کیسے نظر انداز کروں؟ از قلم شمائلہ زیب


کچھ اَن کہی باتیں، کچھ اَن کہی داستانیں، کچھ پردوں میں چھپے چہرے، بھلا کیسے نظر انداز کروں ۔۔۔
کسی کی جوانی پہ بے جان دھبے، کسی کی عمر بھر کی مسافت، اس رنگ برنگی دنیا کو کیسے نظر انداز کروں۔۔
ہر منظر سے گزرے تو کئی چہرے بے نقاب ہوئے۔ ایسی باتیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں اور گہری چپ کے سہارے زندگی گزار دیتے۔
میں بات کر رہی ہوں ایک ایسے قانونی نظام کی جس میں رہتے ہوئے کسی کو بھی کوئی انصاف نہیں ملا۔
افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ایک ایسا نظام جو انصاف اور اصول و ضوابط کے مجموعے سے مل کر بنا ہے، اسی قانون سے کبھی مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا نہیں ملی۔
مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے کی خاطر جو قانون بنایا گیا، دراصل وہی مظلوموں کی آوازوں کو دبانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
معذرت کے ساتھ، اسی لیے اسے 'اندھا قانون' کہہ کر پکارا جاتا ہے۔
حقیقت دیکھی جائے تو اسے قانونی دور کم اور پیسے، جبر اور اثر و رسوخ کا دور کہنا زیادہ بہتر ہے۔
سیاست دان سیاست چمکا رہے ہیں، قانون پیسے کی دھن میں اندھا ہو کر اپنی ٹھاٹ باٹ اور نوکریاں بچا رہا ہے اور حکمران سات پردوں میں عوام اور قانون کو اپنی انگلیوں پر نچا رہے ہیں۔ اور عوام کی خون پسینے کی کمائی سے عوام پر ہی ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں۔
قانون کو نظر انداز کروں تو حکمرانوں کی کارکردگی سامنے آ جاتی ہے۔
بھلا قانون، سیاست اور ہمارے معزز حکمرانوں کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے جو کہ اس نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ظلم کے نام پر لوٹ مار، نوکریوں کے نام پر لوٹ مار، خرید و فروخت پر لوٹ مار، کیسے نظر انداز کروں۔۔۔
اسکول، کالج، یونیورسٹی بس نام کے تعلیمی ادارے ٹھہرے۔ فیسیں اور داخلے اس حد تک بڑھا دیے گئے کہ لوگوں کو مقروض کر دیا گیا، مگر پڑھائی زیرو۔۔۔
نہ جانے کتنوں نے اعلیٰ تعلیم کے خواب مارے ہوں گے کیونکہ اگر 40 فیصد امیر ہیں تو 60 فیصد غریب بھی ہیں۔ اگر غریبوں کے بچوں کے پاس پڑھائی کے پیسے نہیں ہوں گے تو وہ نوکری کیسے کریں گے؟ آخر غریب نے گھر بھی چلانا ہوتا ہے۔ جہاں امیروں کی بات کی جائے تو ان کا دماغ پہلے سے کاروباری بنا ہوتا ہے، وہ اگر نوکری نہ بھی کریں تو ان کے آباء و اجداد کا پس منظر اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ ان کا زیادہ تر رجحان کاروبار کی طرف ہوتا ہے جو کہ ایک عام غریب کا بچہ نہیں کر سکتا۔ چونکہ ان کے پاس آمدنی کا کوئی بڑا ذریعہ نہیں ہوتا، اس لیے وہ پڑھائی پر زور دیتے ہیں اور نوکری کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ یہی سوچتے ہیں کہ اگر ہم نوکری کریں گے تو ہمارے پاس وسائل پیدا ہوں گے اور آگے ہم کاروبار کر سکیں گے۔
یہاں ہمارے تعلیمی اداروں کے معزز لوگ تعلیم کے نام پر طلباء کو لوٹ رہے ہیں۔
اور پھر تعلیم کا معیار اتنا طویل کر دیا گیا ہے کہ جب تک تعلیم پوری ہوتی ہے، نوکری اور شادی جو کہ زندگی کا اہم حصہ ہیں، وہ ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔ اگر سرکاری نوکری کی بات کی جائے تو طالب علم کسی طرح تعلیم مکمل کرنے کے بعد سرکاری نوکری کے لیے اپلائی کرتا ہے، تو وہ ایک الگ سیاسی ڈرامہ ہے۔۔۔
یہ مصنفہ کے لیے باتیں نظر انداز کرنے والی نہیں۔
سرکاری نوکری کا اتنا ہائی میرٹ اور ایسا ٹیسٹ کرائٹیریا کہ لوگ کسی طرح بھی پاس نہ کر سکیں، اور ماشاءاللہ سے سرکاری نوکری کی فیس اتنی زیادہ کہ ہر کوئی اپلائی بھی نہ کر سکے۔ اس میں بھی ہزاروں لوگ ایک امید لگا کر اپلائی کر ہی دیتے ہیں، اور ہوتا کیا ہے؟ سفارشیں۔۔ رشوت۔
ٹیسٹ میں سے سفارش، پھر ٹیسٹ پاس کر کے انٹرویو میں رشوت اور سفارش۔
جب ہزاروں لوگ اپلائی کرتے ہیں اور 200 میں سے 100 سلیکٹ ہوتے ہیں تو کمایا کس نے؟ حکومت نے۔
سب سے زیادہ تو طلباء ہی حکومت اور قانون کی زد میں ہیں۔ کیا یہ باتیں نظر انداز کی جا سکتی ہیں؟
جہاں معاملات حکومت کے ہاتھ سے نکلتے ہیں وہاں قانون اپنا کام کر دیتا ہے۔ آواز اٹھانے والے کے خلاف قانونی کارروائی شروع کروا دی جاتی ہے کیونکہ سچ سننا کسی کو قبول ہے نہ سننا برداشت۔
جو کوئی حکومت اور قانون کو جان لیتا ہے وہ جان سے جاتا ہے۔
آواز اٹھانے والوں کی آوازیں چھین لی جاتی ہیں۔
کیا یہ سب نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
کئی نوجوانوں کی تعلیمی اداروں میں خودکشی کی وجہ۔۔ ذہنی دباؤ، اساتذہ کی بدسلوکی اور اداروں کی غیر ذمہ داری ہے۔
ایک اور سمت جاؤں تو اندھے قانون کی بہت بڑی دلیل یا ثبوت۔۔۔
ریپ کیسز، ہراسمنٹ آخر کیوں؟؟؟؟
ایک بہت بڑا سوالیہ نشان۔
نومولود سے جوان بچیاں بلکہ بوڑھی عورتیں، ایک عورت ہی نشانے پر کیوں؟
کیونکہ وہ بہن ہے، ماں ہے، بیوی ہے لیکن اپنی نہیں۔۔ رائٹ؟
کیوں ایسے اہم موضوعات کو دبایا جاتا ہے؟ کیوں ان پر قانون حرکت میں نہیں آتا؟ کیوں کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا؟ کیا اپنی ماں بہن نہیں اس لیے؟
کیوں کسی کی ماں، بہن، بیٹی کا دکھ اپنا نہیں سمجھا جاتا؟
کسی منسٹر کی بیٹی ہو تو گھنٹوں میں ظالم کی گردن پہ قانون کا ہاتھ ہوتا ہے اور وہ سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے، کیوں؟
کیونکہ بڑی رقم خزانے میں آتی ہے اس لیے۔۔ اور غریب کی بچی اس لیے ہاتھ پھیلائے رہ جاتی ہے کیونکہ اس کے ہاتھ خالی ہیں۔۔۔
ہمارے قانون میں ظالم کو پھانسی کیوں نہیں؟ آخر کس بات کا ڈر؟؟؟؟؟؟
کیوں سرِ عام پھانسی نہیں دی جاتی؟
کیوں مظلوم کی چیخ و پکار سنی نہیں جاتی؟
خودکشی کرنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور ان میں زیادہ تر کی عمر 20 سے 30 سال ہے، کیونکہ یہ وہ عمر ہے جس میں انسان کو سپورٹ، محبت، خیال اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
امتحانات میں درجات (نمبرز) کم ہونے کی وجہ سے خودکشی۔۔
احساسِ کمتری کی وجہ سے خودکشی۔۔
ریپ کیس میں خودکشی۔۔
محبت میں ناکامی پر خودکشی۔۔۔
نوکری نہ ملنے اور مسلسل بے روزگار رہنے پر خودکشی۔۔۔
اخراجات پورے نہ کر سکنے پر خودکشی۔۔۔
اور کچھ ایسے ہیں جو حکومت کی وجہ سے خودکشی کرتے ہیں۔۔
ہمارا معاشرہ ہر بات پہ عورت پر انگلی اٹھاتا ہے، اسے ہی ہر جگہ غلط ثابت کرتا ہے، تو آپ بتائیں ۔۔۔۔ کیا ننھی نومولود بچیوں نے مردود مردوں کو اپنی طرف متوجہ کیا؟
کیا 18 اور 3 ماہ کی بچیاں چھوٹے کپڑے پہنے بے حیائی پھیلا رہی تھیں؟
کیا وہ خود ہراساں ہو کر مرنا چاہتی تھیں؟
کیوں ان درندوں کو سزا نہیں؟
کیوں ان درندوں پہ رحم؟؟؟؟
ان بچیوں پہ نہیں؟؟؟؟
اگر ایک کو سرِ عام پھانسی دی جاتی تو شاید حکومت کے اس فیصلے سے نا جانے کتنی بچیوں اور بیٹیوں کی جان اور عزت محفوظ رہتی۔
در حقیقت ہماری حکومت اور حکمران ان کے قاتل ہیں۔
ٹیکسز، بلز، رینٹس کہاں سے بھریں جب ذریعہ معاش ہی نہیں؟ آج کل روٹی پانی پورا کرنا بھی مشکل ہو گیا اور زندگی اتنی تنگ پڑ گئی کہ لوگوں نے حالات سے تنگ آ کر خودکشی کرنا اور خود کو تکلیفوں سے آزاد کرنا بہتر عمل سمجھا۔
معاشرہ قاتل ہے ان لوگوں کا جنہوں نے زندگی ختم کرنا بہتر سمجھا۔
کوئی انسان بھی دراصل مرنا نہیں چاہتا لیکن معاشرہ اسے اس عمل پر مجبور کر دیتا ہے۔
اب ذرا بات کرتی ہوں ان لوگوں کی، کچھ ہٹ کے، جو خود کو نہایت مکمل اور اپنی ذات میں انتہا درجے کا بہترین سمجھتے ہیں۔
جنہیں یہ لگتا ہے کہ وہ جو کر رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں وہی بہترین عمل ہے۔
ہاں میں بات کر رہی ہوں ان محترم والدین کی جو اپنی بات کو بجا سمجھتے ہیں۔ ان کا قانون الگ ہے، مذہب الگ، ان کی اپنی ایک دنیا ہے، اپنی ایک سائیکی ہے۔ وہ یہ کہ ماں باپ غلط نہیں ہو سکتے۔
ٹھیک ہے، مصنفہ اتفاق کرتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر بار وہ ٹھیک بھی ہوں کیونکہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اور انسانوں میں ماں باپ کا بھی شمار ہوتا ہے۔
میں شمائلہ زیب بطور آرٹیکل رائٹر آج صرف ایک سوال کرنا چاہوں گی ان والدین سے جو پسند کی شادی کے سخت خلاف ہوتے ہیں اور اپنے بچوں سے ان کا حقیقی حق اور خوشیاں چھینتے ہیں۔
جبکہ صاف الفاظ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرما دیا جو کہ بے شک اللہ کے محبوب ہیں:
"ہم نے دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح جیسی بہترین اور کوئی چیز نہیں دیکھی۔"
اور اسی حوالے سے ایک واقعہ بیان کرتی چلوں اور امید ہے کہ اس کے بعد شاید بہتر طریقے سے سمجھ آ جائے۔
(واقعہ حضرت خنساء بنت خذام الانصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا)
ان کے والد نے ان کا نکاح زبردستی ایک ایسے شخص سے کر دیا تھا جو ان کو پسند نہیں تھا۔
وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور سارا واقعہ بیان کیا۔
نبی ﷺ نے فوراً اس نکاح کو منسوخ کر دیا اور فرمایا:
"تمہیں اختیار ہے، جس سے چاہو نکاح کرو۔"
اس کے بعد انہوں نے اپنی پسند سے نکاح کیا۔
اس حدیث سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں بالغ لڑکی کی رضامندی کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔
اس واقعے سے اندازہ لگائیے کہ خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے زبردستی کی شادی تڑوا کر اس لڑکی کا اس کی مرضی کے مطابق نکاح کروایا، تو آپ خود سوچیے کیا آپ خدا اور رسول سے (نعوذ باللہ) اونچا درجہ رکھتے ہیں؟
یا ان کی بات کو رد کر کے اپنی بات کو ترجیح دے سکتے ہیں؟
اگر تو آپ واقعی خدا اور رسول کو ماننے والے ہیں تو آپ رکاوٹ نہیں بنیں گے۔
اب آتے ہیں ان لوگوں کی طرف جہاں ہر کوئی بے جھجک ایسے سوال کرتا ہے جیسے ہماری زندگی کا ٹھیکہ انہوں نے لیا ہو اور ہم ان کے ٹکڑوں پر پل رہے ہوں، یعنی ان کے کندھوں پر بوجھ ہوں۔
جاب کیوں نہیں کرتی؟
اتنا پڑھ لکھ کر کیا کرو گی، جبکہ گرہستی ہی سنبھالنی ہے؟
کب کر رہی ہو شادی؟
طلاق کیوں ہو گئی؟
بچے کیوں نہیں ہو رہے؟
ان سب باتوں پہ سوال کرنے کا حق کس نے دیا؟
ہر جسم میں جان ڈالنے والی ذات اللہ کی ہے تو پالنے والی بھی وہی ہے اور بے شک فیصلہ کرنے والی بھی وہی ہے۔
کوئی بھی جان بوجھ کر بیوہ نہیں ہوتی۔
کوئی لڑکی یہ نہیں چاہتی کہ اس کی شادی نہ ہو۔
کوئی اپنی مرضی سے بے اولاد نہیں بیٹھی۔
کچھ بھی انسان کے اپنے ہاتھ میں نہیں۔
پھر سوالیہ نشان کیوں؟
اپنی زندگی سے بڑھ کر اکثر لوگ دوسروں کی زندگی میں مداخلت کیوں کرتے ہیں آخر؟
کچھ سوال انسان کے منہ پر تھپڑ کی مانند ہوتے ہیں۔ گزارش ہے کہ کسی کے منہ پہ تماچے مارنے سے پہلے خود پر نظر ثانی کر لیں اور ایسے سوالات سے گریز کریں۔
آپ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ آپ کسی کی ذات پر سوال اٹھائیں۔
دوسروں کو ان کی خامیاں بتانا اور تکلیفوں کو اُجاگر کرنا بند کریں۔
نہ تو آپ نے کسی کی شادی کے اخراجات اٹھانے ہیں۔
نہ کسی کی تعلیم کے اخراجات اٹھانے ہیں۔
نہ کسی نے کما کر آپ کو دینا ہے۔
دوسروں کی زندگی کے فیصلے کرنا چھوڑیے اور اپنے آپ پر توجہ دیجئے کیونکہ کوئی بھی انسان خامیوں یا کمیوں کے بغیر پیدا نہیں ہوا، مکمل ذات صرف خدا کی ہے۔
کچھ ان لوگوں کی طرف چلتے ہیں جو بظاہر دنیا والوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
اصل میں ہوتا کچھ ہے اور بظاہر دنیا والوں کو دکھایا کچھ اور جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پہ ہر کوئی خود کو ایسے پیش کرتا ہے جیسے ان کی زندگی خوشحال اور پرسکون ہے، ان سے بہترین زندگی کوئی اور نہیں گزار رہا۔ اور ان کو دیکھ کر ہر کوئی احساسِ کمتری اور کمی کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے کہ شاید یہی لوگ ہیں جو اپنی زندگی بھرپور طریقے سے گزار رہے ہیں۔ حالانکہ ایسا کچھ نہیں، ہر ایک انسان کی زندگی میں اونچ نیچ لگی رہتی ہے۔
آج ہر کوئی موبائل کی سکرین پر بادشاہ لگتا ہے۔
کسی کے گھر مہنگے کھانے، کسی کی نئی گاڑی، کسی کی "پرفیکٹ" شادی کی تصویریں۔
ہم دیکھتے ہیں اور اپنا دل چھوٹا کر لیتے ہیں۔
لیکن حقیقت کیا ہے؟
انسٹاگرام پر جو مسکراہٹ ہے، ہو سکتا ہے اس کے پیچھے آنسو ہوں۔
جو "پرفیکٹ فیملی" کی تصویر ہے، ہو سکتا ہے شام کو اسی گھر میں لڑائی ہو۔
شاید سب سے زیادہ تنازعات انہی کے گھر میں ہوں۔
جو کامیابی دکھا رہا ہے، ہو سکتا ہے وہ رات بھر قرض کا سوچ کر سویا ہو۔
ہم 30 سیکنڈ کی ریل دیکھ کر اپنی پوری زندگی کا موازنہ کر لیتے ہیں۔
اور پھر خود کو ناکام سمجھ کر ٹوٹ جاتے ہیں۔
زندگی بہت چھوٹی ہے، بجائے اس کے کہ ہم اسے دوسروں کی سوچ میں ضائع کر دیں، اپنے لیے بہترین سوچیں، خود کو ترجیح دیں، اور خود میں سکون تلاش کریں۔
جو تمہاری قدر نہیں کرتا، اسے نظر انداز کر دو۔
جو تمہیں گرا رہا ہے، اس سے فاصلہ کر لو۔
اور جو تمہیں اللہ نے دیا ہے اس پر شکر کرو۔
کیونکہ آخر میں آپ کے ساتھ آپ کا ضمیر اور آپ کا رب ہوگا، لوگ نہیں۔
ختم شد

Post a Comment

Previous Next

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال