یومِ آزادی: جشن سے خود احتسابی تک: ہندوستان کی تاریخ، آئین، آزادی کی جدوجہد اور آزادی کے حقیقی مفہوم کا ایک جائزہ مصنفہ: فضائلہ شاہنواز


 ہر قوم کی تاریخ میں کچھ تاریخیں محض کیلنڈر کا حصہ نہیں رہتیں وہ ایک پورے عہد کی یاد، قربانیوں کی گواہی اور آنے والی نسلوں کے لیے سوال بن جاتی ہیں۔ ہندوستان کے لیے 15 اگست 1947ء بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔ یہ وہ دن تھا جب طویل نوآبادیاتی اقتدار کے بعد ہندوستان نے سیاسی آزادی حاصل کی۔ مگر آزادی کا مطلب صرف اقتدار کی منتقلی یا ایک پرچم کے اترنے اور دوسرے کے لہرانے تک محدود نہیں۔ اس کے پیچھے صدیوں کی تہذیبی تشکیل، مزاحمتوں کی ایک طویل تاریخ، بے شمار قربانیاں اور ایک ایسے مستقبل کا خواب تھا جس میں انسان اپنی شناخت، وقار اور حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

مگر آج، آزادی کے کئی دہائیوں بعد، ایک سوال پھر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔

 کیا سیاسی آزادی اپنے تمام شہریوں کے لیے حقیقی آزادی میں تبدیل ہو سکی؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ماضی کو یاد کرنا ہی کافی نہیں ہمیں تاریخ، آئین اور موجودہ ہندوستان تینوں کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔

ہندوستان کا تاریخی پس منظر: تہذیبی تسلسل سے آزادی کی جدوجہد تک

ہندوستان کی تاریخ محض بادشاہوں، جنگوں اور سلطنتوں کی تاریخ نہیں یہ مختلف تہذیبوں، زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کے صدیوں پر محیط باہمی تعامل کی داستان ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کے منظم شہری مراکز سے لے کر موریہ اور گپتا ادوار، بدھ اور جین فکری تحریکوں، دہلی سلطنت اور مغلیہ دور تک یہ خطہ مسلسل تہذیبی تغیرات سے گزرتا رہا۔

ہڑپہ اور موہنجو داڑو جیسے مراکز شہری منصوبہ بندی اور نکاسیٔ آب کے منظم نظام کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔ بعد کے ادوار میں موریہ سلطنت نے ایک وسیع سیاسی وحدت قائم کی اور اشوک کے عہد میں جنگ کے بعد رواداری اور عدم تشدد پر زور نمایاں ہوا۔ گپتا عہد میں علم، ادب، ریاضی، فلکیات اور فنون نے ترقی کی۔

قرونِ وسطیٰ میں دہلی سلطنت اور بعد ازاں مغلیہ سلطنت نے ہندوستان کی سیاسی و تہذیبی تشکیل پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ فنِ تعمیر، موسیقی، مصوری، زبان اور انتظامی نظام میں ہونے والی پیش رفت اسی طویل تہذیبی اختلاط کا حصہ تھی۔ اس لیے ہندوستانی تہذیب کو کسی ایک مذہب، سلطنت یا دور کی پیداوار قرار دینا اس کے تاریخی تنوع کو محدود کرنا ہوگا۔

اٹھارہویں صدی میں مغلیہ اقتدار کے زوال اور علاقائی طاقتوں کے ابھرنے کے درمیان ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے تجارتی مفادات کو سیاسی اقتدار میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ 1757ء کی جنگِ پلاسی کے بعد کمپنی کا اثر تیزی سے بڑھا اور بالآخر برصغیر کے وسیع حصے پر برطانوی اقتدار قائم ہوگیا۔

1857ء کی بغاوت اس اقتدار کے خلاف ایک بڑی مزاحمت تھی۔ اگرچہ یہ کامیاب نہ ہوسکی، لیکن اس نے برطانوی اقتدار کے خلاف وسیع تر مزاحمتی شعور کو نمایاں کیا۔ اس کے بعد ہندوستان براہِ راست برطانوی تاج کے زیرِ اقتدار آگیا۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں آزادی کی تحریک مختلف سیاسی، سماجی اور فکری تحریکوں کی صورت میں آگے بڑھی۔ گاندھی کی عدم تشدد کی تحریک، سبھاش چندر بوس کی جدوجہد اور متعدد دیگر رہنماؤں، تنظیموں، طلبہ، صحافیوں، خواتین اور عام شہریوں کی کوششوں نے آزادی کی تحریک کو مختلف جہتیں عطا کیں۔

بالآخر 15 اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا، مگر آزادی کے ساتھ تقسیم کا المیہ بھی آیا۔ لاکھوں انسانوں نے ہجرت، تشدد، جدائی اور بے شمار انسانی مصائب کا سامنا کیا۔ یوں آزادی کی صبح خوشی اور المیے دونوں کی یاد اپنے اندر لیے طلوع ہوئی۔

آزادی کے بعد آئین: آزادی سے جمہوری نظام تک

سیاسی آزادی کسی ریاست کی آخری منزل نہیں اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ہندوستان کے سامنے بھی یہی سوال تھا کہ آزادی کو ایک ایسے نظام میں کیسے ڈھالا جائے جو شہریوں کے حقوق اور ریاستی اداروں کی حدود متعین کرے۔

دستور ساز اسمبلی نے اس تاریخی ذمہ داری کو انجام دیا۔ ڈاکٹر راجندر پرساد اس کے صدر تھے، جبکہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی سربراہی میں قائم مسودہ کمیٹی نے آئین کی تدوین میں مرکزی کردار ادا کیا۔ تقریباً دو سال، گیارہ ماہ اور اٹھارہ دن کی بحث و تمحیص کے بعد آئین 26 نومبر 1949ء کو منظور کیا گیا اور 26 جنوری 1950ء کو نافذ ہوا۔

یہاں 15 اگست اور 26 جنوری کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ 15 اگست سیاسی آزادی کی علامت ہے، جبکہ 26 جنوری اس آزادی کے آئینی اظہار کی۔

آئین نے انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت کو جمہوری ہندوستان کی بنیادی اقدار کے طور پر پیش کیا اور شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کیے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں آزادی محض بیرونی اقتدار سے نجات کے تصور سے نکل کر شہری وقار اور حقوق کے تصور میں داخل ہوئی۔

مگر آئین کی اصل روح صرف اس کے صفحات میں نہیں، اس کی حقیقی قوت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کے اصول عام شہری کی زندگی میں محسوس ہوں۔

جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار: تاریخ کے ایک اہم باب کی بازیافت

ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کو مسلمانوں کے کردار سے الگ کرکے دیکھنا تاریخی تصویر کو نامکمل کر دیتا ہے۔ آزادی کی جدوجہد کسی ایک مذہب یا طبقے کی ملکیت نہیں تھی یہ مختلف برادریوں کی مشترکہ مزاحمت تھی، جس میں مسلمانوں نے بھی سیاسی، علمی، صحافتی، مذہبی اور عملی سطح پر نمایاں حصہ لیا۔

1857ء میں بہادر شاہ ظفر مزاحمت کی علامت بنے۔ مولوی احمد اللہ شاہ اور دیگر علماء و رہنماؤں نے بھی برطانوی اقتدار کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیا۔ بعد کے دور میں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، مولانا مظہرالحق، مولانا حسین احمد مدنی اور متعدد دیگر شخصیات نے آزادی کی تحریک میں اپنا کردار ادا کیا۔

مسلمانوں کی شرکت کو صرف چند معروف ناموں تک محدود کرنا بھی درست نہیں۔ علماء، صحافی، طلبہ، خواتین، مزدور اور عام شہری بھی اس جدوجہد کا حصہ تھے۔ کسی نے قلم کو مزاحمت بنایا، کسی نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں اور کسی نے اپنی جان قربان کی۔

ان قربانیوں کو یاد کرنا کسی دوسرے طبقے کی خدمات کو کم کرنا نہیں، بلکہ تاریخ کو اس کے تمام رنگوں کے ساتھ دیکھنا ہے۔ آزادی کسی ایک طبقے کی میراث نہیں، مگر اس کی تاریخ میں ہر شریک کا حقِ ذکر ضرور ہے۔

موجودہ ہندوستان: ترقی، امکانات اور سوالات

آزادی کے بعد ہندوستان نے سائنس، ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، معیشت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف میدانوں میں نمایاں ترقی کی۔ ایک وسیع اور متنوع ملک کی حیثیت سے اس کا جمہوری سفر بھی اپنی جگہ ایک اہم تاریخی تجربہ ہے۔

لیکن قومی ترقی کا پیمانہ صرف بلند عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی یا معاشی اعداد نہیں ہوتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے کمزور ترین فرد تک کس حد تک پہنچ رہے ہیں۔

غربت، بے روزگاری، تعلیمی محرومی، صنفی عدم مساوات، صحت کی سہولیات، سماجی تقسیم اور معاشی تفاوت جیسے مسائل آج بھی توجہ چاہتے ہیں۔ اسی طرح ہندوستان کی کثرت میں وحدت بھی اس کی بڑی طاقت ہے، مگر یہ تنوع اسی وقت قوت بنتا ہے جب مختلف مذہبی، لسانی اور ثقافتی گروہوں کے درمیان باہمی احترام اور مساوی شہری حیثیت برقرار رہے۔

اس لیے موجودہ ہندوستان کو نہ صرف کامیابیوں کے آئینے میں دیکھنا چاہیے، نہ صرف مسائل کے۔ ایک سنجیدہ قومی جائزہ دونوں حقیقتوں کو بیک وقت تسلیم کرتا ہے۔

آزادی کا حقیقی مفہوم: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

یہ شاید پورے یومِ آزادی کا سب سے اہم سوال ہے۔

اگر کسی ملک کے پاس اپنا پرچم، حکومت اور سرحدیں ہوں، مگر اس کا کوئی شہری خوف، بھوک، جہالت، تعصب یا ناانصافی کے باعث اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو، تو سیاسی آزادی کے ساتھ ساتھ انسانی آزادی کے تصور پر بھی غور ضروری ہوجاتا ہے۔

آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جو چاہے کرے حقیقی آزادی ذمہ داری کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ میری آزادی وہاں تک ہے جہاں سے دوسرے انسان کے حق، عزت اور آزادی کی پامالی شروع نہ ہو۔

اسی طرح اختلافِ رائے جمہوریت کا دشمن نہیں اختلاف کو برداشت نہ کرنا جمہوری شعور کی کمزوری ہے۔ ایک مضبوط معاشرہ مخالف آواز کو دبانے کے بجائے اسے سننے، سمجھنے اور دلیل کے ساتھ جواب دینے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

تعصب بھی غلامی ہے، نفرت بھی غلامی ہے اور بغیر تحقیق کے جھوٹی اطلاعات کو قبول کرنا بھی ذہنی غلامی کی ایک صورت ہے۔ حقیقی آزادی صرف بیرونی اقتدار سے نجات نہیں بلکہ اپنے اندر موجود تعصبات اور نفرتوں سے نجات بھی ہے۔

اسی لیے 15 اگست ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ 1947ء میں ہم نے آزادی حاصل کی تھی، مگر کیا ہم نے آزادی کے شعور کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنایا؟

 آزادی ایک جشن نہیں، ایک ذمہ داری ہے

15 اگست ہمیں ماضی کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، مگر اس کا اصل مقصد ماضی میں ٹھہر جانا نہیں، ماضی سے اپنے حال کی سمت متعین کرنا ہے۔

آزادی ہمیں ایک آزاد ریاست کی صورت میں ورثے میں ملی، آئین نے اسے اصول اور سمت عطا کی، اور اب اس کی روح کو زندہ رکھنا موجودہ نسل کی ذمہ داری ہے۔ یہ ذمہ داری صرف حکومت یا اداروں کی نہیں؛ ہر شہری کی ہے۔

ہمیں ایسا ہندوستان درکار ہے جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے، مذہب شناخت کے احترام میں رکاوٹ نہ ہو، تعلیم مراعات یافتہ طبقے تک محدود نہ رہے، انصاف طاقت کی تابع داری نہ کرے اور کسی انسان کی عزت اس کی شناخت سے مشروط نہ ہو۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ وطن سے محبت صرف ترانہ پڑھنے، پرچم لہرانے یا جشن منانے کا نام نہیں۔ وطن سے حقیقی محبت یہ ہے کہ ہم اس کے آئینی اصولوں، شہری آزادیوں، انسانی وقار اور اجتماعی امن کی حفاظت کریں۔

آزادی کی سب سے خوب صورت تصویر وہ نہیں جس میں صرف پرچم بلند ہو بلکہ وہ ہے جس میں پرچم کے ساتھ انسان کا سر بھی بلند ہو، آئین کے ساتھ ضمیر بھی بیدار ہو، اور ترقی کے ساتھ انسانیت بھی آگے بڑھے۔

اس یومِ آزادی پر شاید ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم آزاد ہیں بلکہ خود سے یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم اپنی آزادی کو انصاف، شعور، مساوات، اخوت اور انسانیت کے ذریعے آنے والی نسلوں تک منتقل کریں گے۔

کیونکہ آزادی ایک دن میں حاصل ہونے والی تاریخ ہے، مگر اسے زندہ رکھنا ہر دن ادا کی جانے والی ذمہ داری۔


Post a Comment

Previous Next

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال