یہ ورک بک اُن لکھاریوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو کسی وجہ سے لکھنے کے معمول سے دور ہو گئے ہیں، یا جنہیں دوبارہ قلم اٹھانے میں مشکل محسوس ہو رہی ہے۔ اس میں لکھنے کی راہ میں آنے والی عام رکاوٹوں کو پہچاننے، غیر ضروری دباؤ اور احساسِ جرم سے نکلنے، اور اپنے لیے ایک آسان اور قابلِ عمل لکھنے کا معمول بنانے میں مدد دی گئی ہے۔
اس فائل میں مختلف خود احتسابی سوالات، مختصر تحریری مشقیں، روزانہ لکھنے کے چھوٹے اہداف، لکھنے کے معمول کو برقرار رکھنے کے طریقے، ناغے کے بعد دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ، سات روزہ حاضری ٹریکر اور مستقبل کے اپنے آپ کے نام ایک خط شامل ہے۔ اس کا مقصد آپ کو زیادہ لکھنے پر مجبور کرنا نہیں، بلکہ اپنے قلم سے دوبارہ جڑنے اور لکھنے کے سفر کو بغیر کسی دباؤ کے جاری رکھنے میں مدد دینا ہے۔
کچھ بونس تراکیب:
آپ کو کس قسم کا رائٹنگ بلاک درپیش ہے؟
ہر رائٹنگ بلاک ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کبھی مسئلہ خیال کی کمی ہوتا ہے، کبھی آغاز کرنے میں دشواری، کبھی کمال پسندی، اور کبھی صرف لکھنے کی رفتار اور تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کے معاملے میں رکاوٹ کی اصل وجہ کیا ہے۔
1. اگر آپ کو بالکل سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا لکھیں…
تو سوالوں کے ذریعے لکھنے کی مشق آزمائیں۔ اپنے کردار، کہانی یا موضوع سے متعلق سوالات خود سے پوچھیں اور ان کے جواب لکھنا شروع کریں۔
2. اگر آپ کے پاس خیالات تو بہت ہیں، لیکن لکھنا شروع نہیں کر پا رہے…
تو پانچ منٹ کی بے تکلف تحریر آزمائیں۔ پانچ منٹ کا وقت مقرر کریں اور بغیر رکے جو ذہن میں آئے لکھتے جائیں۔ جملوں کی خوب صورتی، املا یا ترتیب کی فکر نہ کریں۔
3. اگر آپ جو کچھ بھی لکھتے ہیں، وہ آپ کو برا لگتا ہے…
تو جان بوجھ کر بدترین مسودہ لکھیں۔ خود کو اجازت دیں کہ آپ کی تحریر خراب ہو سکتی ہے۔ مقصد اچھی تحریر لکھنا نہیں، بلکہ لکھنے کی رکاوٹ توڑنا ہے۔
4. اگر آپ کو سمجھ نہیں آ رہا کہ کہانی کو آگے کیسے بڑھائیں…
تو گم شدہ کڑی تلاش کریں۔ خود سے پوچھیں: میں آگے اس لیے نہیں بڑھ پا رہا کیونکہ مجھے کیا معلوم نہیں؟ ممکن ہے کردار کی خواہش، کہانی کا تنازع یا اگلا واقعہ ابھی واضح نہ ہو۔
5. اگر آپ نئی تحریر شروع ہی نہیں کر پا رہے…
تو کچھ نیا لکھنے کے بجائے اپنی کسی پرانی تحریر کی تدوین کریں۔ کسی ادھوری کہانی، پرانے افسانے، نظم یا پہلے سے لکھے ہوئے پیراگراف کو نکالیں اور اسے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
6. اگر آپ کے پاس بہت سی ادھوری کہانیاں پڑی ہیں…
تو آج کوئی نیا خیال شروع نہ کرنے کا دن رکھیں۔ صرف پہلے سے شروع کیے گئے کسی ایک منصوبے پر کام کریں۔ نئی کہانی شروع کرنے کی خواہش کو نوٹ کر لیں، مگر فی الحال اسے شروع نہ کریں۔
7. اگر آپ بار بار لکھنے کو ٹالتے رہتے ہیں…
تو پندرہ منٹ کی تحریری نشست رکھیں۔ صرف پندرہ منٹ کے لیے موبائل، سوشل میڈیا اور دوسری مصروفیات سے دور ہو کر لکھیں۔ پندرہ منٹ مکمل ہونے کے بعد رک جانا بھی بالکل ٹھیک ہے۔
8. اگر ایک نشست کے بعد دوسری نشست میں دوبارہ لکھنے کا سلسلہ نہیں بن پاتا…
تو اگلی بار کے لیے ایک اشارہ چھوڑیں۔ لکھنا بند کرنے سے پہلے ایک جملہ لکھ دیں کہ اگلی نشست میں کیا لکھنا ہے، مثلاً: “اگلے منظر میں عائشہ کو وہ خط ملے گا…” یوں اگلی بار آپ کو خالی صفحے سے دوبارہ آغاز نہیں کرنا پڑے گا۔
9. اگر کوئی منظر اتنا مشکل لگ رہا ہے کہ آپ اسے لکھ ہی نہیں پا رہے…
تو اس منظر کا برا اور سادہ مسودہ لکھ ڈالیں۔ اسے خوب صورت بنانے کی کوشش نہ کریں۔ صرف یہ لکھیں کہ کون آیا، کیا ہوا، کس نے کیا کہا اور آخر میں کیا بدلا۔ بعد میں اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
10. اگر آپ لکھ تو نہیں پا رہے، لیکن ذہن میں پوری بات موجود ہے…
تو کہانی کو بول کر ریکارڈ کر لیں۔ موبائل پر وائس نوٹ کھولیں اور ایسے بولیں جیسے کسی دوست کو اپنی کہانی سنا رہے ہوں۔ بعد میں اسی گفتگو کو تحریر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
11. اگر آپ کو سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں سے شروع کریں…
تو کہانی کے درمیان سے شروع کریں۔ ضروری نہیں کہ آپ پہلے ہی منظر سے لکھنا شروع کریں۔ جس منظر، مکالمے یا واقعے کو لکھنے کا سب سے زیادہ شوق ہے، وہیں سے شروع کر دیں۔ ترتیب بعد میں درست کی جا سکتی ہے۔
12. اگر آپ بار بار نئے منصوبے شروع کرکے پرانے ادھورے چھوڑ دیتے ہیں…
تو صرف ایک پیراگراف کا وعدہ کریں۔ خود سے یہ نہ کہیں کہ “آج مجھے پورا باب لکھنا ہے۔” صرف اتنا طے کریں کہ آج میں ایک پیراگراف ضرور لکھوں گا۔ کبھی ایک پیراگراف ہی اگلے کئی صفحات کا راستہ کھول دیتا ہے۔
لکھنے کے اس سفر میں آپ تنہا نہیں ہیں۔
لکھتے رہیے، رک بھی جائیں تو دوبارہ شروع کیجیے۔
ہم آپ کے ساتھ ہیں، اور آپ کی اگلی تحریر کے منتظر بھی۔ 🤎
~ قرطاس پبلکیشنز
