نقشِ خیال از ردائے خاک

 

سنا تھا کہانیاں خدا لکھواتا ہے، مگر کسی نے بتایا ہی  کہ وہ انہیں محض لکھواتا نہیں بلکہ ہر لمحہ، ہر احساس  اور خیال میں جلوہ گر بھی کرتا ہے۔ جب میرے محدود ذہن میں اس کہانی کا  خیال اترا، تو میں خود حیرت زدہ رہ گئی۔ میں؟ میں یہ سب کیسے سوچ سکتی ہوں؟ مگر یہ سچ ہے کہ ہر کہانی اپنا لکھاری خود منتخب کرتی  ہے اور شاید  نقش خیال کا میرے قلم سے مرقوم ہونا مکتوب تھا ۔یہ کہانی محض ایک افسانہ نہیں، یہ اُن تمام تخلیق کاروں کے نام ہے، جن کے قلم نے تخیل کو پروان چڑھایا ، جن کے خوابوں نے لفظوں کا پیرہن پہنا، اور جنہوں نے اپنے کرداروں کو اس محبت سے سینچا کہ وہ امر ہوگئے ۔


پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں!

Post a Comment

Previous Next

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال