قربانی فقط ایک بے زبان جانور کی شہ رگ پر چھری چلانے اور اس کا خون بہا دینے کا نام نہیں ہے۔ اگر نگاہِ بصیرت سے دیکھا جائے تو یہ اس عظیم کائناتی سچائی کا عملی اعتراف ہے کہ انسان کا وجود، اس کی سانسیں، اس کا مال و اسباب اور اس سے جڑی ہر متاع ربِ ذوالجلال کی عطا کردہ امانت ہے۔ جب ایک بندۂ مومن تکبیر بلند کرتے ہوئے اپنا نذرانہ پیش کرتا ہے، تو وہ زبانِ حال سے اس بات کا اقرار کر رہا ہوتا ہے کہ اے پروردگار! میری ہستی کا ہر گوشہ تیری ہی ملکیت ہے، اور جب تیری رضا کا تقاضا ہو تو میں اپنی عزیز ترین شے بھی تیرے قدموں میں نچھاور کرنے سے دریغ نہیں کروں گا۔ یہ عمل ایک عاشق کا اپنے محبوب سے تجدیدِ عہدِ وفا ہے، جہاں مادی وجود اور دنیاوی محبتوں کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔
تسلیم و رضا کے اس پرسوز سفر کا آغاز تاریخِ انسانی کے بالکل ابتدائی دور میں ہی ہو گیا تھا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کے فرزند ہابیل نے بارگاہِ صمدیت میں اپنی محنت کی کمائی کا بہترین حصہ پیش کیا، تو آسمان سے اترنے والی آگ نے اسے قبولیت کی لازوال سند عطا کر دی۔ اس واقعے نے رہتی دنیا تک کے لیے یہ اصول طے کر دیا کہ اللہ کی بارگاہ میں نذرانے کی مقدار یا ظاہری قیمت ہرگز نہیں دیکھی جاتی، بلکہ اس خلوص، تقویٰ اور عشق کو تولا جاتا ہے جس کے ساتھ وہ پیش کیا جائے۔ ہابیل کا جذبہ دراصل اس ازلی کشمکش کا پہلا اور کامیاب باب تھا، جہاں انسان نے اپنی ذاتی پسند پر رب کی خوشنودی کو کامل ترجیح دی۔
انسانی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ جس چیز سے بے پناہ محبت کرتا ہے، اسے اپنے سینے سے لگا کر رکھنا چاہتا ہے۔ مگر عشقِ الٰہی کا تقاضا اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ محبت بندے سے اس کی سب سے پیاری اور عزیز شے کا بے لاگ مطالبہ کرتی ہے۔ قربانی کا یہ عظیم فریضہ اسی باطنی کشمکش کے عروج اور پھر اس کے حسین انجام کا نام ہے۔ جب دل کے نہاں خانے میں موجود دنیاوی رشتوں اور مال و زر کے بت ٹوٹتے ہیں، اور انسان اپنی متاعِ جاں کو اپنے پروردگار کے حضور پیش کرنے کے لیے ذہنی و قلبی طور پر تیار ہو جاتا ہے، تو گویا وہ بندگی کی اس معراج کو چھو لیتا ہے جہاں اسے ذاتِ حق کے سوا کچھ اور سجھائی نہیں دیتا۔
اس والہانہ سفر اور غیر مشروط اطاعت کی سب سے روشن اور بے مثال داستان سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے حصے میں آئی۔ جب بڑھاپے کی دعاؤں کا ثمر اور آنکھوں کی ٹھنڈک، یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام، دوڑنے دھوپنے کی عمر کو پہنچے، تو خلیل اللہ کو خواب کے ذریعے ایک ایسی کٹھن آزمائش میں ڈال دیا گیا جس کے تصور سے ہی انسانی عقل کانپ اٹھتی ہے۔ مگر یہ خرد اور منطق کا نہیں، بلکہ جنون اور عشق کا امتحان تھا۔ ایک باپ کا اپنے لختِ جگر کو مقتل میں لے جانا اور بیٹے کا نہایت سکون کے ساتھ گردن جھکا دینا، تاریخِ انسانی کا وہ انوکھا اور لرزہ خیز منظر تھا جس نے آسمان کے فرشتوں کو بھی محوِ حیرت کر دیا۔ اس مقام پر اطاعت اپنے نقطۂ کمال کو پہنچ گئی اور حرفِ ’کیوں‘ ہمیشہ کے لیے مٹ گیا۔
آج جب ہم سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہوئے قربان گاہوں کا رخ کرتے ہیں، تو ہمارا یہ عمل اسی عظیم صدائے خلیل علیہ السلام کا براہِ راست تسلسل ہوتا ہے۔ یہ کسی قدیم رسم کی میکانیکی ادائیگی نہیں، بلکہ اس ابدی پیغام کی یاد دہانی ہے کہ عشق کا راستہ ہر دور میں قربانی مانگتا ہے۔ یہ شعار ہمیں سکھاتا ہے کہ جب تک انسان اپنی انا، اپنی خودی اور اپنی بے جا خواہشات کو رضائے الٰہی کی چوکھٹ پر مکمل طور پر ذبح نہ کر دے، تب تک اس کی روح کو وہ ابدی سکون اور طہارت نصیب نہیں ہو سکتی جو اسے اپنے خالقِ حقیقی کی قربت سے ہمکنار کر دے۔
سنتِ ابراہیمی علیہ السلام: عقل پر عشق کی فتح کا عظیم معرکہ
تاریخِ انسانی کا وہ انوکھا اور لرزہ خیز باب مکہ کی سنگلاخ وادیوں میں رقم ہوا، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بڑھاپے کی دعاؤں کے واحد ثمر کو قربان کرنے کا اشارہ ملا۔ یہ کوئی صریح اور واضح طور پر نازل ہونے والی وحی نہیں بلکہ رات کی تاریکی میں دیکھا گیا ایک خواب تھا، لیکن مقامِ خلیل کی نگاہِ بصیرت نے اسے ربِ کائنات کا حتمی اور قطعی فرمان سمجھ کر بے چوں و چرا تسلیم کر لیا۔ ایک طرف دہائیوں کی تمناؤں کے بعد ملنے والا لختِ جگر تھا اور دوسری طرف خالقِ کائنات کی رضا کا انتہائی کٹھن امتحان۔ یہ وہ مقام تھا جہاں ایک عام انسان کے قدم ڈگمگا سکتے تھے، مگر بندگی کے اس اعلیٰ ترین درجے پر ندائے غیب کے سامنے پس و پیش کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اگر اس واقعے کو دنیاوی خرد اور منطق کے ترازو میں تولا جائے تو یہ سراسر محال اور ناقابلِ فہم نظر آتا ہے۔ عقلِ انسانی بار بار یہ سوال اٹھاتی ہے کہ ایک ضعیف العمر باپ، جس کی ہڈیوں میں ضعف آ چکا ہو، وہ بھلا اپنے بڑھاپے کے اکلوتے اور لاڈلے سہارے کی گردن پر اپنے ہی ہاتھوں سے چھری کیسے چلا سکتا ہے؟ مگر یہ منزل فلسفے اور دلیلوں کی نہیں، بلکہ 'عقل اور عشق' کے اس زبردست معرکے کی تھی، جہاں عشقِ حقیقی نے ہر مادی، خونی اور جذباتی رشتے پر عظیم الشان غلبہ پا لیا۔ اس وارفتگی نے ثابت کر دیا کہ جب محبوبِ حقیقی کا تقاضا سامنے آ جائے، تو پھر دنیا کی کوئی محبت، پدری شفقت اور دل کی کوئی بھی کشش زنجیرِ پا نہیں بن سکتی۔
اس داستانِ وفا کا سب سے سحر انگیز اور روح پرور پہلو وہ مکالمہ ہے جو خلیل اللہ اور ان کے فرزند کے درمیان ہوا۔ باپ نے اپنا خواب سنا کر اپنے بیٹے کی رضا اور تسلیم کا امتحان لیا، اور جواب میں اس کم سن لیکن عظیم المرتبت پیکرِ تسلیم و رضا حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جو کچھ کہا، اس نے وفا کی ایک ایسی ابدی تاریخ مرتب کر دی جس کی نظیر ملنا ناممکن ہے۔ ”اے ابا جان! جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، کر گزریے۔“ اس مبارک لمحے میں اطاعت اپنے نقطۂ کمال کو پہنچ گئی اور انسانی لغت سے حرفِ 'کیوں' مکمل طور پر مٹ گیا۔ یہ وہ معراج تھی جہاں ایک لمحے کے لیے بھی یہ سوال پیدا نہیں ہوا کہ آخر میرا قصور کیا ہے یا مجھے کس جرم کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔
ذرا چشمِ تصور سے اس کٹھن اور اعصاب شکن گھڑی کو دیکھیے، جب ایک عاشقِ صادق نے اپنے کلیجے کے ٹکڑے کو پیشانی کے بل لٹا دیا اور تیز دھار چھری اس کی نازک گردن پر رکھ دی۔ کائنات کا ذرہ ذرہ تھم گیا، ہوائیں رک گئیں اور چشمِ فلک بھی اس والہانہ جنون کو دیکھ کر دم بخود رہ گئی۔ عشقِ الٰہی نے اس دن وہ تاریخ ساز فتح حاصل کی جس نے دنیا کا دھارا ہمیشہ کے لیے موڑ کر رکھ دیا۔ پروردگارِ عالم کو اپنے خلیل کی یہ وارفتگی اس قدر پسند آئی کہ چھری کی دھار کو کند کر دیا گیا اور جنت سے ایک مینڈھا فدیے کے طور پر بھیج کر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیا گیا۔
یہ لرزہ خیز واقعہ محض تاریخ کا ایک ورق نہیں، بلکہ یہ اس حقیقت کا شاندار اعلان ہے کہ سچا عشق کبھی ادھورا سودا نہیں کرتا۔ پروردگار کو اپنے پیغمبر کے بیٹے کا خون درکار نہیں تھا، بلکہ اسے وہ جذبہ دیکھنا تھا جو ہر خونی رشتے سے بالاتر ہو۔ سنتِ ابراہیمی آج کے انسان کو بھی جھنجھوڑ کر یہ درس دیتی ہے کہ جب بھی زندگی کی کشمکش میں دنیاوی محبت اور حکمِ الٰہی کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہو، تو کامیابی صرف اسی میں ہے کہ مصلحت کی چادر اتار کر عشقِ الٰہی کا پرچم بلند کر دیا جائے۔ بندگی کی معراج یہی ہے کہ انسان بنا کسی سوال کے، اپنا سب کچھ اپنے رب کی منشا پر نچھاور کرنے کے لیے ہر دم تیار رہے۔
خون اور گوشت نہیں، فقط تقویٰ
قربانی کے اس پورے عمل میں بظاہر جو چیز سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے، وہ جانور کا خون اور اس کا گوشت ہے، مگر قرآنِ حکیم نے اس ظاہری خول کو ہٹا کر اس کی اصل اور باطنی روح کو انتہائی خوبصورت انداز میں آشکار کیا ہے۔ پروردگارِ عالم کو اس مادی وجود کی قطعی کوئی حاجت نہیں، وہ تو دلوں کے حال اور نیتوں کا خلوص دیکھتا ہے۔ اسی عظیم حقیقت کو سورۃ الحج میں یوں بیان فرمایا گیا ہے:
لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ (سورۃ الحج: )اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، بلکہ اسے تو تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے۔
یہ قرآنی آیت اس بات کا دو ٹوک اعلان ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں مادی اشیاء سفر نہیں کرتیں، بلکہ وہاں تو اس خلوص اور جذبے کی رسائی ہوتی ہے جس کے ساتھ کوئی عمل انجام دیا جائے۔ قربانی کا اصل ہدف گوشت کا ذخیرہ کرنا نہیں، بلکہ تقویٰ کی اس کیفیت کو پانا ہے جو انسان کو اللہ کا حقیقی فرماں بردار بنا دیتی ہے۔
اس قرآنی زاویہ نگاہ سے دیکھیں تو عید الاضحیٰ کے دن ہونے والا یہ عمل محض ایک رسم نہیں، بلکہ ایک زبردست روحانی استعارہ ہے۔ جب ایک بندۂ مومن اللہ کی رضا کی خاطر جانور کو لٹاتا ہے اور تکبیر پڑھ کر چھری چلاتا ہے، تو نگاہِ ظاہر میں وہ چھری جانور کی شہ رگ پر چل رہی ہوتی ہے، لیکن باطنی طور پر اس کی تیز دھار انسان کے دل پر لگی دنیاوی محبتوں اور حرص و طمع کی تاروں کو کاٹ رہی ہوتی ہے۔ یہ دراصل اپنے اندر کے اس بت کو ذبح کرنے کا عمل ہے جو مال، دولت، اور دنیا کی رنگینیوں کی صورت میں انسان کو اس کے رب سے غافل کر دیتا ہے۔ جب تک اندر کی یہ محبتیں قربان نہ ہوں، باہر کا بہنے والا خون کوئی روحانی کرشمہ نہیں دکھا سکتا۔
انسانی فطرت اکثر ظاہری نمائش اور مادی پیمانوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ ہم جانوروں کی جسامت، ان کی قیمت اور ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر ان کی قدر و قیمت کا تعین کرتے ہیں، لیکن اللہ کے دربار کا ترازو اس سے یکسر مختلف ہے۔ وہاں کسی جانور کی قیمت اس کے وزن یا اس کی قیمتِ خرید سے نہیں لگائی جاتی، بلکہ اس نیت اور خلوص سے تولا جاتا ہے جس کے ساتھ اسے پیش کیا گیا ہو۔ ایک غریب کا سچے جذبے کے ساتھ قربان کیا ہوا لاغر جانور، کسی امیر کے دکھاوے اور ریاکاری کے لیے ذبح کیے گئے مہنگے ترین اور پرکشش جانور پر فوقیت لے جاتا ہے، کیونکہ عرشِ عظیم پر گوشت کا ڈھیر نہیں، قلب کی پاکیزگی دیکھی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قربانی کا یہ عمل تقویٰ کی سب سے بڑی اور واضح علامت بن جاتا ہے۔ خلوصِ دل سے پیش کیا گیا یہ نذرانہ اس قدر تیزی سے قبولیت کا درجہ پاتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس حوالے سے جامع الترمذی میں نبی کریم ﷺ کا یہ مبارک فرمان ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے:
وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ عَلَى الأَرْضِ فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا (جامع الترمذی) اور یقیناً (قربانی کے جانور کا) خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا مقام پا لیتا ہے، پس تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔
یہ مبارک ارشاد اس بات کی گواہی ہے کہ جب نیت خالص ہو اور دل میں فقط رب کی رضا کا جذبہ موجزن ہو، تو پھر نذرانے کو زمین پر بعد میں جگہ ملتی ہے، وہ آسمانِ قبولیت پر پہلے ہی سجا لیا جاتا ہے۔ تقویٰ کی اس روح کے بغیر قربانی کا عمل محض ایک جانور کی جان لینے اور لذتِ کام و دہن کے سوا کچھ بھی نہیں۔
باطنی قربانی: نفسِ امارہ اور حیوانی خصلتوں کو ذبح کرنا
ظاہری سطح پر دیکھا جائے تو قربانی ایک مخصوص دن انجام دیا جانے والا شرعی فریضہ ہے، لیکن اگر اس کے باطنی اور عرفانی پہلو پر غور کیا جائے تو یہ روح کی تطہیر اور قلب کی پاکیزگی کا ایک انتہائی بلیغ اور عظیم الشان استعارہ ہے۔ جب ایک زائرِ حق کسی بے زبان جانور کو زمین پر لٹاتا ہے، تو دراصل یہ اس بات کا خاموش مگر طاقتور اعلان ہوتا ہے کہ اس نے اپنے وجود کے اندر چھپے ہوئے 'حیوانی اور درندانہ خصلتوں' کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا اٹل فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ عمل اس عہدِ وفا کی تکمیل ہے کہ بندہ اب اپنے باطن میں پنپنے والی ہر اس خواہش کو مٹا دے گا جو اسے مقامِ آدمیت سے گرا کر حیوانیت کی سطح پر لے آتی ہے۔
انسان کے سینے میں ایک ایسی سرکش طاقت موجود ہے جو اسے مسلسل نافرمانی اور مادی لذتوں کی جانب کھینچتی ہے۔ قرآنِ مجید نے اس تاریک اور سرکش قوت کو 'نفسِ امارہ' کے نام سے پکارا ہے، جو انسان کی روحانیت کا سب سے بڑا اور خاموش دشمن ہے۔ اس نفس کی حقیقت کو سورۃ یوسف میں ان جامع الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے:
إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ۚ (سورۃ یوسف) بیشک نفس تو برائی کا ہی بہت زیادہ حکم دینے والا ہے، مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے۔
جب تک اس منہ زور نفس کو قابو کر کے رضائے الٰہی کے تابع نہ کیا جائے، انسان کا کوئی بھی ظاہری عمل بارگاہِ صمدیت میں وہ کمال اور درجہ حاصل نہیں کر سکتا جس کا وہ متقاضی ہے۔ جانور کے گلے پر چھری پھیرنا محض ایک علامت ہے، جبکہ اصل اور حقیقی کمال یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کے اندر چھپے اس نفسِ امارہ کی گردن پر تکبیر کی وہ ضرب لگائے جو اسے ہمیشہ کے لیے زیر کر دے۔
حقیقی قربانی اور بندگی کی معراج یہ نہیں کہ فقط مال خرچ کر کے ایک فربہ جانور کا خون بہا دیا جائے، بلکہ عشق و وارفتگی کا اصل امتحان تو یہ ہے کہ انسان اپنی پروردہ انا ، دلوں میں چھپے بغض، کینہ، حسد اور دنیاوی مال و منصب کی ہوس پر اللہ اکبر کی چھری چلا دے۔ یہ تمام آلائشیں اور شیطانی وسوسے دراصل وہ بت ہیں جو ہم نے اپنے باطن کے صنم کدے میں سجا رکھے ہیں۔ جب تک ان باطنی بتوں کو پاش پاش نہ کیا جائے اور حرص و طمع کی شہ رگ کو نہ کاٹا جائے، اس وقت تک ظاہری قربانی کا عمل روح کے تاروں کو نہیں چھیڑ سکتا۔ تکبیر کی صدا محض فضا میں گم ہونے کے لیے نہیں بلند کی جاتی، بلکہ یہ اس لیے ہے کہ اس کی ہیبت سے اندر کے سارے شیطانی لشکر پسپا ہو جائیں۔
فی الحقیقت، جب تک انسان کے اندر کا ابلیس اور نفس کی سرکشی ذبح نہیں ہوتی، قربانی کا حقیقی مقصد اور اس کا روحانی ثمر کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ جس شخص نے ایک خوبصورت جانور تو اللہ کی راہ میں قربان کر دیا، لیکن اس کا تکبر، اس کی رعونت اور اس کی دنیا پرستی جوں کی توں زندہ رہی، تو اس نے اس عمل کی اصل روح کو پایا ہی نہیں۔ سچا عاشق جب قربان گاہ کا رخ کرتا ہے، تو اس کے ہاتھ میں موجود چھری جانور پر بعد میں، اور اس کی اپنی انانیت اور حیوانی خواہشات پر پہلے چلتی ہے۔ اسی باطنی اور کٹھن قربانی کے نتیجے میں انسان کو وہ ”قلبِ سلیم“ نصیب ہوتا ہے، جو کائنات کے خالق کی تجلیات کا حقیقی مسکن بننے کا اہل ہوتا ہے۔
عصری اشکالات کا روحانی اور عقلی جواب
موجودہ دور مادیت اور افادیت کا دور ہے۔ آج کا جدید ذہن ہر عمل کو نفع و نقصان اور دنیاوی معاشیات کے ترازو میں تولنے کا عادی ہو چکا ہے۔ اسی مادی سوچ کے بطن سے ایک انتہائی عام اور بظاہر ہمدردانہ اعتراض جنم لیتا ہے کہ ”لاکھوں روپے کے جانوروں کا خون بہانے کے بجائے، اگر یہی خطیر رقم غریبوں، ناداروں اور یتیموں کی کفالت کے لیے تقسیم کر دی جائے، تو کیا یہ زیادہ بہتر سماجی خدمت نہیں؟“
یہ اشکال بظاہر انسانی ہمدردی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے اور منطقی اعتبار سے بہت پرکشش معلوم ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ بندگی کے اصل مفہوم اور عشقِ الٰہی کے تقاضوں سے مکمل ناآشنائی کا نتیجہ ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسلام میں صدقہ و خیرات، حقوق العباد اور محتاجوں کی مدد کی غیر معمولی اور بے پناہ اہمیت ہے۔ قرآن و سنت کا بڑا حصہ انہی احکامات پر مشتمل ہے، لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی نفلی یا مالی صدقہ ”شعائر اللہ“اور عباداتِ واجبہ کا متبادل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ قربانی ایک عام مالی خرچ نہیں، بلکہ یہ شعائرِ الٰہی میں سے ایک عظیم شعار ہے۔ اور ان شعائر کی تعظیم کے حوالے سے قرآنِ حکیم کا واضح اور دو ٹوک اعلان ہے:
ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ (سورۃ الحج) یہ (حکم) ہے، اور جو کوئی اللہ کی نشانیوں (شعائر) کی تعظیم کرے، تو بیشک یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔
غریب کی مدد کرنا ایک مستحسن عمل ضرور ہے، مگر یہ مخصوص ایامِ تشریق کے لیے مقرر کردہ ربانی شعار کی جگہ نہیں لے سکتا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ وہ حج پر جانے کے بجائے وہ تمام رقم کسی یتیم خانے کو دے دے گا؛ یہ نیکی تو کہلا سکتی ہے، مگر حج کی فرضیت کسی صورت ادا نہیں ہو سکتی اور یاد رہے کہ اس صورت میں حج جیسے عظٰم فرض کے ترک کرنے کا گنا ہ بھی ہوگا۔
صدقہ اور قربانی کے درمیان ایک نہایت لطیف اور بنیادی فرق ہے۔ صدقہ انسان اپنے پاس موجود مال میں سے نکال کر اپنے دل کی سخاوت اور ہمدردی کا ثبوت دیتا ہے، جبکہ قربانی اپنے رب کے صریح حکم کے سامنے غیر مشروط اطاعت کا مظہر ہے۔ قربانی کا بنیادی ہدف محض غریبوں کو گوشت کھلانا نہیں ، بلکہ اصل مقصد اس کیفیت کو پانا ہے کہ انسان کا مال، اس کی خواہشات اور اس کا استدلال سب کچھ رضائے الٰہی کے تابع ہو جائے۔ بندگی تو نام ہی اس بات کا ہے کہ مالک جس وقت، جس انداز میں اور جو مطالبہ کرے، اسے بنا کسی تاویل اور حیل و حجت کے پورا کر دیا جائے۔
یہ شعارِ ابراہیمی دراصل جدید دور کے انسان کو یہ عظیم سبق سکھاتا ہے کہ جب ربِ کائنات کا فرمان آ جائے، تو وہاں انسانی منطق، دنیاوی معاشیات اور عقل کے تمام پیمانے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اگر عقل اور منطق کو ہی بندگی کا معیار بنایا جاتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے لختِ جگر کی گردن پر چھری رکھنے کے بجائے، شاید سینکڑوں اونٹ غریبوں میں تقسیم کر دینے کو ترجیح دیتے۔ مگر وہاں مصلحت نہیں، عشق اور تسلیم و رضا کا کٹھن امتحان تھا۔ قربانی کا یہ عمل ہمارے من میں یہ سچائی اتارتا ہے کہ سچا عشق دلیلیں نہیں تراشتا، بلکہ جب محبوب کی طرف سے کوئی تقاضا سامنے آئے، تو وہاں فقط سرِ تسلیم خم کیا جاتا ہے، کیونکہ محبت کا کمال حکم ادولی یا متبادل کی تلاش میں نہیں، بلکہ غیر مشروط خود سپردگی میں پوشیدہ ہے۔
اجتماعیت کا حسن اور ایثار کا عملی نمونہ
اسلام کا کوئی بھی عبادتی نظام صرف انفرادیت کے خول میں بند نہیں ہے، بلکہ اس کا ہر روحانی عمل کسی نہ کسی سطح پر معاشرتی فلاح اور اجتماعیت کے حسن سے گہرائی تک جڑا ہوا ہے۔ قربانی کا یہ عظیم فریضہ جہاں ایک طرف خالقِ کائنات کی بارگاہ میں تسلیم و رضا کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے، وہیں دوسری جانب یہ مخلوقِ خدا کے ساتھ ایثار اور ہمدردی کا ایک بے مثال اور عملی مظاہرہ بھی ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جب ذاتِ حق کے عشق میں بہایا جانے والا خون، معاشرے کے بکھرے ہوئے اور کٹے ہوئے طبقات کو محبت کی لڑی میں جوڑنے کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ عمل اپنی اصل میں ایک ایسی روحانی اور کائناتی ضیافت ہے جو امیر اور غریب، حاکم اور محکوم کو ایک ہی وسیع اور پرخلوص دسترخوان پر لا بٹھاتا ہے۔
مادی دنیا کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ دولت کی غیر مساوی تقسیم اور سرمایہ دارانہ ہوس نے انسانیت کو مختلف طبقات میں بانٹ کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف وہ خوشحال طبقہ ہے جس کے دسترخوان پر سارا سال نعمتوں کی فروانی رہتی ہے، اور دوسری طرف وہ مفلوک الحال افراد ہیں جن کے لیے دو وقت کی معیاری روٹی بھی کسی خواب سے کم نہیں۔ مگر قربانی کا یہ شعار اس طبقاتی تفریق کی اونچی اور بے رحم دیواروں کو یکسر گرا دیتا ہے۔ عید الاضحیٰ کے ایام میں جب اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کیے جاتے ہیں، تو معاشرے کا پس ماندہ ترین فرد بھی اسی اعلیٰ معیار کی نعمت سے لطف اندوز ہوتا ہے جو کسی صاحبِ ثروت کے حصے میں آتی ہے۔ یہ اس بات کا خاموش مگر طاقتور اعلان ہے کہ کائنات کے خزانوں پر حتمی اجارہ داری صرف پروردگار کی ہے، اور اس کی عطا کردہ نعمتوں میں غریبوں اور بے کسوں کا بھی برابر کا حصہ ہے۔
گوشت کی تقسیم کا شرعی اصول فقط ایک حسابی یا ریاضیاتی قاعدہ نہیں، بلکہ یہ رشتوں کی ڈور کو مضبوط کرنے اور اخوت بانٹنے کا ایک انتہائی خوبصورت روحانی ذریعہ ہے۔ شریعت نے قربانی کے گوشت کو تین حصوں (اپنے لیے، عزیز و اقارب کے لیے اور غرباء کے لیے) میں تقسیم کرنے کی ترغیب دے کر درحقیقت سماجی توازن کا ایک حیرت انگیز خاکہ پیش کیا ہے۔ اس حوالے سے قرآنِ حکیم کا یہ واضح فرمان انسان کے سماجی فرائض کی خوبصورت نشاندہی کرتا ہے:
فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ (سورۃ الحج)پس تم (خود بھی) ان میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں (جو مانگتے نہیں) اور مانگنے والوں کو (بھی) کھلاؤ۔
یہ آیتِ مبارکہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ قربانی کا حصہ غرباء تک پہنچانا ان پر کوئی احسان نہیں، بلکہ یہ ان کا ربانی حق ہے۔ جب ایک انسان اپنے حصے کا گوشت لے کر اپنے بچھڑے ہوئے رشتہ داروں اور غریب پڑوسیوں کے دروازے پر دستک دیتا ہے، تو وہ کوئی مادی شے نہیں بانٹ رہا ہوتا، بلکہ وہ ان کے ساتھ خوشیاں، اپنائیت اور پیار کا ہدیہ تقسیم کر رہا ہوتا ہے۔ یہ صلہ رحمی کی وہ معراج ہے جو دلوں میں جمی ہوئی برسوں کی کدورتوں کو دھو کر صاف کر دیتی ہے۔
اس مشقِ عشق کا سب سے دلفریب اور روح پرور پہلو وہ مسکراہٹ اور طمانیت ہے جو گوشت کا ہدیہ وصول کرتے وقت کسی نادار کے چہرے پر ابھرتی ہے۔ وہ یتیم بچے، جن کی آنکھیں سارا سال کسی اچھے لقمے کے لیے ترستی ہیں، جب قربانی کے ایام میں پیٹ بھر کر کھاتے ہیں، تو ان کے دل سے نکلنے والی بے ساختہ دعائیں سیدھی عرشِ اعظم کے دروازوں پر دستک دیتی ہیں۔ یہ ایثار کا وہ عملی نمونہ ہے جو انسان کو خود غرضی کے اندھیروں سے نکال کر دوسروں کے لیے جینے کا فن سکھاتا ہے۔ قربانی کی یہ اجتماعیت ہمارے قلوب میں یہ سچائی راسخ کرتی ہے کہ سچی خوشی مال کے انبار سمیٹنے میں نہیں، بلکہ اپنے خالق کی رضا کے لیے اپنی پسندیدہ متاع کو اس کی مخلوق کے ساتھ بانٹنے میں پوشیدہ ہے۔
حاصلِ قربانی اور حرفِ دعا
ایامِ تشریق کا سورج جب غروب ہوتا ہے اور قربان گاہوں سے اٹھنے والی تکبیروں کی گونج فضا میں تحلیل ہو جاتی ہے، تو ایک سطحی نگاہ کے نزدیک قربانی کا یہ فریضہ انجام پا جاتا ہے۔ لیکن دیدۂ بینا رکھنے والے اس سچائی سے بخوبی واقف ہیں کہ تکبیر کی یہ صدا صرف تین دنوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ تو انسان کی بقیہ زندگی کے لیے ایک دائمی لائحہ عمل کا اعلان ہے۔ حقیقی قربانی کا جذبہ ذوالحجہ کی بارہ تاریخ کے گزرنے پر دم نہیں توڑتا، بلکہ وہیں سے اس کٹھن اور مسلسل سفر کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے جہاں ہر مسلمان کو اپنی روزمرہ کی زندگی سنتِ ابراہیمی کا روشن پرتو بنانی ہوتی ہے۔
انسان کی عملی زندگی اصل میں قدم قدم پر برپا ہونے والی ایک قربان گاہ ہے۔ حیات کے ہر موڑ پر، ہر فیصلے میں اور ہر رشتے میں، جب نفسِ امارہ کی سرکش خواہشات اور ربِ ذوالجلال کی منشا کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہو جائے، تو اس کٹھن گھڑی میں اللہ کی رضا کو اپنی ذاتی پسند پر غالب کر دینا ہی 'روزمرہ کی قربانی' کہلاتا ہے۔ جب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو کہ بندے کا اٹھنا بیٹھنا، اس کا سونا جاگنا اور اس کی دوستی اور دشمنی خالصتاً پروردگار کی رضا کے تابع ہو جائے، تب تک بندگی کا دعویٰ سراب ہی رہتا ہے۔ سنتِ خلیل کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کے اسماعیل، یعنی اپنی سب سے عزیز دنیاوی محبت اور مفاد کو، ہمہ وقت حق کی قربان گاہ پر نچھاور کرنے کے لیے تیار رہیں۔
اس نفس کشی اور مجاہدے کا سب سے حسیں پڑاؤ وہ ہے جسے قرآنِ حکیم نے ایک سچے مومن کا ابدی شعار قرار دیا ہے۔ جب تک بندہ اس مقام پر فائز نہیں ہوتا، اس کی تسلیم و رضا کا باب نامکمل رہتا ہے۔ سورۃ الانعام میں پروردگار کا ارشادِ گرامی اس حقیقت کو یوں آشکار کرتا ہے:
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (سورۃ الانعام)آپ فرما دیجئے کہ بیشک میری نماز، اور میری ہر قربانی، اور میرا جینا، اور میرا مرنا (سب کچھ) اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
آج جب میں تسلیم و رضا کی اس لازوال تاریخ اور اس کے روحانی اسرار کو قرطاس پر بکھیرنے کی سعی کر رہا ہوں، تو میرا دل اپنی بے مائیگی اور تہی دامنی کے احساس سے لرز رہا ہے۔ لفظوں کا کیا مقدور کہ وہ عشقِ الٰہی کے اس بے کراں سمندر کا احاطہ کر سکیں، اور قلم کی کیا مجال کہ وہ ان کیفیات کو کماحقہ بیان کر سکے جو خلیل اللہ اور ذبیح اللہ کے دلوں پر گزری ہوں گی۔ اس مقام پر پہنچ کر میری روح کی گہرائیوں سے بس ایک ہی آہِ نیم شبی اور ایک ہی التجا ابھرتی ہے کہ اے پروردگارِ عالم! ہماری اس ظاہری اور ادھوری قربانی کو اپنے فضل و کرم سے شرفِ قبولیت عطا فرما۔
یا ربِ ذوالجلال! ہمارے زنگ آلود دلوں کو وہ حوصلہ اور وہ ایمانی حرارت بخش دے کہ ہم اپنی تمام تر سرکش خواہشات، انا کے مورتیوں اور دنیاوی محبتوں کو تیری رضا کے سامنے ذبح کر سکیں۔ ہمیں سنتِ ابراہیمی کا وہ سچا وارث بنا دے کہ مصلحتوں کے اس دور میں ہمارا جینا اور مرنا فقط تیری ذات کے لیے مختص ہو جائے۔ ہمارے باطن کے اندھیروں کو عشقِ حقیقی کے اس نور سے یوں منور کر دے کہ جب روزِ محشر نامۂ اعمال کھلے، تو اس میں فقط جانوروں کے خون کے دھبے نہ ہوں، بلکہ ہمارے نفس کی کامل قربانی اور تیری محبت میں کٹے ہوئے دل کی وہ گواہی درج ہو، جو ہمیں تیرے حبیب ﷺ کی شفاعت اور تیری ابدی رضا کا حقدار بنا دے۔ آمین۔
