عکس بے نام از بشری سلمان


کبھی میں حقیقت کبھی ہوں بھرم سی
کبھی میں دعا تو کبھی ہوں ستم س
کبھی میں لگوں زندگی میں خلل سی۔‌
کبھی ہوں سکوں میں خدا کے کرم س
کبھی نرم سی اک ہوا سے بکھرتی
کبھی سخت توفان میں بھی ارم سی
کبھی کوئ کہتا بہت بے رحم ہوں
کسی کو لگوں میں بہت ہی نرم سی
کبھی تو لگوں میں شرارۂ بغاوت
کبھی ہوں پرانی رواج و رسم سی
کبھی بے کلی کی مسلسل خنک میں
لگوں چین کی اک چھون میں گرم سی
جہاں بے وفائی کا میلہ لگا ہے
وہاں پہ بنوں میں وفا کے قسم سی‌‌
ادھوری کہانی لکھی تھی جو تم نے
اسی کو مکمل میں کرتی قلم سی
کبھی کچھ کہیں کچھ کبھی یہ کبھی وہ
بلا سی خلا سی سزا یا الم سی
الجھتی رہوں بس سمجھ نہ سکوں میں
ٹھہر سی گئ ہوں قدم سی صنم سی!

Post a Comment

Previous Next

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال