سویرے رزقِ حلال کی تلاش میں نکلنے والا ایک باپ جب شام کو خالی جیب اور تھکے ہوئے قدموں کے ساتھ گھر لوٹتا ہے، تو اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیے، آپ کو پورے معاشرے کا نوحہ سنائی دے گا۔ ایک طرف ہوش ربا مہنگائی نے دسترخوان سے نوالے چھین لیے ہیں اور دوسری طرف ریاستی بے حسی نے غریب کی آخری امیدیں بھی روند ڈالی ہیں۔ لیکن بحیثیت مسلمان، مایوسی کی اس گھٹا ٹوپ تاریکی میں ہمارا واحد اور مضبوط ترین سہارا ہمارا ایمان ہے۔ ہمارا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے، اور آزمائشوں کا یہ تسلسل دراصل ہماری روح کو کندن بنانے کا ایک الٰہی نظام ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ البقرہ (آیت 155) میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ”وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ“ (اور ہم یقیناً تمہیں تھوڑے خوف، بھوک، اور جان و مال اور پھلوں کی کمی کے ذریعے آزمائیں گے، اور آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے)۔
اس آیت کے آخر میں ”صبر کرنے والوں“ کے لیے جو عظیم بشارت دی گئی ہے، وہ محض ہونٹ سی کر ظلم سہنے کا نام نہیں ہے۔ اسلام میں صبر کوئی مردہ یا جامد شے نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ اور متحرک قوت ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ جب حالات آپ کو ٹوٹنے پر مجبور کریں، جب نظام کی سفاکی آپ کو حرام کی طرف دھکیلے، تب بھی آپ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہوئے حق پر ڈٹے رہیں۔ صبر کا تقاضا ہے کہ انسان حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے استقامت دکھائے، قناعت کے ساتھ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے، اور دانشمندانہ حکمت عملیوں سے اس طوفان کا راستہ روکے۔ یہ ایک عارضی پڑاؤ ہے، اور سچا مومن وہ ہے جو آزمائشوں کے اس بھنور میں بھی اپنی خود داری اور ایمان کا سودا نہ کرے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں ہے کہ جب ہم اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہماری مصیبتیں دراصل ہماری ہی کمائی ہوئی ہیں اور یہ سارے حالات ہمارے ساتھ اس ظالمانہ ریاستی اور سرمایہ دارانہ نظام کی پیدا کردہ ہیں۔ اس منظم استحصال کو سمجھنے کے لیے معروف امریکی مفکر نوم چومسکی کا نظریہ ”سٹرٹجی آف ڈسٹریکشن“ (Strategy of Distraction) ایک آئینے کی حیثیت رکھتا ہے۔ چومسکی نے حکمرانوں کی جس شاطرانہ چال سے پردہ اٹھایا، وہ آج ہمارے گلی کوچوں میں ننگی ناچ رہی ہے۔ حکومتیں اور طاقتور طبقات یہ کبھی نہیں چاہتے کہ عوام روزگار، صحت اور تعلیم کے بنیادی حقوق پر سوال اٹھائیں۔ اس لیے وہ نہایت چالاکی سے عوام کو ایسے جذباتی ہنگاموں، غیر ضروری تنازعات اور کھوکھلے مدعوں میں الجھا دیتے ہیں، جن کا غریب کی ضروریات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ٹی وی اسکرینوں پر صبح و شام ہونے والی نفرت انگیز بحثیں، مندر مسجد کے لامتناہی قضیے، شہروں اور سڑکوں کے نام بدلنے کا تماشا، یہ سب وہ افیون ہے جو عوام کو اس لیے چٹائی جا رہی ہے تاکہ ان کا ذہن اتنا ماؤف ہو جائے کہ وہ اپنے بچوں کے چھنتے ہوئے مستقبل پر حکمرانوں کا گریبان نہ پکڑ سکیں۔
آج کے اس دورِ ستم میں تنخواہ دار اور مزدور پیشہ طبقہ ایک ایسی معاشی چکی میں پس رہا ہے جس کے دونوں پاٹ عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں۔ سرکاری اور نجی اداروں میں دن رات کولہو کے بیل کی طرح جُتنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں سالانہ اضافہ بمشکل دس بارہ فیصد ہوتا ہے، لیکن بازار میں مہنگائی کا عفریت اچانک بیس سے چالیس فیصد کی اڑان بھر لیتا ہے۔ اشیائے خورد و نوش کے ساتھ پیٹرول اور روزمرہ کے استعمال کی چیزیں اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ سفید پوش انسان کے لیے مہینے کا وسط آتے آتے اپنا بھرم قائم رکھنا محال ہو جاتا ہے۔ حکمران طبقہ، جس کے اپنے خزانے اور تجوریاں بھر رہی ہیں، وہ عوام کو ایک کے بعد دوسرا معاشی جھٹکا دیتا ہے، تاکہ لوگ پرانے درد کو بھول کر نئے زخم چاٹنے لگیں۔
اس معاشی قتلِ عام میں سب سے زیادہ ہولناک کردار صحت کے نظام کا ہے۔ پرائیویٹ ہسپتال قصاب خانے بن چکے ہیں جہاں مریض کو انسان نہیں، بلکہ نوٹ چھاپنے کی مشین سمجھا جاتا ہے۔ دوائیوں کی قیمتیں اس قدر بے قابو ہیں کہ ایک غریب انسان علاج کروانے کے بجائے موت کی دعائیں مانگنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں بحیثیت مسلمان ہمیں اس میڈیکل مافیا سے بچنے کے لیے اپنی صفوں میں باہمی تعاون، اخوت اور کفالت کا نظام (Mutual Support System) زندہ کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی حلال کمائی میں سے ایک حصہ ”ایمرجنسی فنڈ“ کے لیے مختص کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی، تاکہ مشکل وقت میں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مہنگی برانڈڈ دوائیوں کی جگہ فارمولے میں بالکل یکساں لیکن سستی ”جینرک ادویات“ کا استعمال عام کرنا ہوگا، اور اپنی زندگیوں کو سادگی اور فطرت کے قریب لانا ہوگا تاکہ بیماریوں کا راستہ روکا جا سکے۔
حکمرانوں کی سفاکی یہیں ختم نہیں ہوتی، بلکہ انہوں نے توعوام کو کاغذی گورکھ دھندوں کے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ غریب آدمی پیٹ کی آگ بجھانے کی فکر کرے یا صبح سے شام تک لائنوں میں لگ کر کبھی آدھار کو پین سے لنک کروائے، تو کبھی کے وائی سی کے نام پر دھکے کھائے۔ اس سے بڑی ریاستی منافقت اور کیا ہوگی کہ حکومت خود اپنے اداروں کے ذریعے جو کاغذات، ووٹر آئی ڈی ، آدھار اور دیگر دستاویزجاری کرتی ہے، وقت آنے پر وہی حکومت انہیں شہریت کے ثبوت کے لیے ناکافی قرار دے دیتی ہے۔ یہ عوام کو نفسیاتی طور پر کچلنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے، تاکہ انسان اپنے ہی وطن میں اپنی شناخت ثابت کرنے کی اذیت میں گھلتا رہے اور روٹی یا روزگار مانگنے کی جرات ہی نہ کر سکے۔
اس بے حس نظام کا ایک اور دردناک چہرہ انڈین ریلوے کی تباہی ہے۔ ایک وقت تھا جب ٹرین غریب اور متوسط طبقے کی سواری تھی، لوگ سلیپر کلاس میں باآسانی سفر کر لیا کرتے تھے۔ لیکن آج بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے سہولیات بڑھانے کے بجائے حکومت نے عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ سلیپر کلاس آج جنرل ڈبے کا بھیانک منظر پیش کر رہی ہے، جہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں اور انسانوں کو بے جان سامان کی طرح ٹھونس دیا جاتا ہے۔ تھرڈ اے سی بھی اب سلیپر جیسا حال بیان کر رہا ہے۔ سیٹوں کی دانستہ قلت پیدا کر کے سارا کھیل ”تتکال“ اور پھر ”پریمیم تتکال“ کے نام پر کھیلا جا رہا ہے۔ مجبوری میں سفر کرنے والوں سے عام کرائے کے مقابلے میں تین چار گنا زیادہ رقم وصول کرنا کسی قانونی ڈاکے سے کم نہیں۔ ریلوے کا نظام عوام کی سہولت کے بجائے اب صرف حکومتی خزانے بھرنے کی ایک بے رحم مشین بن چکا ہے۔
ان جاں گسل حالات، ریاستی جبر اور معاشی طوفانوں کا مقابلہ ہم رو کر یا ماتم کر کے نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے ہمیں ایک بیدار قوم بننا ہوگا۔ ہمیں اپنی زندگیوں سے دکھاوے، تصنع اور برانڈز کی کھوکھلی دوڑ کو نکال کر سادگی اور قناعت کو شعار بنانا ہوگا۔ اپنے اخراجات کو سختی سے کنٹرول کرنا ہوگا اور ایک آمدنی پر انحصار کرنے کے بجائے ہنر سیکھ کر روزگار کے نئے اور حلال ذرائع تلاش کرنے ہوں گے۔ اپنے دستاویزات کو مکمل اور درست رکھنا ہوگا تاکہ ہم کسی بھی ریاستی سازش کا بآسانی شکار نہ بن سکیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اپنے دلوں میں ایک دوسرے کا درد محسوس کرنا ہوگا، کیونکہ جب نظام ظالم ہو جائے، تو عوام صرف اپنے باہمی اتحاد، ایثار اور اللہ پر پختہ یقین کے بل بوتے پر ہی بقا کی جنگ جیت سکتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال