فکرِ مسودہ، غمِ طباعت، سوالِ قارئین, اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے! راشدامین

احبابِ گرامی! اس بزم سے ہماری طویل غیر حاضری کو ہماری بے رخی یا کج ادائی ہرگز نہ سمجھا جائے۔ سچ پوچھیے تو آج کل کچھ ایسا حال ہے کہ:

فرصتِ کارِ جہاں کس کو ہے، ہم کو بھی نہیں
وقتِ نظارہ کہاں کس کو ہے، ہم کو بھی نہیں
دراصل جب سے ہم نے اشاعت کا یہ کارواں، یعنی ”قرطاس پبلیکیشنز“شروع کیا ہے، مصروفیات نے چاروں طرف سے ایسے گھیر لیا ہے کہ سر کھجانے کی فرصت نہیں۔ چونکہ ہمارا یہ مکتبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اس لیے ابتدا سے لے کر انتہا تک کے تمام فرائض اپنے ہی ناتواں کندھےپر ہیں۔
ذرا اندازہ لگائیے! کوئی مسودہ موصول ہو تو پہلے اس کی نوک پلک سنوارنا اور اسے اشاعت کے قابل بنانا، پھر سرورق کی تزئین و آرائش کے لیے گرافکس کے سمندر میں غوطے لگانا۔ اس کے بعد پریس والوں سے طباعت کی لاگت پر مغز ماری اور فائلیں بھیجنے کا مرحلہ۔ قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا؛ کتاب چھپ کر آ جائے تو اسے بکنگ کے حساب سے پیک کرنا، پتے لکھنا، ڈاک خانے کے چکر کاٹنا اور پارسل روانہ کرنا۔
اور ہاں! سب سے کٹھن مرحلہ تو خریداروں کو ٹریکنگ آئی ڈی بھیجنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ان کے پل پل آنے والے محبت بھرے، مگر بے تاب پیغامات کہ ”بھائی جان! ہماری کتاب کب تک پہنچے گی؟“ ان سب کا خندہ پیشانی سے جواب دینا اور تسلیاں دینا کہ ”حضور! صبر کیجیے، آپ کی امانت آپ تک ضرور پہنچے گی،“ یہ سب وہ کام ہیں جنہوں نے ہمیں لکھنے سے دور رکھا۔
لیکن ذرا ٹھہریے! یہ کوئی شکوہ نہیں ہے۔ فکری اور نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو جب کام کا بوجھ بڑھ جائے اور آپ کے آرام و سکون میں خلل آنے لگے، تو اس پر کڑھنے کے بجائے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ کیونکہ کام نہ ہونے کی صورت میں جو بے چینی، وحشت اور ڈپریشن ہوتا ہے، وہ اس تھکاوٹ سے ہزار درجے زیادہ اذیت ناک ہے۔لہذا اس مصروفیت کو غنیمت جاننا ہی دانشمندی ہے کہ انسان کسی مثبت کام میں الجھا ہوا ہے۔
الحمدللہ، اس بھاگ دوڑ کا ثمرہ بھی خوب مل رہا ہے۔ پری آرڈر مکمل ہونے کے بعد بھی طلب میں کمی نہیں آئی۔ پچھلے دنوں ایک بڑا دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ لکھنؤ ندوۃ العلماء میں عشاء کے بعد برادرم عمار الحق نے ہماری کتابوں کا ایک چھوٹا سا اسٹال لگایا اور دیکھتے ہی دیکھتے 44 نسخے ہاتھوں ہاتھ نکل گئے۔ اب تک صرف ندوہ میں 60، 70 سے زائد نسخے طلبہ اور اساتذہ تک پہنچ چکے ہیں۔
مزید برآں، مختلف بک اسٹورز کی جانب سے بھی بلک آرڈرز آ رہے ہیں۔ کوئی دس، بیس کا تقاضا کر رہا ہے تو کوئی اتنے جوش میں ہے کہ فرمائش کر رہا ہے: ”دو پیکیٹس میں، یا پانچ پانچ کلو کے پارسل میں جتنی کتابیں آتی ہیں، بس بھیج دیں!“ یہ الگ بات ہے کہ کتابیں سبزی منڈی کے بھاؤ نہیں ملتیں، مگر علم کی پیاس کا ترازو اور ہی ہوتا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس دوران قرطاس پبلیکیشنز کی دیگر کتابیں بھی خوب سفر کر رہی ہیں۔
خیر بہر حال! اگر آپ ابھی تک اس علمی اور فکری سفر سے محروم ہیں، تو جان لیجیے کہ کتاب ابھی بھی اسٹاک میں موجود ہے۔اپنی کاپی ضرور حاصل کریں۔
کتاب: اسلاموفوبیا: نفرت کے بیانیے، حکمت کا پیغام
مصنف: راشد امین
فہرست ملاحظہ فرمائیں:

عام قیمت: 450 روپے
رعایت، ترسیل اور دیگر تفصیلات کے لیے آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں، بس نیچے دیے گئے لنک پر ایک کلک کیجیے اور سیدھے ہمارے واٹس ایپ پر تشریف لائیے:
واٹس ایپ پر رابطہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں:
دعا ہے کہ یہ کتاب آپ کے علمی ذوق کی تسکین کا باعث بنے۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا!

إرسال تعليق

أحدث أقدم

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال