#4b3621 #351E10 #FFFFF3 #2B1700

یومِ اساتذہ: استاد و شاگرد: احترام سے اختلاف تک از فضائلہ شاہنواز

📖 0

عصرِ حاضر میں ہمارا معاشرہ جس طرح گرد آلود ہو چکا ہے، اس کا موازنہ ماضی کے کسی ایک دور سے کرنا یقیناً آسان نہیں۔ مگر آج جس موضوع کو زیرِ بحث لانا چاہتی ہوں، وہ استاد اور شاگرد کے درمیان احترام و اختلاف کا بدلتا ہوا رشتہ ہے۔ ایسا رشتہ جسے نظر انداز کرنا شاید اپنے ہی معاشرتی وجود سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔
استاد محض ایک لفظ نہیں، ایک ذمہ داری، ایک مقام اور ایک بزرگ و برتر کردار کا عکس ہے۔ لیکن لفظ شاگرد بھی اپنی نادانی، جستجو اور سیکھنے کے مرحلے کا آئینہ دار ہے۔
دنیا میں آنے والا ہر ذی روح کسی نہ کسی رشتے سے وابستہ ہوتا ہے۔ کوئی رشتہ خونی ہوتا ہے، کوئی روحانی، کوئی اخلاقی اور کوئی معاشرتی۔ انہی رشتوں میں ایک نہایت اہم رشتہ استاد اور شاگرد کا ہے۔ استاد وہ شخصیت ہے جو علم کے ساتھ شعور بھی عطا کرتی ہے۔ جو محض کتاب پڑھانا نہیں سکھاتی بلکہ جینے کا سلیقہ، گفتگو کا قرینہ، اختلاف کا ادب اور معاشرے میں عزت و وقار کے ساتھ رہنے کا ہنر بھی سکھاتی ہے۔ اسی لیے استاد، معلم، مدرس یا ٹیچر کو واجب الاحترام شخصیت کہنا بے جا نہ ہوگا۔
ایک استاد شاگرد کی تربیت کچھ یوں کرتا ہے کہ لوہے کو تپا کر کندن، پتھر کو تراش کر ہیرا اور بنجر زمین کو سینچ کر کھیت بنا دیتا ہے۔ تاریک شب میں چاند اتارنے اور بے سمت قدموں کو راستہ دکھانے کا ہنر بھی اسی کے پاس ہوتا ہے۔
غرض، استاد صرف معلم نہیں، وہ معمار بھی ہے، لوہار بھی اور کسان بھی۔ وہ شخصیت جو ایک خام ذہن کو تراش کر اسے معاشرے کا کارآمد فرد بنانے میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔
ایک زمانہ تھا جب طالب علم حصولِ علم کی خاطر میلوں میل سفر کرتے، برسوں اپنوں سے دور رہتے اور استاد کی سختی و ناراضی کو بھی اپنی تربیت کا حصہ سمجھ کر برداشت کرتے تھے۔ ان کے لیے علم محض ایک سند نہیں بلکہ ایک مقصد تھا۔ وہ اپنی خواہشات، آسائشوں اور کبھی کبھی اپنوں کی قربت تک کو قربان کرکے اپنے عزم پر قائم رہتے تھے۔
بظاہر وہ زندگی کی بہت سی آسائشیں ہار رہے ہوتے، مگر حقیقت میں استاد کی رہنمائی، والدین کی تربیت اور اپنی محنت کے ذریعے زندگی جیت رہے ہوتے تھے۔
مگر افسوس کہ آج کا منظر کچھ مختلف دکھائی دیتا ہے۔
وقت نے اڑان بھری تو انسان بھی ترقی کی منزلیں طے کرتا گیا۔ اس ترقی کے ساتھ تہذیب، ادب، آداب اور لوگوں کے نقطۂ نظر بھی بدلتے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں استاد ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔
آج کا طالب علم استاد کو وہ احترام دینے پر آمادہ نہیں جو کبھی اس رشتے کا خاصہ تھا۔ وہ استاد کو اکثر ایک تنخواہ دار ملازم کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ مگر بچوں کے ذہنوں میں سرایت کرتی اس سوچ کے ذمہ دار صرف بچے نہیں، ان کے والدین بھی ہیں، جو بعض اوقات بچپن ہی سے انہیں یہ احساس دلا دیتے ہیں کہ چونکہ استاد ان کی فیس کے عوض تعلیم دیتا ہے، اس لیے وہ محض ایک ملازم ہے۔
میرے نزدیک موجودہ دور کا ٹیوشن سسٹم اور اکیڈمی کلچر بھی اس رشتے کی حرمت کو متاثر کرنے والے عوامل میں شامل ہیں۔ تعلیم جب صرف فیس، نتائج اور نمبروں کا معاملہ بن جائے تو استاد اور شاگرد کے درمیان موجود تربیتی رشتہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج بے شمار اسکول، مدارس، کالج اور جامعات ہونے کے باوجود معاشرے میں اخلاق، تہذیب، ادب اور آداب کی وہ روشنی دکھائی نہیں دیتی جس کی توقع ایک تعلیم یافتہ معاشرے سے کی جاتی ہے۔
جتنی سہولتیں بڑھتی گئیں، شاید اتنی ہی برداشت کم ہوتی گئی۔ جہاں کبھی استاد کی سختی اصلاح سمجھی جاتی تھی، وہاں آج معمولی سی تنبیہ بھی بعض شاگردوں کو ناگوار گزرنے لگی ہے۔
لیکن یہ مسئلہ صرف شاگرد کا نہیں۔
استاد بھی اس تبدیلی سے بری الذمہ نہیں۔

ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن سے منسوب ایک قول کا مفہوم ہے:
"ایک وکیل کی غلطی فائلوں کے انبار میں کہیں دب جاتی ہے، ایک انجینئر کی لغزش دیوار کی کسی اینٹ کے پیچھے چھپ جاتی ہے، اور ایک ڈاکٹر کی خطا قبر کی خاموشی میں دفن ہو جاتی ہے، مگر ایک استاد کی غلطی محض ایک فرد تک محدود نہیں رہتی، وہ پورے معاشرے اور قومی زندگی کے کردار میں اپنا عکس چھوڑ جاتی ہے۔" کیونکہ ایک معمولی استاد صرف علم بتاتا ہے، ایک اچھا استاد اسے سمجھاتا ہے، ایک بہترین استاد اسے عملی طور پر دکھاتا ہے، مگر ایک عظیم استاد اپنے شاگرد کے اندر وہ چراغ روشن کر دیتا ہے جو اسے زندگی بھر راستہ دکھاتا رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ استاد کا منصب محض چند گھنٹوں کی تدریسی ذمہ داری نہیں، بلکہ نسلوں کی فکری، اخلاقی اور معاشرتی تشکیل کی ذمہ داری ہے۔ جب استاد اپنے منصب کو محض ڈیوٹی سمجھ لے اور شاگرد اسے صرف ایک ملازم تصور کرنے لگے، تو علم کا وہ مقدس رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے جو دراصل ایک نسل کی تعمیر کا ذریعہ ہوتا ہے۔
اسلامی تہذیب و روایت میں استاد کو علم کی منتقلی کے ساتھ تربیت اور رہنمائی کا بھی ایک بلند مقام حاصل رہا ہے۔ استاد اور شاگرد کا رشتہ بارش اور بنجر زمین کی مانند ہے۔ بارش کی بوندیں جب زمین پر گرتی ہیں تو زمین انہیں اپنے اندر جذب کرکے سبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ایک باشعور شاگرد استاد کے علم کو اپنے اندر جذب کرکے اپنی شخصیت کو سنوارتا ہے۔
لہٰذا دورِ حاضر کی اس تیز رفتار زندگی میں انسان جس قدر کامیابی کی سیڑھیاں چڑھ رہا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی رفتار میں وہ اپنے مقدس رشتے بھی پیچھے چھوڑتا جائے۔
"علم کی قدر اس وقت ہی ممکن ہے جب علم دینے والے کی قدر بھی باقی ہو۔"
جو طالب علم اپنے استاد کا احترام کرنا جانتا ہے، اس کی تعلیمات کو سمجھتا اور انہیں اپنی زندگی میں برتنے کی کوشش کرتا ہے، وہ محض ایک سند حاصل نہیں کرتا بلکہ اپنی شخصیت بھی تعمیر کرتا ہے۔ ایسے ہی شاگرد حقیقی معنوں میں کامیاب ہوتے ہیں، کیونکہ وہ علم کے ساتھ ادب بھی حاصل کرتے ہیں۔
آخرکار کامیابی صرف اس بات کا نام نہیں کہ انسان کتنی اونچی منزل تک پہنچا، اصل کامیابی یہ بھی ہے کہ وہاں پہنچتے ہوئے اس نے کن لوگوں کا ہاتھ تھاما اور کن رشتوں کا احترام قائم رکھا۔
ہماری کامیابی میں استاد کا حصہ محض ایک سبق یا ایک کتاب تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ ہمارے اندر سوچنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔
اس لیے استاد و شاگرد کا رشتہ محض تعلیم کا رشتہ نہیں، یہ نسلوں کی تعمیر کا رشتہ ہے۔
اور جس معاشرے میں اس رشتے کا احترام باقی نہ رہے، وہاں علم تو بہت ہوگا، مگر شعور شاید کم پڑ جائے۔
ختم شد

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال