ماخوذ از پیش لفظ (اسلاموفوبیا: نفرت کا بیانیہ حکمت کا پیغام) استاد محترم ڈاکٹر مفتی محمد اعظم ندوی صاحب

ماخوذ از پیش لفظ (اسلاموفوبیا: نفرت کا بیانیہ حکمت کا پیغام)
استاد محترم ڈاکٹر مفتی محمد اعظم ندوی صاحب
مغرب میں اسلام سے خوف کوئی نئی کیفیت نہیں، بلکہ ایک تاریخی تسلسل کا حصہ ہے، ان کے نزدیک جب ”خطرۂ سرخ“ یعنی اشتراکیت کا زوال ہوا اور ”خطرۂ زرد“ یعنی چینیوں اور جاپانیوں کی شدت کم ہوئی تو اسلام کو ”خطرۂ سبز“ کے عنوان سے پیش کیا جانے لگا، اس تعبیر میں محض سیاسی خدشات نہیں بلکہ اسلام کی اس تہذیبی اور روحانی قوت کا اعتراف بھی پوشیدہ ہے جو مختلف زمانوں میں انسانوں کے دلوں کو فتح کرتی رہی ہے، اسلام کی عالمگیریت، اس کی مبنی بر عقائد وحدت، امت کا تصور، حج کے عظیم اجتماع، اخوتِ اسلامی کی طاقت، اور ظلم واستعمار کے مقابلے میں اس کی مزاحمتی روح نے ہمیشہ ان قوتوں کو متوجہ کیا جو دنیا کو اپنی فکری اور تہذیبی عینک سے دیکھنے کی عادی رہی ہیں۔
اسلام کا اصل امتیاز اس کی تعداد میں نہیں بلکہ اس کی حیات آفریں قوت میں ہے، یہی وہ دین ہے جو مختلف نسلوں، زبانوں، قومیتوں اور جغرافیوں کے انسانوں کو ایک عقیدے، ایک قبلے اور ایک مقصد پر جمع کر دیتا ہے، یہی وہ قوت ہے جس نے نوآبادیاتی ادوار میں آزادی کی تحریکوں کو روح بخشی، یہی وہ جذبہ تھا جس نے الجزائر، لیبیا، سوڈان، مراکش، بھارت اور افغانستان جیسے خطوں میں انستعمار کے مقابلے میں مزاحمت کی شمع روشن رکھی، مغربی مفکرین، سیاست دانوں اور مستشرقین کے بہت سے اقوال اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کے خوف کا سرچشمہ اسلام کی عسکری قوت سے زیادہ اس کی فکری، اخلاقی اور اجتماعی توانائی تھی۔
تاہم اسلام کا جواب ہمیشہ خوف کے مقابلے میں خوف، نفرت کے مقابلے میں نفرت اور تعصب کے مقابلے میں تعصب نہیں رہا، قرآن مجید نے تعارف، مکالمہ، عدل اور احسان کو انسانی تعلقات کی بنیاد قرار دیا، جبکہ رسول اللہﷺ نے مخالف ترین ماحول میں بھی حکمت، صبر، حسن اخلاق اور اعلیٰ کردار کے ذریعے دلوں کو مسخر کیا، یہی وجہ ہے کہ اسلاموفوبیا کے مسئلے کا حقیقی حل محض احتجاج یا ردِّ عمل میں نہیں، بلکہ علمی وضاحت، فکری مکالمے، اخلاقی نمونے، سماجی خدمت اور مثبت انسانی کردار میں مضمر ہے، اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ باطل بیانیوں کا جواب علم سے دیں، بدگمانی کا علاج حسنِ کردار سے کریں، اور نفرت کی آگ کو حکمت ورحمت کے پانی سے بجھانے کی کوشش کریں۔
کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیئے گئے یہاں کلک کریں!

 

إرسال تعليق

أحدث أقدم

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال