📖 0
میں پڑھنے کا وقت کہاں سے نکالتا تھا؟
(الذکریات، ج ۶، ص ۳۳۲)شیخ علی طنطاوی
[ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]
عدالت کا حال یہ تھا کہ ہر روز میرے سامنے تیس مقدمے ہوتے۔ دعوے دیکھتا، وکیلوں کی بحثیں سنتا اور فیصلے کرتا۔ ثالثی مجالس کی نگرانی الگ تھی۔ تین اور مجلسوں کی صدارت بھی میرے سر تھی: مجلسِ اوقاف، مجلسِ ایتام اور شام کے شرعی کالجوں کی مجلسِ اعلیٰ، جو وزارتِ اوقاف کے ماتحت تھی۔
دمشق کے شرعی کالج میں پڑھاتا تھا، لڑکوں کے سیکنڈری اسکول میں بھی اور لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول میں بھی۔ جمعے کا خطبہ کبھی جامع المرابط میں ہوتا، کبھی مسجدِ جامعہ میں؛ کلبوں اور انجمنوں میں تقریریں الگ۔ ریڈیو دمشق سے گفت گو کا سلسلہ بھی جاری تھا اور میرا شمار ریڈیو کے اوّل اوّل بولنے والوں میں ہوتا تھا جنھیں لوگ سنتے چلے آ رہے تھے۔ اب تو پچاس برس سے زیادہ گزر چکے ہیں اور میری یہ گفت گو کبھی منقطع نہیں ہوئی۔
پھر روزانہ ایک مختصر سا کالم بھی لکھتا؛ پہلے روزنامہ ”النصر“ میں، پھر ”الایام“ میں۔ کالم چھوٹا ہوتا تھا مگر صاحب! دستی بم بھی تو چھوٹا ہی ہوتا ہے؛ دھماکا اس کا بھی خوب ہوتا ہے اور باطل کی عمارت میں رخنہ ڈالنے کا کام بھی کچھ کم نہیں کرتا۔
یہ سب کچھ کرتا تھا، پھر بھی وقت نکال لیتا کہ کتب خانے میں جا بیٹھوں۔
اور اس پر طرہ یہ کہ روزانہ دو سو، کبھی تین سو صفحے پڑھتا تھا۔ یہ عادت آج کی نہیں؛ جس دن بچپن میں پڑھنا سیکھا، اسی دن سے چلی آ رہی ہے۔ کوئی ستر برس ہونے کو آئے۔ جو وقت بچتا، کتاب لے کر بیٹھ جاتا۔
اب اس کا راز بھی سن لیجیے۔ میں نہ گلی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتا تھا، نہ جوانوں کے ساتھ کسی تفریح گاہ کا رخ کرتا۔ آدمی بھی کچھ ایسا مجلسی نہ تھا کہ آنے والوں کی پیشوائی میں وقت جائے؛ مسافروں کو رخصت کرنے میں گھڑیاں کٹیں؛ خوشی والوں کو مبارک بادیں دیتا پھروں اور مصیبت زدوں کے ہاں تعزیتیں کرتا رہوں۔ دعوت بھی قبول نہ کرتا، خصوصاً اگر دعوت کھانے کی ہوتی!
اگر اس روش میں اسلامی نقطۂ نظر سے کسی افضل و اکمل طریقے کی مخالفت ہو گئی ہو تو اللّٰہ سے معافی چاہتا ہوں؛ نہ میں کسی کو کہتا ہوں کہ وہ بھی میری طرح کرے۔ میرا طریقہ بس یہ تھا کہ بغیر پہلے سے وقت لیے کسی ملاقاتی کو نہ ملتا اور خود بھی کسی کے ہاں شاذ و نادر ہی جاتا۔ یوں وقت بھی بچا لیا اور جان بھی آسودہ رکھی۔
اب آپ کہیں گے: میاں! یہ سب کچھ آخر کیا کیسے؟ اور ایک دن میں اتنی گنجایش نکلتی کہاں سے تھی؟
جواب یہ ہے کہ میں نے اپنے آپ کو نہیں بانٹا تھا، اپنے وقت کو بانٹ رکھا تھا۔
فقہا کی اصطلاح میں اسے ”مُہایَأَۃ“ کہتے ہیں۔ مُہایَأَۃ سنی ہے کبھی؟ ایک مکان کے دو مالک ہوں، مکان اتنا نہ ہو کہ دونوں بہ یک وقت اس میں رہ سکیں اور تقسیم بھی نہ ہو سکتا ہو تو مکان نہیں، وقت بانٹ لیتے ہیں۔ ایک مہینا یا ایک سال ایک مالک استعمال کرے، پھر اتنی ہی مدت دوسرا۔
میں نے اپنے وقت کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا تھا۔
عدالت میں ہوتا تو بس عدالت ہی سامنے ہوتی؛ ساری توجہ اسی کی؛ نہ اخبار کا خیال، نہ مدرسے کا۔ اخبار کے لیے لکھنے بیٹھتا تو عدالت کو ذہن سے نکال باہر کرتا۔ مدرسے میں ہوتا تو مدرسے کے سبق کے سوا دنیا میں کوئی کام ہی نہ تھا۔
اور ہاں! یہ سب جوانی کے عہد کا قصہ ہے۔ ابو العتاہیہ نے خوب کہا ہے:
”وَرَوَائِحُ الْجَنَّةِ فِي الشَّبَابِ“جنت کی مہک تو جوانی میں ہے!
اس باب کو پڑھنے والے نوجوان اگر اپنی قوتیں سنجیدہ کام میں لگا دیں اور اپنا وقت ایسے کاموں میں صرف کریں جن سے کوئی مفید نتیجہ نکلتا ہو تو یقین جانیے، مجھ سے کہیں زیادہ کر گزریں۔