سفرِ حج: طوافِ عشق اور تسلیم و رضا کی معراج از راشدامین

حج محض چند مقررہ مناسک کی ادائیگی، مخصوص ایام کی پابندی یا کسی فقہی ضابطے کی بجا آوری کا نام نہیں، بلکہ یہ روح کے اس سفر کا آغاز ہے جہاں عقل کے چراغ بجھ جاتے ہیں اور عشقِ الٰہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ اگر اس عظیم عبادت کو محض فرائض کی ادائیگی کے ترازو میں تولا جائے تو اس کی اصل روح نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حج ایک ”دعوتِ عشق“ ہے، ایک ایسا بلاوا جو زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔ یہ اس ابدی اور وجدانی صدا پر والہانہ لبیک کہنے کا نام ہے، جو صدیوں پیشتر مکہ کی بے آب و گیاہ وادیوں اور فاران کی چوٹیوں سے اللہ کے ایک خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دی تھی۔ وہ صدا بظاہر تو ایک ریگزار کی خاموشی میں گونجی تھی، لیکن درحقیقت اس نے تاریخ کے ہر دور میں براہِ راست ان روحوں کے دروازے پر دستک دی، جن کی خمیر میں حریمِ کبریا کی حضوری کا شوق گندھا ہوا تھا۔
جب کسی خوش بخت انسان کے سینے میں اپنے خالق و مالک کے درِ دولت کی زیارت کی تڑپ بیدار ہوتی ہے، تو اس کے باطن میں ایک خاموش مگر ہمہ گیر انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جب دل پر پڑی غفلت کی تہیں چاک ہونے لگتی ہیں اور ایک اَن دیکھے محبوب کی کشش وجود کے ہر تار کو چھیڑ دیتی ہے۔ اس بیداری کے بعد مادی دنیا کی وہ تمام رنگینیاں، جو کل تک نگاہوں کو خیرہ کرتی تھیں، یکلخت بے وقعت اور خاکستر محسوس ہونے لگتی ہیں۔ مال و اسباب کی محبت، رشتوں کی زنجیریں، منصب کا غرور اور جاہ و حشم کی تمام تر زمینی کشش مل کر بھی اس طائرِ جاں کے پر نہیں باندھ سکتیں، جس نے کوئے یار کی سمت اڑان بھرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہو۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کو پہلی بار اپنی ذات کے ادھورے پن کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ برسوں، بلکہ دہائیوں سے سینے میں دبی ہوئی ہجر کی کسک، ایک میٹھے مگر بے قرار کر دینے والے درد میں ڈھل جاتی ہے۔ جدائی کا یہ احساس اس قدر شدید ہوتا ہے کہ وصال کی تڑپ بقیہ تمام دنیاوی آرزوؤں کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔ مسافر کا مادی وجود تو اپنے شہر کے مانوس در و دیوار کے درمیان ہوتا ہے، لیکن اس کی روح کعبے کے غلاف سے لپٹ کر گریہ کناں ہوتی ہے۔ اسے ہوا کے ہر جھونکے میں حجاز کی خوشبو آنے لگتی ہے اور ہر آہٹ پر لبیک کا گمان گزرتا ہے۔
یہ بے قراری، یہ اضطراب اور دنیا سے یہ عارضی بےگانگی ہی دراصل اس عظیم سفر کا پہلا اور سب سے قیمتی زادِ راہ ہے۔ یہ وہ روحانی کیفیت ہے جس کے بغیر طوافِ کعبہ محض ایک جسمانی مشقت اور صفا و مروہ کی سعی محض ایک تھکا دینے والی دوڑ کے سوا کچھ نہیں۔ عشق کی اسی کٹھالی میں تپ کر جب مسافر گھر کی دہلیز پار کرتا ہے، تو وہ دنیا کا ایک عام انسان نہیں رہتا، بلکہ بارگاہِ صمدیت کا ایک ایسا مہمان بن جاتا ہے جس کا ہر قدم تسلیم و رضا کی ایک نئی داستاں رقم کرنے کے لیے اٹھتا ہے۔
احرام: ردائے بشریت اور دنیاوی امتیازات کا ترک
عشق و وارفتگی کا یہ سفر جب روح کی بے قراری سے گزر کر عملی قدم اٹھانے کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے، تو سب سے پہلا پڑاؤ ذات کی نفی اور دنیاوی آلائشوں سے مکمل کنارہ کشی کا تقاضا کرتا ہے۔ یہیں سے ”احرام“ کی وہ منزل شروع ہوتی ہے، جو بظاہر تو دو سادہ اَن سِلی چادروں کا نام ہے، لیکن درحقیقت یہ ”فنا فی اللہ“ ہونے کا ایک عظیم استعارہ ہے۔ جب ایک انسان میقات پر پہنچ کر اپنے تمام تر شاہانہ ملبوسات، نفیس قبائیں، اور دنیاوی شان و شوکت کے وہ تمام پہناوے اتار پھینکتا ہے جو اس کے منصب اور حیثیت کے غماز تھے، تو وہ محض لباس تبدیل نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ وہ اپنی انانیت اور تکبر کو اپنے ہی ہاتھوں دفن کر رہا ہوتا ہے۔
احرام کی ان دو چادروں میں لپٹنا دراصل اپنی بشری حیثیت کا وہ بے لاگ اعتراف ہے، جہاں بندہ اس سچائی کا سامنا کرتا ہے کہ اس کائنات کے خالق کے سامنے اس کی کوئی انفرادی حیثیت، کوئی مادی تکبر اور کوئی دنیاوی رتبہ معنی نہیں رکھتا۔ یہ فقیرانہ لباس اس بات کا اعلان ہے کہ اے پروردگار! میں تیری بارگاہ میں اپنے تمام خود ساختہ خول توڑ کر، اپنی ساری زمینی حیثیتیں ترک کر کے، فقط ایک عاجز، بے بس اور محتاج بندے کی صورت میں حاضر ہوا ہوں۔ احرام کا یہ سفید رنگ، کفن کی اس آخری پوشاک کی بھی یاد دہانی ہے، جو ہر ذی روح کا حتمی مقدر ہے۔ یہ احساس دل کو لرزا دیتا ہے کہ جس طرح آج ان چادروں میں لپٹ کر دنیا کی تمام رنگینیوں سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے، کل موت کا احرام بھی اسی طرح تمام مادی بندھنوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔
اسی احرام کی برکت سے کعبۃ اللہ کے سائے میں مساوات اور یگانگت کا ایک ایسا عظیم الشان اور ناقابلِ فراموش منظر تخلیق پاتا ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ جب لاکھوں انسان ایک ہی لباس، ایک ہی رنگ اور ایک ہی کیفیت میں مبتلا ہو کر دربارِ الٰہی میں حاضر ہوتے ہیں، تو بادشاہ اور گدا کی تمیز مٹ جاتی ہے۔ دنیا کے تخت و تاج کا مالک اور ایک خستہ حال مزدور، ایک ہی صف میں کھڑے، ایک ہی صدا بلند کرتے نظر آتے ہیں۔ آقا اور غلام کی تفریق ریت کے گھروندے کی طرح ڈھے جاتی ہے۔ وہاں نہ کوئی حاکم رہتا ہے نہ کوئی محکوم، نہ کوئی امیر ہوتا ہے نہ کوئی غریب۔ سب کے سب ایک ہی مالک کےبندے، ایک ہی در کے سائل اور ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے نظر آتے ہیں۔
یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان دنیاوی امتیازات کی قید سے آزاد ہو کر ایک خالص اور سچی انسانیت کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے۔ احرام کی اس حالت میں کسی کو ایذا پہنچانا تو دور کی بات، انسان کا اپنے جسم سے ایک بال تک توڑنے سے گریز کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اب دنیاوی خواہشات اور نفسانی تقاضوں کی حدوں سے نکل کر مکمل تسلیم و رضا کی وادی میں قدم رکھ چکا ہے۔ یہی وہ منزل ہے جہاں سے نفس کا تزکیہ شروع ہوتا ہے اور روح پر لگی زنگار اترنے لگتی ہے، تاکہ طوافِ کعبہ کی اس بزمِ کائنات میں شرکت کے لیے خود کو خالص کیا جا سکے۔
طواف: بزمِ کائنات کا رقصِ بندگی ، مرکزیت کا احساس
احرام کی اس نورانی کیفیت میں ڈھلنے کے بعد، جب مسافر شوق حرمِ پاک کی حدود میں داخل ہوتا ہے اور اس کی بے قرار نگاہیں پہلی بار جلال و جمال کے اس مرقع، یعنی کعبۃ اللہ پر پڑتی ہیں، تو دل کی دھڑکنیں جیسے ایک لمحے کو تھم سی جاتی ہیں۔ یہیں سے ”طواف“کا وہ مرحلہ شروع ہوتا ہے جو محض ایک عمارت کے گرد قدم اٹھانے کا نام نہیں، بلکہ بزمِ کائنات میں ”رقصِ بندگی“ کا وہ وجد آفریں منظر ہے جسے دیکھ کر آسمان کے فرشتے بھی رشک کرتے ہیں۔
طواف درحقیقت شمع اور پروانے کی اس لازوال تمثیل کا عملی اور روحانی روپ ہے۔ اس مقام پر کعبۃ اللہ تجلیاتِ الٰہی کی وہ روشن و ابدی شمع ہے اور اس کے گرد گھومنے والا ہر زائر وہ بے قرار پروانہ، جو اپنے محبوبِ حقیقی کی محبت میں سرشار ہو کر وارفتگی سے چکر کاٹ رہا ہے۔ یہاں پہنچ کر الفت و عقیدت اپنے تمام تر دعووں کے ساتھ مجسم ہو جاتی ہے، اور بندہ دیوانہ وار اپنے مرکزِ تجلیات کے گرد یوں محوِ خرام ہوتا ہے گویا وہ اپنا ظاہر و باطن، اپنی ہستی اور اپنا سب کچھ اس مقدس چوکھٹ پر نچھاور کر دینے کے لیے بے تاب ہو۔
اگر ہم چشمِ بینا سے کام لیں تو محسوس ہوگا کہ طواف کا یہ عمل اس عظیم کائناتی نظام کے عین مطابق ہے، جہاں کائنات کا ہر ذرہ اپنے مرکز کے گرد محوِ گردش ہے۔ ایک نظر نہ آنے والے ایٹم کے اندر گھومتے الیکٹران سے لے کر سورج کے گرد گھومتے سیاروں اور کہکشاؤں کے لامتناہی سلسلوں تک، ہر شے اپنے اپنے محور کا طواف کر رہی ہے۔ جب ایک بندۂ مومن کعبے کے گرد چکر لگاتا ہے، تو وہ دراصل خود کو اس کائناتی ہم آہنگی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے۔ اس کا یہ طواف فطرت کے اس عظیم الشان ترانے میں اس کی اپنی آواز کی شمولیت ہے، جس میں زمین و آسمان کی ہر مخلوق اپنے خالق کی حمد و ثنا میں مشغول ہے۔ کعبہ اس زمین کا روحانی مرکز ہے، اور طواف کرنے والا اپنے وجود کو اس مرکز سے ہم آہنگ کر کے تسلیم و رضا کی ایک نئی تاریخ رقم کرتا ہے۔
یہ وہ مقامِ خرد سوز ہے جہاں عقل کی تمام حدیں دم توڑ دیتی ہیں اور عشق کی بے کراں سرحدیں شروع ہوتی ہیں۔ منطق اور فلسفہ شاید یہ سوال اٹھائیں کہ پتھروں سے بنی ایک عمارت کے گرد چکر کاٹنے کا کیا جواز ہے؟ مگر عشق مسکرا کر جواب دیتا ہے کہ نسبتوں کے اس جہان میں یہ محض سنگ و خشت کی دیواریں نہیں، بلکہ یہ میرے محبوب کا گھر ہے، اور محبت کا اولین تقاضا یہی ہے کہ جس در سے پیار کیا جائے، اس کے در و دیوار کے بھی پھیرے لگائے جائیں۔ یہاں دلیلیں خاموش ہو جاتی ہیں اور بس دل کی دھڑکنیں رہنمائی کرتی ہیں۔ اسی سرشاری اور جنون میں ڈوب کر جب انسان کعبے کے غلاف سے لپٹتا ہے، تو اسے ایسا سکون اور ایسی انسیت نصیب ہوتی ہے جیسے کوئی بھٹکا ہوا مسافر مدتوں کی مسافت کے بعد بالآخر اپنی اصل منزل تک پہنچ گیا ہو۔
صفا و مروہ: سعیِ مسلسل اور توکلِ ابراہیمی کی یادگار
مکہ کا دشتِ بے آب و گیاہ، جہاں حدِ نگاہ تک ریت کے تپتے ہوئے طوفانوں کے سوا کچھ نہ تھا، وہاں ایک مضطرب ماں کی بے قراری نے تاریخِ انسانیت کا وہ انوکھا باب رقم کیا جسے خالقِ کائنات نے ابد تک کے لیے اپنے شعائر میں شامل کر لیا۔ صفا اور مروہ کی درمیانی مسافت محض دو پہاڑیوں کے بیچ چند قدموں کا فاصلہ نہیں، بلکہ یہ سیدہ ہاجرہ سلام اللہ علیہا کی ممتا اور پروردگار پر کامل یقین کے اس حسین امتزاج کی داستان ہے جس کی نظیر ملنا ناممکن ہے۔ جب سرابوں کی دنیا میں ننھے اسماعیل علیہ السلام پیاس سے تڑپ رہے تھے، تو ایک ماں کا دل اسباب کی خاموشی پر مایوس نہیں ہوا، بلکہ اس نے بے قراری کے عالم میں وہ تاریخی دوڑ لگائی جو رہتی دنیا تک سعیِ مسلسل کا استعارہ بن گئی۔
یہ سعیِ والہانہ کسی مادی منزل کی تلاش یا محض پانی کی جستجو نہیں تھی، بلکہ یہ بارگاہِ صمدیت میں بندے کی عاجزی اور توکل کا وہ رقصِ بندگی تھا جس پر فرشتے بھی رشک کر رہے تھے۔حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا جانتی تھیں کہ اس لق و دق صحرا میں کوئی چشمہ نہیں پھوٹ سکتا، مگر ان کی نگاہِ یقین اسباب کے پردے چاک کر کے مسبب الاسباب کی رحمت کو دیکھ رہی تھی۔ ان کا صفا پر چڑھنا اور پھر گھبرا کر مروہ کی طرف دوڑنا، درحقیقت اس بات کا اعلان تھا کہ بندے کا کام صرف خلوصِ نیت کے ساتھ جدوجہد کرنا ہے، جبکہ نتائج پیدا کرنا صرف اور صرف ربِ ذوالجلال کے اختیار میں ہے۔
پھر آسمان کی آنکھ نے وہ منظر بھی دیکھا کہ ظاہری سہاروں سے کٹ کر کی جانے والی اس خالص بندگی کے نتیجے میں کیسی کرشمہ سازی ظاہر ہوئی۔ خشک اور بنجر چٹانوں کا سینہ چاک ہوا اور خلیقِ کائنات کے حکم سے جبرائیلِ امین کی ایڑی کے مس ہونے سے زمزم کا وہ چشمۂ شیریں پھوٹ پڑا، جو قیامت تک تشنگانِ عقیدت کو سیراب کرتا رہے گا۔ یہ چشمہ محض ایک معجزہ نہیں، بلکہ اس بات کی ابدی گواہی ہے کہ جب انسان اللہ پر کامل بھروسہ کرتا ہے، تو قدرت اس کے لیے وہ راستے ہموار کر دیتی ہے جہاں انسانی عقل سوچنے کی صلاحیت بھی کھو دیتی ہے۔
آج جب ایک حاجی ان دو مقاموں کے درمیان دیوانہ وار دوڑتا ہے، تو دراصل وہ اسی سنتِ توکل کو اپنے قلب و روح میں اتارنے کی مشق کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے عمل سے یہ اقرار کرتا ہے کہ زندگی کی تپتی دھوپ اور آزمائشوں کے کٹھن صحرا میں، جب کوئی ظاہری وسیلہ باقی نہ رہے، تو صرف ذاتِ حق ہی وہ واحد جائے پناہ ہے جو مایوسی کی بنجر زمینوں سے بھی فیضان کے چشمے جاری کر سکتی ہے۔ یہ سعی انسان کو سکھاتی ہے کہ راہِ خدا میں اٹھنے والا کوئی ایک قدم، اور بہنے والا آنسو کا کوئی ایک قطرہ بھی رائیگاں نہیں جاتا، بشرطیکہ دل میں طلب سچی ہو۔
میدانِ عرفات: ندامت کے آنسو اور تجلیاتِ ربانی کا نزول
طواف کی اس سرمستی اور وارفتگی کے بعد، عشق کا یہ کارواں اپنے اگلے اور بظاہر سب سے کٹھن، مگر باطنی اعتبار سے سب سے پرسوز مقام کی جانب بڑھتا ہے۔ یہ ”میدانِ عرفات“ ہے، جہاں پہنچ کر انسان کو اپنی بے مائیگی اور ربِ ذوالجلال کی کبریائی کا ادراک اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ عرفات کا یہ تپتا ہوا میدان، جہاں سورج کی تمازت اور پتھریلی زمین کی حدت مسافر کا استقبال کرتی ہے، درحقیقت انسان کی بے بسی اور اللہ کی بے پایاں رحمت کے سب سے بڑے اور جلیل القدر مظہر کا نام ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں پہنچ کر حج کی تکمیل ہوتی ہے، اور اسی لیے کہا گیا کہ ”الحج عرفات“ (حج، عرفات میں ٹھہرنے کا نام ہے)۔
یہاں پہنچ کر طواف کی گردش اور سعی کی تگ و دو تھم جاتی ہے۔ اس میدان میں کوئی مخصوص رسم، کوئی جسمانی عمل باقی نہیں رہتا۔ یہاں کا واحد وظیفہ، یہاں کی واحد عبادت صرف اور صرف بارگاہِ صمدیت میں گریہ و زاری، ندامت کے آنسو اور دستِ طلب کا دراز کرنا ہے۔ جب لاکھوں انسان ایک ہی وقت میں، ایک ہی لباس پہنے، چلچلاتی دھوپ میں کھڑے ہو کر اپنے رب کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں، تو یہ منظر میدانِ حشر کا وہ جیتے جاگتا نمونہ پیش کرتا ہے جو دلوں کو لرزا دیتا ہے۔ ہر آنکھ اشک بار ہے، ہر زبان پر استغفار ہے، اور ہر ہاتھ کاسۂ گدائی بن کر اس ذات کے سامنے پھیلا ہے جو خزانوں کا اکیلا مالک ہے۔
علمائے ربانی اور عرفائے امت کی نگاہِ بصیرت میں میدانِ عرفات میں بہنے والے آنسوؤں کی جو قیمت ہے، اس کا اندازہ دنیاوی ترازو میں کیا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ آنسو محض پانی کے قطرے نہیں، بلکہ یہ وہ انمول موتی ہیں جو برسوں کی غفلت اور گناہوں کی سیاہی کو دھو ڈالتے ہیں۔ جب ندامت کی بھٹی میں تپ کر دل سے توبہ کی سچی آہ نکلتی ہے اور چشمِ تر سے ایک قطرہ چھلک کر زمینِ عرفات پر گرتا ہے، تو آسمان سے تجلیاتِ ربانی اور رحمتِ الٰہی کا وہ مینہ برستا ہے جو تمام پچھلی خطاؤں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے۔ اللہ کی رحمت اس دن اتنے بندوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتی ہے، جتنی کسی اور دن نہیں کرتی، اور شیطان اس دن جتنا ذلیل و خوار ہوتا ہے، کسی اور دن نہیں ہوتا۔
یہ وہ مبارک ساعت ہے جب ایک لمحے کی سچی توبہ اور اپنے مالک کے حضور گڑگڑانا انسان کو باطنی طور پر ایک نیا جنم بخشتا ہے۔ عرفات کی شام جب اپنے اختتام کو پہنچتی ہے اور حجاجِ کرام مزدلفہ کی جانب کوچ کرتے ہیں، تو وہ گناہوں کے بوجھ سے یوں ہلکے ہو چکے ہوتے ہیں جیسے کوئی نومولود بچہ، جس کے نامہِ اعمال میں کوئی سیاہی نہیں۔ رحمتِ الٰہی انہیں اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے، اور وہ ایک نئے عزم، ایک نئی پاکیزگی اور قلب کی اس طہارت کے ساتھ لوٹتے ہیں، جو انہیں ہمیشہ کے لیے اللہ کا منظورِ نظر بنا دیتی ہے۔ عرفات میں ٹھہرنا محض ایک دن کا قیام نہیں، بلکہ اپنی روح کی کثافتوں کو رحمتِ الٰہی کے سمندر میں غسل دینے کا وہ عمل ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں کندن بنا دیتا ہے۔
رمیِ جمرات: نفسِ امارہ کی سرکوبی اور باطنی تطہیر
رمیِ جمرات کے میدان میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل بظاہر پتھروں پر کی جانے والی ایک سنگ باری معلوم ہوتا ہے، لیکن دیدۂ بینا رکھنے والوں کے نزدیک یہ نفسِ امارہ کی سرکوبی اور باطنی تطہیر کا ایک عظیم الشان روحانی معرکہ ہے۔ جب ایک زائر پوری قوت، کراہت اور جلال کے ساتھ ان جمرات کی سمت کنکریاں پھینکتا ہے، تو وہ دراصل کسی بیرونی اور جامد وجود کو نہیں، بلکہ اپنے ہی اندر بسی ہوئی ان تاریکیوں کو نشانہ بنا رہا ہوتا ہے جنہوں نے مدتوں سے اس کے قلب کی شفافیت کو دھندلا کر رکھا ہو۔ یہ کنکریاں ان شیطانی وسوسوں، دنیاوی حرص و طمع، اور حیوانی خصلتوں پر ضربِ کاری ہیں جو انسان اور اس کے پروردگار کے درمیان دبیز پردہ بن جاتی ہیں۔
یہ عمل درحقیقت اس ازلی کشمکش کا نقطۂ عروج ہے جو انسان کے باطن میں حق اور باطل کے درمیان برپا ہے۔ زائر کے ہاتھ سے چھوٹنے والی ہر کنکری محض پتھر کا ایک بے جان ٹکڑا نہیں، بلکہ اس عہدِ وفا کی تجدید ہے جو اس نے روزِ الست اپنے خالق سے باندھا تھا۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ انسان نے بالآخر اپنے دل کے صنم کدے میں سجی ہوئی خواہشات کی ان تمام مورتیوں کو توڑ ڈالا ہے، جو اسے بندگی کے تقاضوں سے غافل رکھتی تھیں۔ جب تک وہ اپنے اندر کے ابلیس کو تسلیمِ حق کی قربان گاہ پر ذبح نہیں کرتا، عشقِ حقیقی کے اسرار اس پر وا نہیں ہو سکتے۔
جمرات پر برسنے والا یہ غیظ و غضب دراصل ایک زبردست اعلانِ بغاوت ہے۔ یہ بغاوت ہے ہر اس کشش کے خلاف، ہر اس دنیاوی لالچ کے خلاف، اور ہر اس باطل طاقت کے خلاف جو انسان کو رضائے الٰہی کی صراطِ مستقیم سے بھٹکانے کی جسارت کرتی ہے۔ حاجی کا یہ جلال اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اب اس نے ماسویٰ اللہ سے اپنا ہر رشتہ توڑ لیا ہے اور اس کی روح نے شیطان کی ہر اس ترغیب کو ٹھکرا دیا ہے جو اسے خالقِ حقیقی سے دور لے جانے کا سبب بن سکتی تھی۔
اس کٹھن روحانی مجاہدے کے بعد انسان کے اندر ایک عجیب سی طہارت اور بالیدگی جنم لیتی ہے۔ جب آخری کنکری نشانے پر لگتی ہے، تو گویا نفس کی آخری زنجیر بھی کٹ کر گر جاتی ہے اور دل شیطانی آلائشوں سے یکسر پاک ہو کر صرف اور صرف ذاتِ حق کا مسکن بن جاتا ہے۔ اس عمل سے گزرنے کے بعد انسان اپنے رب کی بارگاہ میں سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے بندگی کی اس حقیقی معراج کو پا لیتا ہے جہاں اسے انا کے بتوں سے مکمل آزادی اور حریت کا وہ ابدی ذائقہ نصیب ہوتا ہے، جو کائنات کی کسی اور شے میں پوشیدہ نہیں۔
روحانی ارتکاز اور لمحۂ موجود کی اہمیت
حریمِ کعبہ میں قدم رکھنا محض ایک جسمانی مسافت کا اختتام نہیں، بلکہ یہ قلب و روح کی اس معراج کا آغاز ہے جہاں انسان براہِ راست اپنے خالقِ حقیقی کی تجلیات کا مشاہدہ کرتا ہے۔ خانۂ خدا کا طواف اور اس کے سائے میں گزرا ہوا ہر لمحہ اس بات کا متقاضی ہے کہ زائر اپنا ظاہر اور باطن یکسو کر کے ذاتِ باری تعالیٰ میں فنا ہو جائے۔ یہ وہ مقامِ ادب ہے جہاں دل کی دھڑکنیں بھی طواف کی لے پر دھڑکتی ہیں اور روح ایک ایسے روحانی ارتکاز کی کیفیت میں چلی جاتی ہے، جس کے بعد دنیا اور اس کی تمام تر رعنائیاں ہیچ محسوس ہونے لگتی ہیں۔
لیکن دورِ حاضر کے مادی اور مشینی کرب نے اس خالص روحانی تجربے کو بھی ایک عجیب سی بے حسی کی نذر کر دیا ہے۔ آج کے زائر نے مناظر کو اپنی روح میں اتارنے کے بجائے کیمرے کی بے جان آنکھ سے محفوظ کرنے کی جو روش اپنا لی ہے، وہ درحقیقت ایک بہت بڑا سراب اور فریب ہے۔ یہ کیمرے کے لینز اور اسکرینیں انسان اور رب کی اس براہِ راست حضوری کے درمیان ایک ایسا دبیز اور مصنوعی پردہ حائل کر دیتے ہیں، جو قلب کو اس کیفیت سے محروم کر دیتا ہے جس کے لیے وہ ہزاروں میل کا سفر طے کر کے آیا تھا۔ تصاویر کا یہ مشغلہ انسان کو تقریب یا عبادت کی اصل روح سے کاٹ کر محض ایک تماشائی بنا دیتا ہے۔
تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے لمحے کو قید کرنے کی یہ ہوس دراصل لمحۂ موجود کو جینے سے گریز کا دوسرا نام ہے۔ جب نگاہیں کعبے کے جلال پر مرکوز ہونے کے بجائے اسکرین کے فریم میں الجھ جائیں، تو پھر طواف کے چکر محض جسمانی مشقت بن کر رہ جاتے ہیں۔ وہ آنسو جو ندامت اور عشق کے امتزاج سے پلکوں پر ستارے بن کر چمکنے تھے، وہ اس ڈیجیٹل نمائش کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ یہ اس مقدس سفر کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ انسان صحنِ حرم میں موجود ہو کر بھی غائب رہتا ہے اور اس کی روح پیاسی ہی لوٹ جاتی ہے۔
خلوصِ نیت اور عشقِ الٰہی کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ان انمول اور قیمتی لمحات کو ڈیجیٹل یادگاروں کی نذر کرنے کے بجائے پورے شعور اور کامل یکسوئی کے ساتھ جیا جائے۔ کعبے کی ہیبت کو آنکھوں کے راستے سیدھا دل کی تختی پر نقش کیا جائے، تاکہ جب یہ سفر ختم ہو تو انسان کے پاس محض میموری کارڈز کا بوجھ نہ ہو، بلکہ ایک ایسا منور اور بیدار قلب ہو جو یادِ الٰہی سے سرشار ہو۔ حقیقی حاضری وہی ہے جہاں کیمرے کی آنکھ بند ہو اور دل کی آنکھ کھل جائے، تاکہ خالق اور مخلوق کے درمیان رابطے کا یہ مقدس ترین لمحہ کسی دنیاوی دخل اندازی سے آلودہ نہ ہو۔
روضۂ رسول ﷺ پر حاضری: ادب، عشق اور درود و سلام کی محفل
مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب اٹھنے والا ہر قدم درحقیقت تجلیات کے ایک بالکل نئے سمندر میں داخل ہونے کا نام ہے۔ اگر کعبہ پروردگار کے جلال، ہیبت اور کبریائی کی عظیم ترین علامت ہے، تو دیارِ حبیبسراپا جمال، رحمت اور انوار کی وہ پرسکون وادی ہے جہاں پہنچ کر روح کی تمام بے قراریاں قرار آشنا ہو جاتی ہیں۔ مکے کے پہاڑوں میں جو ایک ہیبت ناک خاموشی اور دبدبہ ہے، وہ مدینے کی فضاؤں میں داخل ہوتے ہی ایک ایسی خنک اور لطیف چاشنی میں بدل جاتا ہے جو پتھر دلوں کو بھی موم کی طرح پگھلا دیتی ہے۔
بارگاہِ رسالت مآبمیں حاضری کے آداب دنیا کے تمام درباروں سے مختلف اور کٹھن ہیں۔ یہ وہ مقامِ ادب ہے جہاں پہنچ کر ہوائیں بھی اپنا شور تھام لیتی ہیں اور فرشتے بھی پر سمیٹ کر چلتے ہیں۔ قرآنی تنبیہ کہ "اپنی آوازوں کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرو"، زائر کے دل پر ایک ایسی لرزہ خیز کیفیت طاری کر دیتی ہے کہ وہ یہاں سانسیں بھی گن کر اور حد درجہ احتیاط سے لیتا ہے۔ یہاں قدموں سے نہیں بلکہ نگاہوں اور پلکوں سے راستہ طے کرنا ہوتا ہے، کیونکہ یہ وہ آستانہ ہے جہاں ذرا سی بے ادبی انسان کی زندگی بھر کی کمائی کو لمحوں میں خاکستر کر سکتی ہے۔
روضۂ اطہر کی سنہری جالیوں کے سامنے کھڑا ہونا ایک امتی کی زندگی کا وہ نقطۂ عروج ہے جس کی تمنا میں اس نے برسہا برس گزارے ہوتے ہیں۔ جب نگاہیں اس درِ اقدس پر پڑتی ہیں تو سینے میں چھپا ہوا عشقِ رسول بے اختیار آنسوؤں کی صورت میں چھلک پڑتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور ہچکیاں امتی کی ترجمانی کرتی ہیں۔ زائر جب لرزتے لبوں کے ساتھ درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتا ہے، تو اسے اپنے وجود کے ریشے ریشے میں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ رحمت اللعالمیناس کی عقیدت کو نہ صرف سماعت فرما رہے ہیں، بلکہ اس کی محبت کا جواب بھی مرحمت فرما رہے ہیں۔
اس محفلِ عشق و ادب کا حاصل یہ ہے کہ انسان اپنے وجود کی تمام تر آلائشوں کو گنبدِ خضراء کے سائے میں چھوڑ کر، اپنے دامن میں سنتِ مصطفیٰ کا نور بھر لے۔ مدینے کی یہ حاضری محض ایک شہر کی زیارت نہیں، بلکہ یہ اس بات کی تجدید ہے کہ اللہ تک پہنچنے کا کوئی راستہ محمدِ عربی کے در سے گزرے بغیر طے نہیں ہو سکتا۔ زائر جب اس دربار سے رخصت ہوتا ہے تو وہ ایک بدلا ہوا انسان ہوتا ہے، جس کی آنکھوں میں مدینے کا جمال اور دل میں عشقِ مصطفیٰ کی وہ شمع روشن ہو چکی ہوتی ہے جسے دنیا کی کوئی آندھی بجھانے کی طاقت نہیں رکھتی۔
پیامِ حرم اور حرفِ تمنا: بارگاہِ حق میں ایک عرض داشت
سفرِ حج و زیارت کا اصل اختتام محض طواف و سعی کے مراحل طے کرنے یا مکہ و مدینہ کی طویل مسافتیں سمیٹنے کا نام نہیں ہے۔ یہ تو درحقیقت ایک نئے اور ابدی سفر کا آغاز ہے، جس کی منزل انسان کا اپنا باطن ہے۔ اصل اور حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ حاجی کا جسم تو صحنِ حرم تک پہنچ جائے لیکن اس کی روح دنیا کی آلائشوں میں ہی الجھی رہے۔ مناسک کی تکمیل کا کمال تو یہ ہے کہ انسان جب کعبۃ اللہ کے سائے سے رخصت ہو، تو کعبے کے رب کو ہمیشہ کے لیے اپنے دل کے نہاں خانے میں بسا لے۔ خانہ خدا کی زیارت کا حقیقی ثمر یہ ہے کہ دل کی زمین، جو دراصل اللہ کا حقیقی گھر ہے، غیر اللہ کی محبت سے مکمل طور پر خالی ہو جائے اور وہاں صرف رضائے الٰہی کا راج ہو۔
اسی طرح دیارِ حبیب سے واپسی محض ایک شہر کی رخصتی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ یہ اس عہدِ وفا کی پختگی کا مقام ہے کہ اب زندگی کا ہر سانس مدینے والے آقا کی سنتوں کے سانچے میں ڈھل کر گزرے گا۔ عشقِ رسول کا حقیقی تقاضا یہ ہرگز نہیں کہ محض روضۂ اطہر کی جالیوں کو دیکھ کر اشک بہا لیے جائیں، بلکہ سچی محبت وہ ہے جو انسان کے اخلاق، کردار اور معاملات میں سنتِ مصطفیٰ کی صورت میں منعکس ہو۔ اس بارگاہِ ناز سے ملنے والی عقیدت اور محبت کو دل میں اس طرح بسانا ہی اصل حاضری ہے کہ دنیا کی کوئی کشش، کوئی لالچ اور کوئی خوف امتی کو اس کے آقا کے بتائے ہوئے روشن اور صراطِ مستقیم سے نہ ہٹا سکے۔
آج جب میں ان مقدس کیفیات کو قرطاس و قلم کے حوالے کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، تو مجھے اپنے الفاظ کی تہی دامنی اور قلم کی بے بسی کا شدت سے احساس ہو رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب ایک گناہ گار بندے کے کانپتے ہوئے ہاتھ پہلی بار غلافِ کعبہ کے ریشمی لمس کو محسوس کرتے ہیں، اور اس کی پیشانی غلاف سے لپٹ کر بارگاہِ صمدیت میں جھکتی ہے، تو روح پر طاری ہونے والی اس وجدانی کیفیت کا احاطہ دنیا کی کوئی لغت نہیں کر سکتی۔ وہ آنسوؤں کا سیلاب، وہ ہچکیوں کی زبان، اور وہ ذاتِ حق سے راز و نیاز کے بے ساختہ لمحات،انہیں کاغذ پر اتارنا گویا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ لفظوں کی کیا بساط کہ وہ اس نورانی اور سحر انگیز کیفیت کو بیان کر سکیں جو انسان حریمِ کعبہ میں سجدہ ریز ہو کر محسوس کرتا ہے۔
اس وجدانی اور قلبی سفر کے اختتام پر، میری روح کی گہرائیوں سے بس ایک ہی آہِ نیم شبی اور ایک ہی التجاء ابھرتی ہے کہ اے کاش! پروردگارِ عالم ہمارے زنگ آلود دلوں کو بھی اس مقدس اور پرنور سفر کے لیے چن لے۔ میری یہ عاجزانہ اور پردرد دعا ہے کہ کعبے کے جلال اور مدینے کے جمال پر مبنی یہ تحریر محض کاغذ پر پھیلی ہوئی سیاہی بن کر نہ رہ جائے، بلکہ یہ حروف ہماری بخشش کا وسیلہ اور روزِ محشر ہماری شفاعت کا ذریعہ بن جائیں۔ یا ربِ ذوالجلال! ہماری اس ٹوٹی پھوٹی کاوش کو شرفِ قبولیت بخش کر اسے ہمارے اور اس مضمون کے ہر قاری کے لیے تیرے گھر اور تیرے حبیب کے دربار کی سچی، بار بار اور مقبول حاضری کا پروانہ بنا دے۔ آمین۔
ختم شد

إرسال تعليق

أحدث أقدم

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال