#4b3621 #351E10 #FFFFF3 #2B1700

ہماری فضیلت اور غیروں کی اذیت از اکرام زخمی ندوی

📖 0

ہماری فضیلت اور غیروں کی اذیت
اکرام زخمی ندوی
حامدًا و مصلیاً، امّا بعد!
تلوار بنی بدر میں بے جان سی ٹہنی
لکڑی سے صحابہ نے عجب کام لیا ہے
کعبے کی حفاظت کے لیے میرے خدا نے
چھوٹے سے پرندے سے بڑا کام لیا ہے
محترم سامعین!
```ہم اس عظیم باپ کے بیٹے اور اس عظیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اور وارث ہیں جس نے دنیا کو جینے کا ڈھنگ سکھایا۔ ہماری فضیلت کا معیار مال و دولت یا رنگ و نسل نہیں، بلکہ ہمارا ایمان اور کردار ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی باطل نے ہمیں مٹانے کی کوشش کی، اللہ نے غیب سے ہماری مدد فرمائی۔ چاہے وہ ابابیلوں کے ذریعے ہاتھی والوں کی تباہی ہو یا میدانِ بدر میں لکڑی کی ٹہنیوں کا تلوار بن جانا ہو
محترم سامعین
ہماری فضیلت یہ ہے کہ ہم ہر چیز سے نمایاں۔ ہمارا کردار سب سے الگ۔ ہماری پہچان جدا جدا۔ہم یہ تھے کہ سمندر ہمیں راستہ دیتا تھا، درندے ایک پکار پر جنگل کے جنگل خالی کر دیتے تھے،ہمارے اندر جواں مردی تھی، بے باکی تھی۔ عزم استقلال کے پہاڑ تھے، طوفان کا رخ بدل دینا۔سمندر میں کود پڑنا ہمارے لیےآسان تھا، "ہماری وہ تہذیب، وہ تمدن... جو کبھی پوری دنیا کے لیے روشنی کا ایک بلند مینارہ تھا!" ۔۔۔
مگر یہ قوم خود اپنے ہاتھوں سے اپنے پیر پر کلہاڑی مار دی``` ؟
ہماری فضیلت گھٹتی گئی اور غیروں کی اذیت بڑھتی گئی
```ہم جو کہ ساری انسانیت کے لیے نجات دہندہ بن کر آ ئے تھے، آج خود کسی نجات دہندہ کی انتظار میں ہے،جن کے کندھوں پر مشرق و مغرب کے تمام انسانوں کی رہنمائی کا گراں بار کا فریضہ رکھا گیا تھا، آج وہ رہنمائی کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہےہیں، جن کے چرواہے بھی امام ہوتے تھے، ان کے امام بھی امام نہیں رہے``` ، ہمارے دلوں سے علماء کی اہمیت گھٹتی گئی غیروں کی اذیت بڑھتی گئی۔
```نبیوں کی سیرت ہم چھوڑتے گئے، " شیطان کی صحبت میں مبتلا ہوتے گئے۔" قران و حدیث چھوڑتے گئے، ہم دنیا کے لہو و لعب میں لگ گئے اور اپنی اصل پہچان کھو بیٹھے، آج یہ عالم ہے کہ جدھر دیکھیں مسلمان پریشان نظر آرہے ہیں``` ، ```_ہندوستان کے کسی خطے پر جب کوئی دہشتگردانہ حملہ درپیش آ تا ہے تو مسلمانوں کا نام آ تا ہے، جب کہیں موبلنچنگ ہوتی ہے تو مسلمانوں کا نام آتا ہے، جب کہیں وحشیانہ زنا جیسے بدترین کار انجام دیے جاتے ہیں تو مسلمانوں کا نام آتاہے، اور نہ جانے کیسے کیسے القاب سے مسلمانوں کو پکارا جاتا ہیں کہیں تھوک جہاد کے نام سے پکارا جاتا ہے، کہیں لو جہاد کے نام سے پکارا جاتا ہے، کہیں آتنگواد کے نام سے پکارا جاتا ہے، کہیں پنچر بنانے والے کے نام سے پکارا جاتا ہے،کہیں کٹ مُلّے کے نام سے پکارا جاتا ہے، اخر کیوں وہ اس لیے کہ ہم اپنے دین سے دور ہو چکے ہیں شیطان کی صحبت کو اپنا چکے ہیں ۔اتحاد و اتفاق کا سبق اپنے دل سے بھلا بیٹھے ہیں،افسوس کہ ہم باہمی اخوت و محبت کا وہ عظیم سرمایہ کھو بیٹھے ہیں۔``
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

1 تبصرے

جدید تر اس سے پرانی

Qirtaas Publications

From Manuscript to Masterpiece!

A complete Literary Community

Read • Learn • Write • Publish

نموذج الاتصال