#4b3621 #351E10 #FFFFF3 #2B1700

”گھرکوآگ لگ گئی گھرکے چراغ سے“ نفرت پسند اور شر پسندوں کا ابھرتا دور از اکرام زخمی٘ ندوی٘

📖 0

ملک لٹ جائے گا آثار نظر آتے ہیں
سارے مسند نشیں مکار نظر آتے ہیں
ہم نے اس ملک کی دھرتی سے محبتکی ہے
پھر بھی اندھوں کوہم غدار نظر آتے ہیں
شروع کریں تو کریں کہاں سے
وہ ہندوستان جس کو بنانے سنوارنے اور نکھارنے میں ہمارے آباؤاجداد اورہمارے علماء کی بے شمار قربانیاں ہیں۔
وہ ہندوستان جسکو سونےکی چڑیا بھی کہا جاتا ہے جو گنگا جمنی تہذیب کی جیتی جاگتی مثال ہے
جہاں ہندو مسلم سکھ عسائی ہر دھرم ہر مذہب ہر جاتی کے لوگ برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ اپنے مذہب کو مانتے ہوئے رہتے ہیں زندگی بسر کرتے ہیں۔ اور ہر کوئی ایک دوسرے کے مذہب کا عزت و احترام کرتے ہیں اور ایک ساتھ مل جل کر ایک دوسرے کے تہوارمیں شامل ہوتے رہے ہیں۔
اللہ جانے کس کی نظر لگی اس پیارے چمن کو جہاں ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں ایک ساتھ رہتے تھے آج وہی ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہندو مسلمان کے دشمن ہو گئے مسلمان ہندو کے دشمن ہو گئے ہر مذہب کے چاہنے اور ماننے والے ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے جدھر دیکھئے مذہب کے نام پر ایک دوسرے کو مارنے لگے۔ ماب لنچنگ ہونے لگی عصمت دری اور بے حرمتی عام ہو گئی ماؤں اور بہنوں کی عزت تار تار ہونے لگی۔ جدھر دیکھو دھرم کے ٹھیکے دار پیدا ہو گئے ۔ شر پسندوں کی شر پسندی تو تب بڑھ گئی( چاہے اس میں سرکار ہو یا پرشاسن )حد تو تب ہو گئی جب ایک پولیس افسر کسی اسکول میں اپنی تقریر کے درمیان محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت بیان کرتے ہیں بیٹیوں کے ساتھ کیسے برتاؤ کرنا چاہیے اور پہلے کس طرح برتاؤ کیا جاتا تھا بیٹیوں کے ساتھ کیسا معاملہ پیش کیا جاتا تھا اس تقریر پر ان کو لائن حاضر کر دیا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک مسلمان ہے
وہیں ایک پولیس افسر کسی پدیاترا میں آگے آگے گدا لے کر چلتا ہے تو اس کو پرموشن ملتا ہے بڑا افسر بن جاتا ہےاور بڑے عہدے پر فائز ہو جاتے ہیں:
” کیونکہ وہ ایک ہندو ہے“
عمر خالد اور شرجیل امام جیسے اور نہ جانے کتنے ہزاروں اور لاکھوں بےگناہ مسلمان قید خانوں میں بند ہیں ان کے خلاف نہ کوئی گواہ نہ کوئی ثبوت پھر بھی قید خانوں میں بند ہیں اور عدالت کہتی ہے کہ ایک سال تک عمر خالد اور شرجیل امام جیسے افراد یاچیکا داخل نہیں کر سکتے
”وہ اس لئے کہ وہ ایک مسلمان ہے“
ظلم ان کا ستم ان کی حکومت بھی انہیں کی ہے
میں شکوہ کروں تو کس سے کروں یہ عدالت بھی انہیں کی ہے
وہی ایک بی جے پی کا نیتا ایک لڑکی کے ساتھ درندگی اور اس کی عزت و ناموس کے ساتھ کھلواڑ اور عصمت دری کرتا ہے مگر لاچار اور بے بس اور بے حِس عدالت دوسرے دن اس درندے کو آزاد اور رہا کر دیتی ہے
”کیونکہ وہ ایک ہندو ہے“
وہی ہندوستان میں ہونے والے آئی پی ایل میچ میں ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی کو شاہرخ خان خریدتا ہے وہی انکو غدار اور آتنگواد کہا جاتا ہے``
کیونکہ وہ ایک مسلمان ہے
اسی ٹیم کے فاؤنڈر میں ایک ایکٹرس کا نام بھی ہے جِسے جوہی چاولا کہا جاتا ہے اور ان کے شوہر کا بھی نام ہے اس پر کوئی بات نہیں کرتا
”کیونکہ وہ ایک ہندو ہے“
پہلگام کےحملےکے فورا٘بعد انڈیا اور پاکستان کا میچ ہوتا ہے۔ بے شرمو اس پر کوئی گودی میڈیا بات نہیں کرتا
نفرت پسندوں کی نفرت تو تب بڑھ گئی جب کیرلا میں ایک بنگلہ بولنے والے ہندو کو مار دیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیشی سمجھ کر۔جب کہ وہ ایک ہندوستانی تھا،اس پر کوئی گودی میڈیا بات نہیں کرتا
اور بہار میں زبیر شیخ کو بنگلہ بولنے پر مار دیا جاتا ہے یہ سمجھ کر کہ وہ ایک بنگلہ دیشی ہے
جبکہ وہ ایک ہندوستانی تھا ۔اس پر کوئی بات نہیں کرتا کیونکہ وہ ایک مسلمان تھا
ہر پھول پہ حق اپنا ہی رہا ہے
گلشن کے لئے لہو ہم نےاپنا ہی دیا ہے
پھانسی پہ چڑھےقتل ہوئےملک کی خاطر
پھر بھی تم لوگوں نے ہمیں غدار کہا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال