#4b3621 #351E10 #FFFFF3 #2B1700

مدراس سے نکلتے یہ ”بے زبان“ حفاظ! 🖋️احمد بن نذر

📖 0

واسطہ ہے اور آئے دن کا ہے،سابقہ ہے اور بار بار ہے،مشاہدہ ہے اور لگاتار ہے،سو معروضات پر اس لیے کان دھرے جانے چاہئیں کہ یہ ساحل کے تماشائی کے تاثرات نہیں،گھر کے بھیدی کے اپنے تجربات ہیں۔
ملکی منظرنامے کے افق (جسے دانش وروں کی زبان میں Limelight کہے جانے کا چلن ہے) پر اک ذرا سی توجہ کیجیے تو اس خطے کے دامن و آغوش میں دینی درس گاہیں اور قرآنی تعلیم گاہیں سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں،جو تاریک و دور دراز گوشوں میں بھی روشنی کے انتظام کےلیے تگ ودو میں مصروف،بلکہ یوں کہیے حتی المقدور جتی ہوئی ہیں۔نتیجۃً ان اداروں کے جہد پیہم اور سعیِ مسلسل کے باعث ہر سال اجلاس ہائے دستار بندی برائے حفاظ کے چسپاں اشتہارات اور اسکرینوں پر آویزاں اعلانات کے اعداد و شمار اگر محتاط اندازے کے بعد بھی ذکر کیے جائیں تو ان کے کئی سو ہونے میں شبہ نہیں ہے۔
یہ ان ارباب مدارس،نظماء ادارہ اور تدریس کے فرض منصبی کے احساس سے سرشار اساتذۂ عظام کی شب وروز محنتوں اور توجہات کی برکت ہے کہ ایسے دور افتادہ خطے میں بھی قرآن مقدس کے حروف و الفاظ کو اس کے لہجۂ خواندگی و تلاوت کے ساتھ قلب و جاں کا حصہ بنالینے والے حفاظ اپنے سروں پر دستار حفاظت قرآن لیے تراویح کی نماز میں محراب کے درمیان کھڑے ہوکر فرمان نبوی:”اقرأوا القرآن بلحون العرب” کی تعمیل کےلیے کوشاں ہیں اور رعایت تجوید کے ساتھ مکمل قرآن پاک سنا رہے ہیں،سننے والے سن رہے،دل وجاں کےلیے اجالے سمیٹ رہے ہیں،اور اس سے اندر کی کثافتوں کو نکالنے کےلیے دواء صافی و ماء شافی کا کام لے رہے ہیں۔ان تمام اساتذہ کی کاوشوں کو سلام،ایسے سبھی حفاظ کی کدوکاوش پر انہیں ہدیۂ تبریک!
مگر:
مقطعے میں آ گئی ہی سخن گسترانہ بات
اور وہ بات یہ ہے کہ حفاظ کی یہ تعداد ہمارے لیے باعث سرور ہے،اور ہمیں اس خوش بختی پر نازاں و مسرور ہونا ہی چاہیے کہ یہ اس کو سزاوار ہے،لیکن ان حفاظ کو جہاں قرآن کریم کے حروف و الفاظ اور مدات و اوقاف کی رعایت کے ساتھ تلاوت کے رموز و اسرار سے آگاہ کروایا جاتا ہے،وہیں صورت حال اس کی بھی متقاضی ہے کہ انہیں زبان کے دقائق سے روشناس نہ کروایا جائے تو نہ سہی،ان کی نگاہوں کے سامنے بیان کی گرہیں نہ کھولی جائیں تو کوئی بات نہیں مگر حتی الوسع الفاظ و معانی کی “تقریب رونمائی” تو کروا دی جائے، تاکہ تلاوت کلام پاک سے مشام جاں کو معطر کرنے والے یہ حفاظ اردو کے عام الفاظ سے کم از کم نابلد تو نہ رہ جائیں۔
کوئی زمانہ نہیں گزر گیا کہ اسے پرانے دنوں کی بات کہا جائے،کہ درجات ناظرہ وحفظ قرآن کریم بلکہ ابتدائی دینیات کے مکاتب بھی اس “خیر کثیر” سے محروم نہ تھے،بلکہ وہاں بھی درجہ بہ درجہ تدریجاً قرآن پاک کی تلاوت کے دوران تجوید کے قواعد کا اجراء کروانے کے ساتھ ابتداءً تختی بلکہ سلیٹ لکھوائی جاتی اور اردو قاعدہ،اردو زبان کی پہلی و دوسری،دینی تعلیم کا رسالہ،تعلیم الاسلام یا اس قبیل کی کتابوں کے پڑھنے اور سننے کا اہتمام کروایا جاتا۔مکتب کے حافظ جی بھی اس سلسلے میں کافی چاق چوبند ہوا کرتے،اور پابندی کے ساتھ تحریر و املاء کی کاپیوں کی جانچ اور اردو خوانی کے اسباق کا التزام کیا کرتے تھے۔پھر یہی نونہالان جب مکتب سے مدرسے میں آکر درجات حفظ کی درس گاہوں میں شمولیت اختیار کرتے تو چوں کہ بنیاد پختہ اور پکی ہو چکی ہوتی تو اب حفظ والے قاری صاحبان کو اس مستحکم بنیاد پر زبان کی اگلی تعمیر کےلیے پتھر رکھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی،بلکہ بعض طلبہ مکتب سے ہی املاء کی درستی اور “یاد کرو ہجے و معانی” کی اس درجہ مشق کرکے آتے کہ اردو کی عام عبارتیں پڑھتے ہوئے ان کی زبان رواں ہو چکی ہوتی،لیکن ادھر چند برسوں سے جہاں انحطاط کے مکروہ سائے دیگر شعبہ ہائے تعلیم پر پڑے وہیں اس کی دست برد سے زبان و بیان کا یہ گوشہ بھی محفوظ نہ رہ سکا،اداروں اور اساتذہ کی توجہ اس جانب کم ہوتی رہی اور ہنوز نوبت بایں جا رسید کہ یہ شعبہ رفتہ رفتہ از کار رفتہ ہو کر معدوم سا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
حفاظ کی ایک بڑی تعداد وہ ہے جس کے تعلیمی سفر کا اختتام تکمیل حفظ قرآن کریم پر ہی ہو جاتا ہے،ان میں سے وہ بھی ہیں جنہیں حالات سے نبردآزما ہوتے ہوئے حفظ کے معاً بعد معاش و معیشت کی پریشانیاں آ گھیرتی ہیں،ایسے میں ان کے پاس سوائے امامت یا مکتب کے عموماً کوئی اور متبادل نہیں رہ جاتا،سو ایسے میں وہ بادل خواستہ یا ناخواستہ کسی مسجد اور مکتب سے منسلک ہو کر تلاش معاش کی راہ پر نکل پڑتے ہیں،تاکہ “برسرروزگار” کی فہرست میں ان کا نام درج کر لیا جائے۔اب انہیں دوران تدریس و امامت بچوں کی تدریس،بعد عصر یا کسی اور نماز کے بعد نمازیوں کے درمیان کسی متعینہ کتاب کے پڑھ کر سنانے کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے (جسے مولانا محمد الیاس کاندھلوی کے افراد و ارکان جماعت کی اصطلاح میں “تعلیم” سے موسوم کیا جاتا ہے،اور یہی اصطلاح عمومی طور پر زبان زد بھی ہے۔) تب ان بےچارے حفاظ کو رائج زبان سے تہی دامنی و کم مائیگی کا احساس ستانے لگتا ہے،مگر چوں کہ وقت پر اساتذہ کی غفلت و بے توجہی رہی،سو اب اس کی تلافی ممکن نہیں رہ پاتی،اس طرح “بے زبانی” کا یہ کارواں آگے بڑھتا ہےاور اس مکتب کے طلبہ طالبات اور اس مسجد کے مقتدیین و مقتدیات بھی حافظ صاحب اور امام صاحب سے جو تھوڑا بہت فائدہ اٹھا پاتے،وہ اس “بے زبانی” کے سبب محروم رہ جاتے ہیں،اور حافظ صاحب زبان حال سے:
خموشی گفتگو ہے،بے زبانی ہے زباں میری
کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
حفظ کے بعد شعبۂ عالمیت کی جانب قدم بڑھانے والوں میں ایسے طلبہ کی کاپیاں بھی “نظر نواز” ہوئیں،جنہیں اپنے نام تک کا درست تلفظ اور ہجے معلوم نہیں تھا،چنانچہ بر سبیل تذکرہ ایک ایسی ہی کاپی کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ جس پر تحریر کنندہ کا نام “ہسیبُل لاہ” رقم تھا،جسے بلا مشقت ہی سمجھ لیا گیا کہ یہ “حسیب اللہ” کی محرف صورت ہے،جس میں قواعد و ضوابط کے بہ جائے مسمی کے اجتہاد کا دخل ہے۔ویسے بھی اس “اجتہاد” پر لکھنےوالے کو گردن زدنی کیوں کر قرار دیا جائے،اس کے اصل ذمہ دار تو وہ اساتذہ و ارباب اہتمام ہیں جن کے سائبان تلے ان “نایاب ہیروں” کی تراش خراش کا عمل انجام پایا ہے۔
حرف و لفظ سے بے بہرہ حفاظ کی پوری کھیپ وجود میں آ چکی ہے،یہ جب شعبۂ عالمیت میں قدم دھرتے ہیں تو جتنا وقت ان کی اردو کے کیل کانٹے درست کرنے کی کوشش میں لگتا ہے،اتنی دیر میں گاڑی چھوٹ کر اگلے اسٹیشن کو جا لگتی ہے،اور یہ “بے زبان” حفاظ مبہوت ہو کر درودیوار تکتے ہوئے پیچھے نہیں،بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ان حفاظ کا انسلاک خواہ اس کے بعد مسجد و مکتب سے ہونا ہو،یا انہیں اسکول کی سیڑھیاں چڑھنی ہوں،انہیں عالمیت کےلیے فارسی و عربی کے درجات میں شمولیت اختیار کرنی ہو یا انہیں خدا کی وسیع ترین زمین پر اپنے مقسوم میں لکھے رزق کی تلاش کا فریضہ پورا کرنا ہو،بہ ہر صورت اس کا انتظام ہونا ہی چاہیے کہ انہیں اعلیٰ معیار کا نہ سہی،متوسط ومیانہ درجے کا اردو پڑھنا اور لکھنا تو آ ہی جائے،تاکہ وہ جہاں کہیں رہیں،کم از کم دین کی بنیادی معلومات پر مشتمل کتابوں سے مستفید ہو سکیں اور زبان سے ناواقفیت ان کے استفادے کی راہ کی دیوار نہ بن سکے۔
اس سلسلے میں ان تمام اداروں کو پہل اور اقدام کرنا چاہیے جن کی حیثیت مرکز و مرجع کی ہے،کہ ان ہی کے بتائے ہوئے خطوط پر دیگر ادارے اپنے نصاب و نظام ترتیب دیتے ہیں۔نیز واضح رہے کہ بالفرض اگر اس سمت میں بر وقت کوششیں نہیں کی گئیں تو ہمارے گردوپیش تراویح میں قرآن کریم سنانے والے حفاظ کی تو بہتات ہوگی مگر ہجے ومعنی سے ناواقف حافظ صاحبان تراویح کی بیسویں رکعت کے سلام پھیرتے ہی بس بے زبان رہ جائیں گے بے زبان!

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال