خلوت بمقابلہ جلوت: تنہائی کے پوشیدہ گناہ اور اجتماعیت کے تقاضے راشدامین



انسان فطرتاً ایک سماجی خلیق ہے۔ صدیوں سے اس کی بقا اور خوشی کا انحصار قبیلے، خاندان اور محفلوں پر رہا ہے۔ لیکن دورِ حاضر کا سب سے بڑا اور خاموش المیہ یہ ہے کہ انسان نے ہجوم کے اندر رہ کر بھی خود کو ایک جزیرے میں قید کر لیا ہے۔ آج کا انسان بھری محفل میں بھی تنہا ہے، اور اس تنہائی نے خلوت اور جلوت کے قدیم تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
آج کے دور میں اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ وہ تنہا رہنا کیوں پسند کرتا ہے، تو شاید وہ ”ذہنی سکون“ کا بہانہ بنائے گا۔ لیکن اس رجحان کی سب سے بڑی اور حقیقی وجہ وہی سستا انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون ہے جس کا ذکر ہم ڈیجیٹل انقلاب کے حوالے سے کر چکے ہیں۔پہلے دور میں تنہائی کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی، انسان بات کرنے کے لیے کسی دوسرے انسان کو ڈھونڈتا تھا۔ لیکن آج؟ آج جب انسان کے ہاتھ میں اسمارٹ فون اور سستا ڈیٹا موجود ہو، تو اسے کسی دوسرے انسان کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ اس کے ہاتھ میں ایک ایسی جادوئی کھڑکی ہے جہاں سے وہ پوری دنیا جھانک سکتا ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ:
اجتماعیت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کے لیے ایک قدرتی 'سوشل پریشر' اور اخلاقی پہرے دار کا کام کرتی ہے۔ جب آپ ڈرائنگ روم میں خاندان کے بزرگوں یا بچوں کے درمیان بیٹھے ہوتے ہیں، تو یہ رشتوں کا لحاظ اور معاشرتی دباؤ آپ کو بے شمار گناہوں اور لغویات سے بچا لیتا ہے۔ آپ محفل میں بیٹھ کر نہ تو بے ہودہ مناظر دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کر سکتے ہیں۔ یہ خاندانی نظام انسان کو خود بخود گناہوں سے دور رکھتا ہے۔
دوسری جانب، اجتماعیت کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ محفلوں میں وقت کا بے تحاشا ضیاع ہوتا ہے۔ دوستوں کی بیٹھک اکثر غیبت اور فضول بحثوں کا گڑھ بن جاتی ہے۔ اور اگر بدقسمتی سے صحبت بری ہو، تو انسان نہ چاہتے ہوئے بھی ان برائیوں کا حصہ بن جاتا ہے جو اس کے مزاج کا حصہ نہیں ہوتیں۔
اسی طرح تنہائی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان فضول بحثوں، غیبت اور معاشرتی منافقت سے بچ جاتا ہے۔ وہ اپنے کام، مطالعے اور مقاصد پر پوری توجہ دے سکتا ہے۔ لیکن آج کی تنہائی ماضی کے صوفیاء والی تنہائی نہیں رہی۔ آج جب ایک انسان کمرہ بند کر کے اکیلا ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ میں سستے انٹرنیٹ والا فون ہوتا ہے، تو یہ تنہائی اس کے نفس اور شیطان کے لیے سب سے مہلک ہتھیار بن جاتی ہے۔
یہ ایک انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ لوگ فیملی ممبرز اور جماعت کے ساتھ رہتے ہوئے جن گناہوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے، اکیلے پن میں وہ گناہ انتہائی بے باکی سے سرزد ہو جاتے ہیں۔ بند کمرے اور موبائل اسکرین کی تاریکی میں انسان کو لگتا ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا۔ یہ تنہائی اسے وہ سب دیکھنے، سننے اور کرنے کی جرات دیتی ہے جو وہ بھری محفل میں کبھی نہ کرے۔ علامہ اقبال نے شاید ایسے ہی کھوکھلے خلوت نشینوں کے لیے کہا تھا:
خرد نے کہہ بھی دیا لا إلہٰ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
اسلام دینِ فطرت ہے اور اس نے خلوت و جلوت کا ایک انتہائی خوبصورت اور متوازن تصور دیا ہے۔ شریعت میں رہبانیت کی سخت ممانعت ہے۔ اسلام معاشرے میں رہ کر، حقوق العباد ادا کر کے نیک بننے کا نام ہے۔
مشہور حدیثِ مبارکہ ہے کہ:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ، وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ، وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ“ (سنن ابن ماجہ)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مومن جو لوگوں میں گھل مل کر (میل جول رکھ کر) رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے، اس کا اجر اس مومن سے کہیں زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے اور ان کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرتا۔“
البتہ شریعت یہ بھی سکھاتی ہے کہ اگر فتنوں کا دور ہو اور اجتماعیت میں ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو، تو انسان کو چاہیے کہ اپنی خلوت کو محفوظ بنائے۔ لیکن یاد رہے، کمرے میں بیٹھ کر موبائل پر پوری دنیا کی غلاظت کو دیکھنا شریعت کی مطلوبہ خلوت نہیں، بلکہ یہ تو فتنوں کے عین مرکز میں کودنا ہے۔ حقیقی خلوت وہ ہے جہاں انسان اپنے رب کے ساتھ تنہا ہو۔
اگر ہم آج کے نیوز پورٹلز اور میڈیکل جرنلز پر نظر ڈالیں تو رونگٹے کھڑے کر دینے والے حقائق سامنے آتے ہیں۔ طبی رپورٹس چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ تنہائی اور اسمارٹ فون کے بے جا استعمال نے نوجوان نسل کو تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا ہے۔
آج کل اخبارات میں جرائم سے زیادہ 'ڈپریشن،اینگزائٹی اور ایڈکشن کی خبریں چھپتی ہیں۔ جب انسان اکیلا ہوتا ہے اور ورچول دنیا سے اپنی حقیقی زندگی کا موازنہ کرتا ہے، تو وہ شدید احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ نفسیاتی امراض کے کلینکس آج ان نوجوانوں سے بھرے پڑے ہیں جو ہزاروں فیس بک فرینڈز رکھنے کے باوجود حقیقی زندگی میں تنہا اور بیمار ہیں۔
تنہائی اور اجتماعیت، دونوں کے اپنے تقاضے ہیں۔ ہمیں ان دونوں کے درمیان ایک شعوری توازن قائم کرنا ہوگا۔ اگر ہم گناہوں اور نفسیاتی بیماریوں سے بچنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے دن کا ایک بڑا حصہ افرادِ خانہ، دوستوں اور اپنوں کے درمیان گزارنا ہوگا۔ اور جب ہم تنہائی میں جائیں، تو ہمارا موبائل فون محفل میں ہی رہ جانا چاہیے۔ کیونکہ جو تنہائی انسان کو اس کے رب سے جوڑنے کے بجائے، اسے اسکرین اور نفس کا غلام بنا دے، وہ خلوت نہیں بلکہ روحانی موت ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی حقیقی محفلوں کو دوبارہ زندہ کریں، اس سے پہلے کہ ہم ڈیوائسز کے ہجوم میں مکمل طور پر اپنی انسانیت کھو بیٹھیں۔

إرسال تعليق

أحدث أقدم

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال